Header Ads

Breaking News
recent

مانس جزیرہ، آسٹریلیا کا گوانتانامو

اگر آپ کشتی کے ذریعے آسٹریلیا آنے کے خواہش مند ہیں تو یہ ذہن میں رکھیے کہ آپ کو آسٹریلیا کے بجائے پاپوا نیوگنی پہنچا دیا جائے گاـ
جی یہ آسٹریلیا میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے آسٹریلوی حکومت کے پیغام کا لبِ لباب ہے۔

آپ شاہد دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ملک میں نئی زندگی کے آغاز کے خوشامند ہوں لیکن آپ پہنچ جائیں گے دنیا کے ایک غریب ترین ملک میں۔
پاپوا نیو گنی کا مانس جزیرہ وہ جگہ ہے جسے آسٹریلیا دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قائم کیے جانے والے حراستی مراکز میں سے ایک مانس جزیرے پر واقع ہے جہاں تقریباً ایک ہزار افراد کو قید کر کے رکھا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اسے بحرالکاہل کا گوانتانامو کہتے ہیں۔

ہم آسٹریلوی حکام سے اپنا کیمرہ چھپا کر اس مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔صحافیوں کے لیے اس جزیرے پر جانے کے لیے ویزہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی لیے ہم سیاحوں کا رو پ دھار کر وہاں گئے۔
ہمیں وہاں پناہ کے متلاشی افراد حراستی مرکز کی باڑ کے ساتھ منہ جوڑے نظر آئے اور ان میں سے کچھ مانس جزیرے پر گزشتہ دو سالوں سے قید ہیں۔
ان میں سے اکثر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے اور یہ لوگ اپنے ممالک میں جاری جنگوں اور در پیش دیگرمسائل کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر آئے ہیں لیکن یہاں پر انھیں بظاہر غیر معینہ قید کا سامنا ہے۔

مانس جزیرے پر قائم اس حراستی مرکز میں حالات گزشتہ ایک برس سے کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں پر کئی بار فسادات پھوٹ چکے ہیں جن کے نتیجے میں ایک ایرانی شہری کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
سینکڑوں افراد بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں اور کچھ نے تو احتجاجاً اپنے ہونٹ بھی سی لیے تھے۔
اطلات کے مطابق ایک شخص تو اتنا تنگ آگیا تھا کہ اس نے بلیڈ نگل لیے تھے۔
یہاں پر قید لوگ بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔

لیکن ہم مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص احمد (حفاظت کے پیشِ نظر نام مخفی رکھا جارہا ہے) سے بات کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے اس مرکز میں اٹھارہ ماہ تک اسیر رکھنے کے بعد حکام نے مانس جزیرے پر ہی قائم ایک اور جیل جہاں پر قید افراد کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہے منتقل کر دیا تھا۔

ہم سے بات کرتے ہوئے احمد کا کہنا تھا کہ ’ قید میں میری حالت بہت بری تھی، ایک چھوٹے سے کمرے میں چار افراد کو رکھا گیا تھا، یہ زیادتی ہے۔
آسٹریلوی حکومت انسانی حقوق کی خلاف وزی کی مرتکب ہو رہی ہے اور ہمارے بارے میں اس کی کوئی واضع پالیسی نہیں ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ’ اگر میں واپس گیا تو وہ مجھے مار دیں گے۔

احمد اپنا گھر بار خاندان سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
’میری صرف ایک بہن ہے جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے میرے والدین بھی بہت عزیز ہیں اور ان حالات میں اپنے خاندان کے بغیر یہاں رہنا بہت مشکل ہے پر کیا کروں میرے پاس اور کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں اپنی زندگی کا آغاز کرنا چا رہا ہوں حقیقی زندگی کا۔‘

احمد کا شمار ان درجن بھر پناہ کے متلاشی افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے مانس جزیرے پر آباد ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
اس بنیاد پر وہ حراستی مرکز سے نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اس کے حالات میں زیادہ بہتری نہیں آئی ہے۔
وہ اب سخت حفاظتی پہرے میں قائم کیے گئے دوبارہ آباد کاری کے مرکز میں رہتے ہیں۔
انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ صبح چھ سے شام چھ تک ہی مرکز سے با ہر نکل سکتا ہے۔

سنہ 2013 میں آسٹریلوی حکومت نے پاپوانیوگنی سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت پاپوا نیو گنی کو پناہ کے متلاشی افراد کے لیے حراستی مرکز بنانے اور انھیں اپنے ملک میں میں آباد کرنے پر آسٹریلیا کی جانب سے30 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔
یہ ایک واضع پیغام تھا کہ آسٹریلیا آنے کے خواہشمند پناہ کے متلاشی افراد کو پاپوانیوگنی میں ہی آباد کیا جائے گا۔

آسٹریلوی حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنے کی کوشش کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس خطرناک سفر کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں بھی کمی آے گی۔
یہ حکمتِ عملی کافی کامیاب رہی کیونکہ سنہ 2013 تک ہزاروں افراد یہ سفر کر رہے تھے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں اموات بھی ہوئی تھیں لیکن دو سال بعد ا ب یہ سفر اختیار کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
دوسری جانب مانس جزیرے پر بسنے والے افراد کا اس بارے میں ملا جلا ردِعمل ہے۔

حراستی مراکز میں مقامی لوگوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں ملی ہیں جس پر کچھ لوگ خوش بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ایک مقامی رہنما کا کہنا ہے کہ ’ اگرچہ نوکریاں جزیرے کے لوگوں کو مل رہی ہیں لیکن بڑے ٹھیکے صرف آسٹریلوی کمپنیوں کو ہی ملتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہے کہ جیسے ایک ہاتھ سے دینا اور دوسرے سے واپس لے لینا۔
ایک بات تو واضع ہے کہ اس حکمتِ عملی نے آسٹریلیا آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کا مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ یورپ کو بھی ایسی ہی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے اگر وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمں نے آسٹریلوی اقدامات کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے تو مانس جزیرے پر حراستی مراکز میں لوگوں کو قید کرنے کو تشدد کے مترادف قرار دیا ہے۔ان سب باتوں سے قطہ نظر ایک چیز واضع ہے کہ جزیرے پر قید لوگوں کا مستقبل انتہائی تاریک ہے۔

جان ڈانیسن
 بی بی سی ، پاپوا نیو گنی




.

No comments:

Powered by Blogger.