Header Ads

Breaking News
recent

’پہلے حکومت نے قبول کیا اب نہیں کر رہی‘

’عید آ رہی ہے لیکن ہم ارکان نہیں جا سکتے، ہم اور کتنے دن اپنے وطن سے دور رہیں گے۔
ارکان آباد کراچی میں اپنے آباؤ اجداد کے دیس برما سے کئی سو کلو میٹر دور ایک روہنجیا نوجوان نے جب یہ سطور اپنی مادری زبان میں ترنم کے ساتھ گائیں تو کئی دیگر نوجوان اس کے گرد جمع ہوگئے۔

آزاد اور بے فکر ان روہنجیا نوجوانوں اور بچوں کو یہ اندازہ نہیں کہ ان کے بزرگ کن مشکلات کا سامنا کرتے اور چھپتے چھپاتے کراچی پہنچے۔
ایک بزرگ اظہر میاں اور ان کی بیوی اب چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ سنہ 1990 میں وہ چار بچوں کے ہمراہ اپنے دیس کو خیرباد کہہ کر نکل پڑے تھے۔
اس دشوار گزار اور پیچیدہ سفر کے دوران ان کے بڑے بیٹے زاہد اللہ کی عمر 18 برس تھی جن کو یہ کٹھن سفر اب بھی یاد ہے۔

’ہماری زمینوں پر قبضہ ہوگیا جس کے بعد میرے والد چھپ کر بنگلہ دیش آگئے، جہاں سے کچھ پیسے دیکر ایجنٹ کی مدد سے بھارت پہنچے اور وہاں ایک سال رہے جس کے بعد پاکستان میں داخل ہوگئے۔‘اس دشوار گزار اور پچیدہ سفر کے دوران ان کے بڑے بیٹے زاہد اللہ کی عمر 18 برس تھی جن کو یہ کٹھن سفر اب بھی یاد ہے

زاہد کے مطابق اس دوران وہ بھوکے اور پیاسے بھی رہے کئی بار تو بھیک مانگنا پڑی۔
زاہد اللہ چمڑی کی فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا 100 گز پر اپنا پکا مکان ہے جس میں وہ بیوی، دو بچوں اور چار بھائیوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ارکان آباد اور برمی کالونی سمیت کئی علاقوں میں روہنجیا برادری مقامی آبادی کے ساتھ رہتی ہے، اس کے برعکس بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں انھیں کیمپوں تک محدود رکھا گیا ہے۔

  روہنجیا کمیونٹی کا بذریعہ بھارت پاکستان آمد کا سلسلہ جاری رہا لیکن بنگلہ دیش میں سرحدی سختیوں نے اب یہ سفر ناممکن بنادیا۔

پاکستان سے روہنجیا بنگلادیش، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں اپنی برادری کی مدد کے لیے جاتے رہے ہیں۔ غیاث الدین کی پیدائش کراچی کی ہے لیکن وہ رضاکارانہ طور پر ملائیشیا میں بھی روہنجیا کمیونٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔
غیاث الدین نے بتایا کہ’برما سے روہنجیا اپنی جان بچانے کے لیے کسی پڑوسی ملک جانا چاہتے ہیں۔ اب بنگلہ دیش نے سرحد پر فوج تعینات کر دی ہے، جس کی وجہ سے اب یہ کشیتوں میں سوار ہوکر تھائی لینڈ اور وہاں سے ملائیشیا جاتے ہیں۔ انسانی اسمگلر بھی بدھ مت ہیں اور وہ انھیں بیچ سمندر میں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

کبیر احمد روہنگایا سنہ 1972 میں پاکستان آئے اور سنہ 1973 میں ان کا شناختی کارڈ بھی بن گیا تھا۔ سبز پاسپورٹ پر وہ سعودی عرب گئے جہاں کچھ عرصہ ملازمت بھی کی لیکن اب انھیں شناختی کارڈ نہیں دیا جا رہا۔
’اب جو کمپیوٹرآئزڈ کارڈ آیا ہے وہ نہیں دے رہے، اس کے لیے رشوت مانگتے ہے میں پیسے کہاں سے دوں۔ پہلے تو حکومت نے ہمیں قبول کیا اب قبول نہیں کر رہے۔‘
روہنجیا کمیونٹی کے مذہب کی طرف غیر معمولی رجحان نے انھیں مذہبی تنظیموں کے قریب کر دیا ہے، ان تنظیموں کو وہ اپنا مددگار اور محافظ سمجھتے ہیں۔ ارکان آباد اور برمی کالونی کی دیواریں مذہبی اور شدت پسند تنظیموں کی چاکنگ سے بھری ہیں جبکہ سکول کے بجائے مدارس کی بڑی تعداد بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ 

ان کی برادری کا ہر بالغ فرد محنت مزدوری سے جڑا ہے، اس میں صنفی تفریق نہیں۔ پھر چاہے گھر میں قالین سازی ہو، ٹیکسٹائل صنعت میں ملازمت ، ماہی گیری یا اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ہر کوئی اپنی قابلیت کے مطابق وابستہ تھا۔
روہنجیا برادری کے رہنما نور حسن ارکان کا کہنا ہے کہ ’وہ برما میں اپنے رشتے داروں کی حسب توفیق مدد کرتے ہیں۔ زکوٰۃ ، فطرانہ اور قربانی کی کھالوں کے جو پیسے جمع ہوتے ہیں وہ برما کے مستحقین میں تقسیم کیے جاتے ہیں اور یہ بینک کے ذریعے ممکن نہیں۔ اس لیے ہنڈی اور حوالہ کا غیر قانونی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

کراچی میں غیر قانونی تارکین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ رجسٹریشن کے ادارے نادرا کا کہنا ہے کہ روہنجیا مسلمانوں کی تعداد چار اور پانچ لاکھ کے درمیان ہے جبکہ روہنجیا کمیونٹی کا خیال ہے کہ یہ تعداد تین لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔

افغان پناہ گزینوں کی طرح اب روہنجیا بھی پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور یہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں۔

بشکریہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.