Header Ads

Breaking News
recent

دو آنسو وحید الرحمن کے لیے...


مغرب کا وقت ہوچکا۔ فیڈرل بی ایریا کے یاسین آباد قبرستان میں ڈاکٹر وحید الرحمن کی تدفین ہوچکی۔ خرم کی آواز گونج رہی ہے، سب اپنے گھروں کو چلے جائیں گے، وحید کی بیوہ اور دو بچیوں کو کون یاد رکھے گا؟ ثناء اپنے باپ کی قمیض گلے لگائے ہر ایک سے ڈر کر کہہ رہی تھی کہ اس کو بھی بابا کے ساتھ چلنا ہے۔ وہ اپنے باپ کی موت کی خبرکو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وحیدکی بیوہ ہاتھ جوڑکر استدعا کررہی ہے کہ سر یاسر کو بلا لیجیے۔کراچی میں قتل ہونے والے اساتذہ کی تعداد 10 کے قریب پہنچ گئی۔ ڈاکٹر وحید الرحمن کے قتل کی صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ،آصف علی زرداری اور الطاف حسین سمیت سب نے مذمت کی۔

پولیس والے اس کیس میں خاصے سرگرم ہیں۔ سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار جن میں خواتین بھی شامل ہیں، وحید الرحمن کے گھر کا چکر لگا رہے ہیں۔ ایک مرد اورخاتون تو دو دن سے صبح سے شام تک گھر میں موجود ہیں۔ پولیس کی ایک ٹیم نے ایک افسرکی قیادت میں کراچی یونیورسٹی کا دورہ کیا ہے۔ وائس چانسلر، افسران اور اساتذہ کے انٹرویوکیے ہیں۔ وحید کے گھر پر موجود اہلکار سے ہر تعزیت کے لیے آنے والا شخص سے پوچھ رہے ہیں کہ قاتل کون ہے تو پولیس افسران کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد قاتلوں تک پہنچ جائیں گے مگر ایک اہلکار نے یہ سب کے سامنے کہا کہ نیا نیا معاملہ ہے کل کو کوئی دوسرا کیس ہوگا تو وحید الرحمن کے قتل کا معاملہ فائلوں میں دب جائے گا۔

ڈاکٹر وحید الرحمن ایک محنتی اور ایماندار شخص تھے، ان کے والد کا کم عمری میں انتقال ہوگیا۔ وحید الرحمن نے انتہائی محنت سے کام کر کے تعلیم حاصل کی۔ اردوکالج سے ابلاغِ عامہ میں ایم اے کیا اور سندھی زبان کی پہلی خبررساں ایجنسی میں رپورٹر کی حیثیت سے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ چند مہینوں میں راولپنڈی سے شایع ہونے والے اخبار کے رپورٹر ہوگئے۔کراچی کے ایک روزنامے میں ملازمت کرلی۔ مختصر مدت میں اپنے ساتھی رپورٹروں میں مقبول ہوگئے اور ایک ایسے رپورٹر کی حیثیت سے مشہور ہوگئے جس کے پاس خبرکے بہت سے مستند ذرایع تھے۔

اردو یونیورسٹی میں تدریس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دن رات رپورٹنگ کی مصروفیات کے ساتھ تحقیق شروع کی اور معروف اسکالر ڈاکٹر شکیل اوج کی زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا۔ اردو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئے۔ کراچی یونیورسٹی نے بلالیا۔ ڈاکٹر وحید الرحمن نے اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کی ترقی میں بنیادی کردار یوں ادا کیا کہ تعلیمی منصوبے پر بین الاقومی کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لیے ان تھک محنت کی۔ اپنی رپورٹنگ کے دور کے تعلقات کو استعمال کیا مگر کبھی سامنے نہیں آئے۔

شعبہ میں ہونے والی پانچ بین الاقوامی کانفرنسوں میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر وحید الرحمن کا تھا مگر ہر کانفرنس کے آخری سیشن میں لاپتہ ہوجاتے۔ ڈاکٹر وحید طالب علموں کی ہر دلعزیز شخصیت تھے مگر کبھی کسی تنازعہ میں نہیں پڑے۔ کبھی کسی اسکینڈل کا شکار نہیں ہوئے۔ انھوں نے ہر ایک کی مدد کی کوشش کی مگر پھر وہ ٹارگٹ کلر کی فہرست میں آگئے۔ ڈاکٹر وحید الرحمن سے پہلے ڈاکٹر شکیل اوج گزشتہ سال کراچی کی معروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر نامعلوم قاتلوں کی ایک گولیوں کا نشانہ بنے۔

