Header Ads

Breaking News
recent

ہماری یہ غیر ملکی امدادیں....

 وزارت خزانہ کے متعلقہ سیکشن افسر (اس کلیدی عہدے کو غالباً اب کوئی اور نام دیا گیا ہے) کے دفتر میں اگر کوئی جگر سوزی اور مغز ماری سے کام لینے کا حوصلہ کرے تو شاید وہ پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد کی میزان کر سکے جو اربوں کھربوں میں ہو گی اور یہ پتہ لگانا تو شاید ممکن ہی نہ ہو کہ یہ امداد کہاں گئی یعنی کتنی پاکستان کی سرزمین پر موجود کسی منصوبے پر صرف کی گئی اور کتنی سرکاری جیبوں میں غائب ہو گئی۔یعنی یہ غیر ملکی امداد پاکستان اور پاکستانیوں کے درمیان کتنی کتنی تقسیم کی گئی۔ یہ بیرونی امداد تازہ ترین بیرونی امداد کے چینی اعلان سے یاد آئی ہے جو کھربوں روپوں کی بنتی ہے اور نہ جانے کتنی جیبوں کے منہ کشادہ کیے جا رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا بس یونہی سا ایک خیال ہے کہ یہ امداد ہم پاکستانیوں کو نقد نہ دی جائے یعنی ان کے ہاتھ میں نہ دے دی جائے بلکہ امداد دینے والے خود اسے خرچ بھی کریں اگرچہ ہمیں امداد دینے والے بھی کسی قدر مشتبہ لوگ ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ان سے ریلوے کے کچھ انجن خریدے تھے جو ناقص نکلے اور ہماری ریلوں کو کھینچ نہ سکے لیکن ان کا مقامی احتساب کا نظام ذرا سخت ہے اس لیے ان کے اور ہمارے درمیان فرق واضح ہے اور اسی فرق کو ہم اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت ہے نہ کمیونزم ہے نہ اسلام ہے اس لیے جمہوریت کی برکات سے بچنے کے لیے ہم فی الحال بے خدا کمیونزم سے ہی مدد حاصل کرنی چاہتے ہیں۔ہمیں خبروں اور تبصروں میں بتایا جا رہا ہے کہ جیسے ہم اس چینی امداد کے صرف اعلان سے ہی ترقی یافتہ ہو گئے ہیں اور جب ہم اس امداد کو اپنے اوپر استعمال کریں گے تو نہ جانے ہم کیا سے کیا ہو جائیں گے۔ اصل مسئلہ اس امداد کے استعمال کا ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ ہم اس بیرونی امداد کو استعمال کرنے کے لیے کسی ملک سے انفرادی امداد حاصل کر لیں۔

ایسے کارکن اور ماہرین منگوا لیں جو ہماری اس بھاری بھر کم امداد کو مجوزہ منصوبوں پر اپنی نگرانی میں صرف کر دیں اور یہ نئے منصوبے لگا کر اپنی تنخواہ اور معاوضہ لے کر رخصت ہو جائیں۔ بات تو دل کو لگتی ہے یعنی پاکستانی دل کو لگتی ہے لیکن اس پر عمل ممکن نہیں کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت ہے اور جمہوریت میں کسی فرد واحد کی نہیں چلتی ایک ہجوم کی چلتی ہے اور ہجوم بھی وہ جو گنتی سے پورا ہوتا ہے وزن سے نہیں۔

اس بارے میں ہمارے شاعر یہ کہہ گئے ہیں کہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو تولا نہیں گنا کرتے ہیں۔ یعنی یہ دیکھے بغیر کہ ان کے دماغ میں کچھ ہے بھی یا نہیں بلکہ بذات خود دماغ بھی ہے یا نہیں۔ ہم ان دنوں گنے جانے والے ان دماغوں کے فیصلے دیکھ رہے ہیں اور ان کی جوابدہی کے لیے متعلقہ حکمرانوں کے ملکوں کے سفر کر رہے ہیں۔

