Header Ads

Breaking News
recent

موم بتی مارکہ کی بہتان تراشی....


کئی برس سے پاکستان میں ان این جی اوز کی چاندی ہے جو معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کے لئےکوشاں ہیں۔غیر ملکی سفارتخانے مختلف النوع آگہی مہمات (Awareness compaigns) کے لئےنہایت فراخدلی سے فنڈز مہیا کرتے ہیں ۔شعور و آگہی کے عنوان سے سرگرم ان این جی اوز کو سبق دیا جاتا ہے کہ غربت کے ماروں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے بجائے تواتر کے ساتھ یہ احساس دلایا جائے کہ تمہارا استحصال ہو رہا ہے۔علاج سے محروم افراد کی مدد کرنے کے بجائے انہیں یہ باور کرایا جائے کہ ان کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں۔جو طبقات ترقی کی منازل طے کرنے سے قاصر ہیں ،انہیں اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کی ترغیب دی جائے۔

برسہا برس کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں ہمارے ہاں بھی موم بتی مارکہ سول سوسائٹی نے جنم لیا ہے جسے پاکستان میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ۔پاکستان میں کتنے ہی بے گناہ افراد جیلوں میں سڑ رہے ہیں مگر ان کی محبت ایک سزا یافتہ قیدی شفقت کے لئےاُمڈ پڑتی ہے اور اسے کم سن قرار دلوانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اس موم بتی مارکہ سول سوسائٹی کو محض وہی ایشوز دکھائی دیتے ہیں ،جس سے پاکستان کی سبکی اور بدنامی کا سامان ہو سکے۔انہیں اندرون سندھ کی لاعلمی اور جہالت سے کوئی غرض و غایت نہیں مگر بلوچستان کے عوام کی محرومی و پسماندگی ہمیشہ سے ان کا محبوب و مرغوب موضوع رہا ہے کیونکہ اس پر انہیں فنڈز دینے والے غیر ملکی آقائوں سے شاباش موصول ہوتی ہے۔انہیں اس خبرمیں کوئی کشش نظر نہیں آتی کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 10000 بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔

چند روز قبل بلوچستان میں 20 بے گناہ مزدور مارے گئے تو ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی کیونکہ مارے جانے والے پنجابی تھے اور ان کے قتل کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے وصول کی۔ان کے ہاں صف ماتم تو تب بچھتی ہے جب کوئی بلوچ قتل ہو جائے۔ ایسا نہیں کہ انہیں بلوچوں سے انس ہے اور پنجابیوں سے ویر،معاملہ صرف اور صرف دھندے کا ہے ۔اب بھلا بلوچ لبریشن آرمی کی مذمت کر کے اور غریب مزدوروں کے لئے موم بتیاں جلا کر انہیں کیا ملے گا؟ یہ تو تب خوشی سے پھولے نہیں سماتے جب انہیں ریاست اور ریاستی اداروں کو رگیدنے کا کوئی سنہری موقع میسر آئے۔ انہیں جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ،محمود خان اچکزئی،افتخار چوہدری ،جمال شاہ،حصام قاضی، عابد علی، ایوب کھوسو اور ماہ نور بلوچ جیسے محب وطن ایک نہیں بھاتے کیونکہ حربیار اور براہمداغ ان کی آنکھ کا تارا ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ بلوچستان میں ریاست کو کس قدر گمبھیر ،گنجلک اور چومکھی لڑائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہیں تو بس کوئی جواز ،کوئی موقع چاہئے فوج اور آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرانے اور مطعون کرنے کا ۔

یقینا بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ بہت تشویشناک ہے اور میں خود کئی بار اس معاملے کی سنگینی کا تذکرہ کر چکا ہوں لیکن ہمارے ہاں ہر معاملے پر فوج اور آئی ایس آئی کو چارج شیٹ کرنا فیشن بن چکا ہے۔ بلوچستان کوماضی میں نظر انداز کیا گیا اور بلوچ سرداروں نے بھی دانستہ طور پر وہاں ترقی نہیں ہونے دی مگر اس اس بات کا پوری قوم کو ادراک ہے اور اس کا ازالہ کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ مگر اس موم بتی مارکہ نام نہاد سول سوسائٹی کا المیہ یہ ہے کہ انہیں جہاں کہیں کوئی من پسند لاش دکھائی دیتی ہے یہ اس کا خون چوسنے اور ہڈیاں نوچنے پہنچ جاتے ہیں۔ چند روز قبل کراچی میں انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن سبین محمود قتل ہوئیں تو بلا تحقیق و تفتیش اس موم بتی مارکہ نے خفیہ اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر اس زہریلے پروپیگنڈے کا آغاز ہوا مگر جلد ہی تمام چینلز نے بھی وہی لائن اختیار کر لی۔