گزشتہ سال مقامی کالج کے پروفیسر سبطِ جعفر کو بھی لیاقت آباد میں دوپہر کے وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹر حیدر رضا کو اپنے میڈیکل کالج کے قریب نشانہ لگا کر قتل کردیے گئے۔ کراچی یونیورسٹی میڈیسن کے ڈین کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے قریب ٹارگٹ کلر کا ہدف بنے۔ پروفیسر تقی ہادی بھی اسی طرح قتل ہوئے۔ اس سے پہلے گجرات یونیورسٹی کے پروفیسر شیر شاہ کو نامعلوم افراد نے اسی طرح قتل کیا تھا۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی تاریخ پرانی ہے۔
گزشتہ صدی کے آخری عشرے کے آخری برسوں میں پہلے ڈاکٹروں اور پھر وکلاء اور پولیس افسروں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔

 پہلے صرف ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل قتل ہوتے تھے مگر اب اس سلسلے کا دائرہ پھیل گیا۔ بغیر امتیاز کے ڈاکٹرز، انجینئرز، خواتین، وکلاء اور پولیس افسران قتل ہونے لگے۔ اب اساتذہ کا نمبر آگیا۔ اساتذہ کو نشانہ بنانے کے بارے میں بہت سے مفروضات بیان کیے جارہے ہیں۔ ایک مفروضہ تو یہ بھی ہے کہ جن اداروں سے ان کا تعلق ہے وہاں کے معاملات وجہ بنتے ہیں، دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ فرقے اور خیالات کی بناء پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید ایک اور مفروضہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قریبی تعلق رکھنے والے صحافی بیان کرتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتیں کراچی میں افرا تفری پھیلانے کے لیے اپنی ایجنسیوں کے ذریعے اساتذہ اور پروفیشنلز کو قتل کر رہی ہیں۔ راؤ انوار بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ان معاملات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں مگر ان تمام مفروضات میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر ایک بات ثابت ہوگئی کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعوے محض دعوے ہی رہے۔

ایک دفعہ پھر ثابت ہوتا ہے کہ پولیس کا نظام منظم نہیں ہوسکا۔ پولیس افسران اور عملہ پرانی ڈگر پر ہی کام کررہا ہے۔ پولیس کی مدد کرنے والا انٹیلی جنس نیٹ ورک ناکارہ ہوچکا ہے۔ پولیس کی تنظیم دہشت گردی کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہی صورتحال رینجرز اور اس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس سیاسی بھرتیوں ، سفارش کی بناء پر تقرریوں اور تبادلوں اور نااہل افراد کو اہم ذمے داری دینے کی بناء پر عرصہ دراز سے غیر مؤثر ہے۔

اسی طرح رینجرز اور ان کا نیٹ ورک کراچی کے کلچر اور سیاسی رویوں سے آگاہی نہ ہونے کی بناء پر بہت زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کرپا رہا۔ پھر سیاسی قیادت کی ترجیحات میں فرق کراچی میں کامیاب آپریشن میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ شہری امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے میں پولیس ہی بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے۔ وفاقی ایجنسیاں پولیس کی مدد کرنے اور انٹیلی جنس انفارمیشن کے تبادلوں کے ذریعے دہشت گردوں کا قلع قمع کرسکتی ہیں مگر نیشنل ایکشن پلان کے اعلان کے ساتھ ہی جن ترجیحات کا اعلان کیا گیا تھا ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ عملدرآمد نہ ہونے میں وفاق اور حکومتِ سندھ برابر کی شریک ہیں۔ پھر ملک بھر میں اسلحے پر پابندی، اسلحے کی ترسیل اور اسلحے کے اسمگلروں کی گرفتاریوں کا معاملہ کاغذوں تک ہی محددو رہا۔

وزیر اعظم محض یہ دعویٰ کر کے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی ہوئی ہے حقائق کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔ استاد کا قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ کئی نسلوں کا قتل ہے۔ استاد طویل محنت کے بعد تیار ہوتا ہے۔ چند لمحوں میں اس کی موت علم کے پھیلاؤ کو روک دیتی ہے۔ ڈاکٹر وحید کا قتل کئی نسلوں کا قتل ہے مگر کیا خرم کی بات درست ہے کہ سب لوگ گھروں کو چلے    جائیں گے اور

ڈاکٹر توصیف احمد خان
 

No comments:

Powered by Blogger.