Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا ذمہ دار کون....


تحریک انصاف او ر ایم کیو ایم کے درمیان اگرچہ لفظوں کی جنگ الطاف حسین کی جانب سے معذرت کے بعد کچھ ٹھنڈی ہوگئی ہے لیکن دونوں اطراف سے جس تلخ لہجے میں ایک دوسرے کیخلاف اور بالخصوص عورتوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی اس کی کسی بھی طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی ۔بنیادی مسئلہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بنی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بلدیہ ٹائون میں ہونے والے واقعہ میں ایم کیو ایم کے لوگ براہ راست ملوث ہیں ۔ 

یہ وفاقی ایجنسیوں کے تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس ہیں جس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایم کیو ایم اس رپورٹ کیخلاف خود عدالت میں جاتی اور ثابت کرتی کہ یہ رپورٹ ان کے خلاف ہے اور اس واقعہ میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ۔ اس سے خود ایم کیو ایم کا فائدہ ہوتا او ران کو اپنے اوپر لگائے جانے والے الزام سے باہر نکلنے میں مدد ملتی ۔ لیکن جس انداز سے اس رپورٹ پر تحریک انصاف نے ردعمل دیا اور ایم کیو ایم کو آڑے ہاتھوں لے کر مطالبہ کیا اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف سخت کارروائی کی جائے بلکہ اس مقدمہ کو فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے۔ 

اس پر ایم کیو ایم کا ردعمل اور بالخصوص دھرنا سیاست میں ان کی عورتوں کے حوالے سے گفتگو نے عمران خان کو بھی غصے میں مبتلاکردیا ۔ ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد کی سیاست میں جماعت اسلامی کو اپنے خلاف ایک بڑی طاقت سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں جماعت اسلامی کو سیاسی راستہ دینے کیخلاف طاقت کا استعمال کرتی رہی ہے۔ایم کیو ایم کیخلاف ایک نئی طاقت کی آواز عمران خان اور تحریک انصاف کی صورت میں سامنے آئی تھی لیکن عمران خان تسلسل کے ساتھ ایم کیو ایم کیخلاف اپنی مزاحمت برقرار نہیں رکھ سکے ۔ ایم کیو ایم اور عمران خان کے درمیان نئی سیاسی سرد جنگ کا اہم نقطہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بنی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی ایک خاص منصوبہ کے تحت ہوئی او راس میں 250سے زیادہ افراد کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔

 لیکن جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ آگ فیکٹری مالک کی جانب سے سیاسی جماعت کو بھتہ نہ دینے کی صورت میں لگائی گئی اس رپورٹ کے آنے کے بعد ایم کیو ایم جو پہلے ہی کافی سیاسی عتاب کا شکار تھی ، اس کی سیاست مزید دبائوکا شکار ہوگئی ہے ۔ ایم کیو ایم او ر پیپلز پارٹی کے درمیان بھی کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی جنگ الطاف حسین اور بلاول بھٹو کے درمیان شروع ہوئی تھی لیکن آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سیاست کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کے خلاف سیز فائر کرنا پڑ ا ۔

 اس سیز فائر کا نتیجہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی ناراضگی کی صورت میں سامنے آیا ۔ اس سے قبل ہم ایم کیو ایم کے داخلی مسائل بھی دیکھ چکے ہیں جہاں وقفے وقفے سے الطاف حسین اپنی جماعت کے لوگوں پر برس پڑتے ہیں او رکئی بار انہوں نے جماعت کی قیادت سے دست برداری کا اعلان کیا لیکن ہر بار ان کے بقول وہ کارکنوں کی مزاحمت او ر محبت کے باعث قیادت سے دست برداری کا فیصلہ واپس لے رہے ہیں۔ الطاف حسین کئی بار فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف بولتے رہے ہیں ۔ سندھ کی سیاست میں ایک دفعہ پھر مفاہمت کی سیاست کا غلبہ ہے ۔ 

ایک طرف آصف علی زرداری ہر صورت میں ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں تودوسری طرف سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک نئی صف بندی کی جارہی ہے ۔ اس لیے آصف علی زرداری نے ایک طرف ایم کیو ایم کو ساتھ ملایا ہے تو دوسری طرف وہ نواز شریف کے ساتھ بھی مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔دراصل ایم کیو ایم کے خلاف جو نیا محاذ کھلا ہے اس کو ایم کیو ایم کی داخلی سیاست کے مسائل کے ساتھ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اصولی طور پر ایم کیو ایم سمیت سب اس بات پر متفق ہیں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا فیصلہ سامنے آنا چاہیے کہ یہ کس حد تک درست یا غلط ہے ۔