سبین محمود نامی خاتون نے چند برس قبل کراچی میں میں گوشہ ء امن کے نام سے این جی او بنائی اور ایک فکری نشست کا اہتمام کیا۔ یہ ادبی بیٹھک طرز کا ایک ادارہ تھا جس میں مختلف موضوعات پر دانشورحضرات جمع ہوتے اور اس گوشہء عافیت میں اپنی بے لاگ آراء کا اظہار کرتے۔ جس دن یہاں اپنی آخری نشست سے فراغت پانے کے بعد سبین محمود اپنی والدہ کے ہمراہ گھر جاتے ہوئے قتل ہوئیں، اس دن ’’سیکنڈ فلور‘‘ میں ’’ان سائلنسنگ بلوچستان ٹیک ٹو‘‘ کے نام سے ایک نشست ہوئی جس میں وائس آف مسنگ پرسنز کے سربراہ ماما قدیر سمیت انسانی حقوق کے دیگر کارکنوں اور غیر ملکی نشریاتی ادارے کے صحافی نے شرکت کی۔

اس کا پس منظر یہ ہے کہ چند روز قبل لمز میں اسی عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کم وبیش انہیں شخصیات نے شرکت کرنا تھی مگر عین وقت پر سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر یہ پروگرام کینسل کر دیا گیا۔ اس وقت بھی ایک صحافی نے بلوچستان کے حوالے سے تمسخرانہ انداز میں ایک کالم لکھا اور جب سبین محمود قتل ہوئیں تو سب سے پہلے یہ تھیوری ان کی جانب سے پیش کی گئی کہ چونکہ اس نڈر خاتون نے لمز میں نہ ہوسکنے والی نشست کا اپنے ہاں اہتمام کرنے کی گستاخی کی اس لئےاسے قتل کر دیا گیا۔ لکھا گیا ’’سبین قتل ہوئی اس لئےکہ جب رفتہ رفتہ سب لائن پر آ رہے ہیں تو تو افلاطون کی بچی لائن سے باہر کیسے نکل رہی ہے؟لے اب گولی کھا۔‘‘ گویا اس تاویل کا مطلب یہ ہے کہ اس بند کمرے میں ہونے والی گفتگو اس قدر خوفناک تھی یا ماما قدیر کو مدعو کرنے کا جرم اس قدر سنگین نوعیت کا تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔

تکلف برطرف ،کتنے ہی اینکرز ماما قدیر کو اپنے پروگرام میں بلاتے ہیں ،کیا وہ سب قتل کردیئے جاتے ہیں؟اگر ٹی وی چینلز پر زہر اگلنے والے ناپسندیدہ افراد کو کچھ نہیں کہا جا تا تو ایک بند کمرے میں ہونے والی گفتگو پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟کیا کوئی خاتون عاصمہ جہانگیر سے بڑھ کر نڈر اور بے باک ہو سکتی ہیں؟اگر آج تک انہیں کسی نے انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا تو سبین محمود کو ٹارگٹ کرنے کی کیا منطق ہو سکتی ہے؟ فرزانہ باری،طاہرہ عبداللہ اور ان جیسی کتنی ہی خواتین انسانی حقوق کیے نام پر دل کی بھڑاس نکالتی رہتی ہیں مگر آج تک کسی نے انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچایا تو سبین محمود کو نشانہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اور مضحکہ خیز بات تو یہ ہے خفیہ اداروں نے ایک بے ضرر خاتون کو تو مار ڈالا کیونکہ اس نے ریاست کے ناپسندیدہ فرد ماما قدیر کو مدعو کیا مگر خود ماما قدیر آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں…؟؟

یعنی الزام لگانے والوں کے خیال میں یہ ادارے اس قدر احمق ہیں کہ بانس توڑنے کے بجائے بانسری بجائے جانے کا تدارک کر رہے ہیں۔اور آخری بات یہ کہ اگر ریاستی اداروں نے اپنے خلاف بولنے والوں کو ہمیشہ کے لئےخاموش ہی کرانا ہوتا تو پھر غیر ملکی نشریاتی ادارے کے ان چند لکھاریوں کو کھلی چھٹی کیوں دی جاتی جو پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کے لئےاُدھار کھائے بیٹھے ہیں؟ویسے پاکستانی صحافیوں پر قدغنوں اور غیر ملکی نشریاتی ادارے سے وابستہ افراد کوشتر بے مہار آزادی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں سگ آزاد ہیں اور سنگ مقید۔

محمد بلال غوری
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.