Header Ads

Breaking News
recent

سب پر شبہ کرنا پڑے گا....وسعت اللہ خان

یہ تو بہت اچھا ہوگیا کہ اصل مجرم کی تشخیص ہوگئی اور فوجی قیادت، کلیدی انٹیلی جنس ایجنسیاں، شریف حکومت اور پاکستانی دفترِ خارجہ کم ازکم اس پر باہم متفق ہو گئے کہ کراچی اور بلوچستان سمیت ملک میں دہشت گردی کی تازہ شدت کی ذمہ دار بھارتی انٹیلی جینس ایجنسی ’را‘ ہے۔

فوری سبب پاکستان چائنا اکنامک کوریڈور ہے جس سے بہت سوں کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں، لہٰذا اب بیرونی ریشہ دوانیوں اور امن و امان کے مسئلے سے ترجیحاً نمٹا جائے گا اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا۔

ظاہر ہے را ہو یا کوئی اور ایسا ہی ادارہ، اسے تخریبی کارروائیاں منظم کرنے کے لیے ایک مقامی نیٹ ورک کی ضرورت پڑتی ہے تبھی تو اسے ’خفیہ ہاتھ‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا وہ کون سے مقامی افراد اور گروہ ہیں کہ جن پہ شبہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اگر واقعی امن و امان بہتر کرنا ہے تو پھر کچھ کو نہیں سب کو شبے کی سکریننگ سے گزرنا ہوگا۔ پھر ایسے فقرے کام نہیں آئیں گے کہ ’نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ فلانہ ایسی حرکت کرے۔‘ ’میں قسم کھا سکتا ہوں کہ اس کا یا اس کی تنظیم کا دور دور تک اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں۔‘ ’ارے پاگل ہوگئے ہو کیا؟ اس سے بڑھ کے تو کوئی محبِ وطن ہو ہی نہیں سکتا۔‘

میر جعفر کوئی بنگالی مچھیرا نہیں تھا نواب سراج الدولہ کا بازو تھا۔ میر صادق کوئی معمولی سپاہی نہیں فتح علی اور ٹیپو کا کمان دار تھا اور پورنیا کوئی معمولی پٹواری نہیں ٹیپو کا وزیرِ مال تھا۔ حکیم احسن اللہ خان کوئی جزوقتی دربان نہیں بہادر شاہ ظفر کا معالجِ خصوصی اور وزیرِ اعظم تھا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ مچھلی دم سے نہیں سر سے سڑنی شروع ہوتی ہے۔

یہ غیر معمولی لڑائی عوام کو اندھیرے میں رکھ کے نہیں لڑی جا سکتی ۔انھیں ثبوتوں کے ساتھ بتانا ہو گا کہ کون کون مقامی ہے جو غیرملکی کٹھ پتلی ہے۔ کن کن گروہوں کی پشت پناہ را ہے۔ کون سے افراد ’موساد‘ کے پے رول پر ہیں؟ کسے کسے ایرانی و سعودی و اماراتی نجی و سرکاری، خفیہ و اعلانیہ حمایت اور شہ حاصل ہے اور کون سی تنظیموں پر ’سی آئی اے‘ اور دیگر مغربی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔

یا کم ازکم ان افراد اور تنظیموں کی فہرست عام کرنی ہوگی جو دہشت گرد یا ان کے حمایتی تو ہیں مگر ان کا جزوقتی یا کل وقتی کنکشن کسی اندرونی و بیرونی ایجنسی سے نہیں۔

یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا کہ ایسے معاملات سڑک پر نہیں لائے جا سکتے کیونکہ نازک سفارتی مصلحتیں حائل ہیں۔ یا تو اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ لیں یا پھر سفارتی مصلحتیں نبھاتے پھریں۔

مگر ایسے معاملات میں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان خاصے باخبر اور دوٹوک ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تحریکِ طالبان ناراض اور بگڑے ہوئے بھائیوں کا بدظن گروہ ہے۔ اگر صفورہ گوٹھ میں بس کے اندر قتلِ عام کے بعد کوئی پمفلٹ برآمد ہو تو ضروری نہیں کہ اصلی ہی ہو ۔ویسے بھی پاکستان میں داعش کا اب تک کوئی وجود نہیں۔

جب تک اس ملک کی حقیقی مالک عسکری و سیاسی اشرافیہ پوری تصویر اس ملک کے علامتی مالکوں (عوام) کے سامنے نہیں رکھے گی تب تک کیسے پتہ چلے کہ عام و خاص آدمی کے بھیس میں کون کون ہے اور کیوں ہے؟ یہ تاثر کون زائل کرے گا کہ جو اینٹی سٹیٹس کو ہیں وہ غیرملکی ایجنٹ ہیں اور جو پروسٹیٹس کو ہیں وہ غیر ملکی ایجنٹ نہیں۔

یہ بھی خوب ہے کہ بقول ڈی ایس پی راؤ انوار ایم کیو ایم را کی ایجنٹ ہے اور اسی ایم کیو ایم کا نمائندہ وزیرِ اعظم کی زیرِصدارت سکیورٹی معاملات کے اجلاس میں بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں غیر ملکی ایجنسیوں کی فرنٹ کمپنیاں بھی ہیں اور وزیرِ اعلیٰ عبدالمالک کو یہ فریضہ بھی سونپا گیا ہے کہ وہ ان فرنٹ کمپنیوں سے رابطہ کریں۔

یہی تو وہ انٹیلی جینس، معاف کیجیے گا انٹیلی جینٹ ادائیں ہیں جن پر ایک دنیا مر مٹی ہے۔

(ایک موقر پاکستانی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز اسلام آباد کے تجزیہ کار کے مطابق پچھلے دس ماہ میں سکیورٹی ایجنسیوں نے قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر ملک بھر میں دس ہزار آپریشن کیے۔

مارچ سنہ 2015 میں پاکستان میں 60 دہشت گرد کارروائیاں ہوئیں مگر اپریل میں 50 ہوئیں جبکہ بلوچستان میں فروری میں 37، مارچ میں 24 اور اپریل میں 14 دہشت گرد حملے ہوئے۔

گویا مجموعی صورتِ حال قدرے بہتری کی جانب ہے اور اکنامک کوریڈور منصوبے کو ممکنہ خطرہ موومنٹ آف اسلامک ازبکستان، ترکمانستان اسلامک پارٹی، ٹی ٹی پی، دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے ہے جبکہ سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے سمجھوتے پر باضابطہ دستخطوں کے بعد پاکستان میں غیر ملکی مدد سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ کسے مانوں کسے نہ مانوں)۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام 

No comments:

Powered by Blogger.