کیونکہ 250انسانی جانوں کے ضیاع کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ اس میں کون قصور وار ہے کیونکہ اگر ہم نے ان مجرموں کیخلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا تو مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس لیے اس واقعہ پر ایم کیو ایم کو بھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا کہ اس رپورٹ کی آزادانہ تحقیقات سب کیلئے ضروری ہیں ۔ اس کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے اور دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست سے باہر نکل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ 

یہ ذمہ داری ایجنسیوں کی بھی ہے کہ وہ ثابت کریں جس کا اظہاررپورٹس کی صورت میں سامنے آیاہے ، تاکہ خود اداروں کی اپنی ساکھ کو بھی نقصان نہ پہنچے اور یہ تاثر عام نہ ہو کہ اس رپورٹ میں کسی کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔ پنجاب کے سابق گورنر چودھری سرور جنہوںنے مسلم لیگ )ن(کی قیادت سے ناراضگی کے بعد گورنر شپ سے استعفیٰ دے دیا تھا ، اب وہ عملی طور پر سیاسی میدان میں کود پڑے ہیں ۔ ان کی نئی منزل تحریک انصاف ہے ۔ ان کی باقاعدہ شمولیت سے قبل ہی یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ وہ اگر کسی سیاسی جماعت کو جوائن کریں گے تو وہ تحریک انصاف ہی ہوگی ۔

 چودھری سرور پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ، اسی خواہش کے ساتھ وہ تحریک انصاف کا حصہ بنے ہیں ۔ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت سے خود تحریک انصاف کو خوب فائدہ ہوگا ۔ کیونکہ چودھری سرور پنجاب کی سیاست میں جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی کافی بہترہیں ۔ تحریک انصاف کو بھی پنجاب کی سیاست میں ایک بڑا نام درکار تھا اور چودھری سرور نے شامل ہوکر اس مسئلے کا حل نکال دیا ہے ۔ 

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ چودھری سرور کس حد تک باقی لوگوں کو اپنے ساتھ اور تحریک انصاف کے ساتھ ملانے میں کامیاب ہونگے ۔ کیونکہ اگر وہ ایک خاص تعداد کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کا فائدہ تحریک انصاف کو ضرور ہوگا ۔ حکمران جماعت مسلم لیگ کو یقینا چودھری سرور کے ایجنڈے سے خبردار رہنا ہوگا اور وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ پنجاب کی سیاست کے ماحول کو تبدیل کرسکیں ۔ جب انہوں نے پنجاب کی گورنر شپ سے استعفیٰ دیا تو اس وقت ہی ان کے سیاسی عزائم ظاہر ہوگئے تھے او رپریس کانفرنس میں انہوں نے عملی طور پر حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی تھی ۔

اب دیکھنا ہوگا کہ خود تحریک انصا ف میں چودھری سرور کو کیا پذیرائی ملتی ہے ، کیونکہ سب سے بڑا چیلنج چودھری سرور کو پارٹی کے اندر کے بحران کی صورت میں ملے گا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس بحران سے کس طرح سے نمٹیں گے اور پارٹی کیلئے کوئی بڑا کردار ادا کرسکیں گے ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت فیصلے کیے ہیں اور ان کے بقول اب وقت ہے کہ ہمیں کسی مصلحت کی بجائے بڑے فیصلے کرکے آگے بڑھنا ہوگا ۔

 وہ اس وقت پنجاب کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر خود سارے معاملات کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں ۔ایک طرف وہ دہشتگردی کے خاتمے میں مگن ہیں تو دوسری طرف ا ن کے بقول چنیوٹ میں دریافت ذخائر کے نمونوں میں 65فیصد اعلیٰ کوالٹی لوہے کی تصدیق ہوگئی ہے ۔ ان کے بقول اس منصوبے کی تکمیل سے معاشی ترقی کو فائدہ ہوگا اور صوبہ مزید ترقی کے عمل میں شامل ہوجائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی کمپنی پنجا ب میں ایل این جی پاور پراجیکٹ لگانے میں دلچسپی رکھتی ہے ۔

سلمان غنی

No comments:

Powered by Blogger.