حاضری دے رہے ہیں اور اپنے علاوہ دوسرے محکموں کے کلیدی لوگوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں لیکن گستاخی معاف ہم جن لوگوں کے ہاں جا کر اپنی صفائیاں دے رہے ہیں وہ بعض حوالوں اور واسطوں سے معزز ہیں لیکن ہم سے بڑے نہیں ہیں۔ ہم خود ہی ان سے چھوٹے بن گئے ہیں۔

میرے گھٹیا خیال میں کیونکہ یہ بات گھٹیا ہو گی کہ ہم مختلف اہم مقامات پر اپنے ایٹم بم کا نمونہ رکھ دیا کریں جسے ہمارے حکمران دیکھتے رہیں اور اپنے آپ کو چھوٹا محسوس نہ کریں حالانکہ ایسے اسلحے تب بڑے ہوتے ہیں جب ان کے مالک بھی بڑے ہوں۔ سوویت یونین والے نہ ہوں کہ ایک طرف بموں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں دوسری طرف درّے کی بنی ہوئی رائفل والے افغانی انھیں بھگا رہے ہوں اور اتنا بھگائیں کہ وہ روس سے ہی آگے کسی طرف نکل جائیں اور اپنا نام بھی بھول جائیں۔

سوویت یونین ماسکو کے کسی سرخ چوک میں اوندھے منہ پڑی ہو اور اس کو ماننے والے ہمارے پاکستانی قسم کے دانشور پہلے جہاز سے امریکا روانہ ہو گئے ہوں۔

بات یہ ہو رہی تھی کہ ہم اپنے غیر ملکی امداد والے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے لیے بھی غیر ملکی ماہرین کو زحمت دیں کہ وہ کرایہ لے کر ہمارے ہاں تشریف لائیں اور ہمارا کام کر جائیں کیونکہ ہم ایک جمہوری ملک ہیں جو مل جل کر باہمی مشورے سے ہی کوئی کام کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مشورہ عموماً پریشاں حال ہو جاتا ہے اس لیے ہم کسی کام کے لیے ماہرین بھی باہر سے بلوا لیں اور خود چارپائی پر رنگین کھیس بچھا کر اور تکیہ لگا کر حقے کے کش لیا کریں۔
ہم کئی دہائیوں سے اسی چارپائی پر اسی خسروانہ انداز میں دراز ہیں اور کشکول کو چمکا کر اپنے پاس رکھتے ہیں جو دے جائے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔ سعودی عرب ہمارا مہربان ملک ہے لیکن ہمارا مالک نہیں ہے دو مقامات مقدسہ کو چھوڑ کر جو ہر مسلمان کی ذمے داری ہیں سعودی عرب دوسروں کی طرح ایک عرب ملک ہے جس کے پاس تیل کے خزانے ہیں اور بس۔ حفاظت اتنی بھی نہیں کہ چند قبائلیوں کا قلع قمع کر سکیں ایک ہم ہیں کہ ان تمام حملوں کا نشانہ ہیں جو ایک باقاعدہ جنگ کے سوا ہو سکتے ہیں۔ اپنے باغی قبائلیوں کا اچھی طرح مکو ٹھپ رہے ہیں۔

دشمن کی تخریب کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کسی بڑی جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔ یوں ہم عرب ملکوں میں سے کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہم عزت دار عوام کا ملک ہیں اور اپنے حکمرانوں کو بھی عزت دار دیکھنا چاہتے ہیں۔ حرمین الشریفین کے لیے جو قربانی ہم دے سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔
اس کے لیے ہمیں نہ کسی کی اجازت کی ضرورت ہے نہ کسی مدد امداد کی۔ ہمارا تو ملک بنا ہی حرمین کے تقدس کے لیے ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس سرزمین پر پاکستان اور پاکستانیوں کا وجود ہی حرمین الشریفین کے گستاخوں کے لیے بہت ہے۔ ہمیں جو امداد ملتی ہے وہ انعام نہیں ہوتی۔ ہر ایک کی غرض وابستہ ہوتی ہے اور دوسری تمام باتیں ہماری نالائقی کی ہیں۔ کیا ہم کسی غیر ملکی مدد کے حقدار ہیں یہ سوال آپ خود سے پوچھ لیں۔

عبدالقادر حسن
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.