Header Ads

Breaking News
recent

دینی مدارس:مسائل،اسباب اوراصلاحات...


مدارس میں اصلاحات کے حوالے سے ماضی میں متعدد کوششیں کی گئیں لیکن وہ کام یابی سے ہم کنار نہ ہو سکیں۔ حکومت مدارس کی اصلاحات کی طرف ایک بار پھر متوجہ ہوئی ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ قاری حنیف جالندھری کہتے ہیں، ’’قومی ایکشن پلان پرہمیں سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ اس میں تعلیمی ادارے کے بہ جائے مدارس کا لفظ شامل کر کے حکومت نے دینی مدارس کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت سے تین غلطیاں ہوئیں۔ 

مدارس کی رجسٹریشن کی بات کر کے حکومت نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مدارس رجسٹر ڈنہیں ہیں۔ حالاں کہ 2005 کے معاہدے کے تحت ہمارے مدارس رجسٹرڈہیں۔ہم مدارس کی نگرانی کے پرانے قوانین مانتے ہیں اس لیے نیا قانون لانے کی ضرورت نہیں تھی۔ مدارس کی فنڈنگ کے حوالے سے 2005 میں ہمارا حکومت سے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں یہ بات پہلے سے طے کر دی گئی ہے کہ مدارس اپنا آڈٹ کروا کر اس کی ایک کاپی ضلع کچہری میں جمع کروا ئیں گے۔ اس پر تمام مدارس عمل پیرا ہیں۔‘‘ مولانا حنیف جالندھری مدارس کی تعلیم سے مطمئن نظر آتے ہیں۔

 وہ کہتے ہیں ، ’’اگر ہم پاکستان کے آئین کے مطابق معاشرہ بنا لیں تو مدارس کا فارغ التحصیل ہمارے نظام کا بہترین پرزہ بن سکتا ہے۔ ‘‘ مذہبی امور کے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کہتے ہیں کہ مدارس کے منتظمین کی مشاورت سے سروے پر کام تیزی سے جاری ہے اور بہت جلدمدارس کے حوالے سے ایسا نظام تشکیل پا جائے گا، جس پر مدارس اور حکومت دونوں متفق ہوں گے۔ غیر رجسٹراور خفیہ طور پر چلائے جانے والے مدارس نے خود کو رجسٹر نہ کرایا تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ 

دینی مدارس اور طالب علموں کی تعداد دینی مدارس مسلکی بنیادوں پر 5 مدارس بورڈ سے وابستہ ہیں۔ ان میں وفاق المدارس العربیہ (دیوبندی) ، تنظیم المدارس (بریلوی) ، وفاق المدارس السلفیہ (اہل حدیث) رابطہ المدارس الاسلامی (جماعت اسلامی) اور وفاق المدارس الشیعہ (اہل تشیع) شامل ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2006 میں 13 ہزار مدرسے تھے ، جن کی تعداد اب دگنی ہوچکی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی تحقیقاتی اداروں، این جی اوز اور اخبار و رسائل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میںرجسٹر مدارس کی تعداد قریباً 30 ہزار ہے۔ جب کہ غیر رجسٹرر مدارس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے دینی مدارس میں داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کی تعداد میں اوسطاً 20 فی صد سے زائد اضافہ ہُواہے۔

 وفاق المدارس العربیہ پاکستان، رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان ’تنظیم المدارس پاکستان ‘ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے تحت ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے ،جب کہ پانچ ہزار سے زائد ایسے مدارس ہیں جو کسی بھی وفاقی بورڈ سے تعلق نہیں رکھتے بل کہ آزاد حیثیت سے کام کرتے ہیں، غیر رجسٹر مدارس اس کے علاوہ ہیں۔ مدارس کی طرح یہاں زیر تعلیم طالب علموں کی تعداد سے متعلق درست اعدادوشمار بھی دست یاب نہیں ہیں۔ مدارس میں اصلاحات کی کوششیں نوازشریف کے دورِ حکومت( 1998) میں ایک تعلیمی پالیسی متعارف کروائی گئی، جس میں مدارس کی اصلاحات بھی شامل تھیں ۔ 

پالیسی کا مقصد دینی مدارس اور روایتی تعلیمی اداروں کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا تھا ۔ 12 اکتوبر 1999 کو منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے باعث اس پالیسی پر عمل نہ ہوسکا۔ 2001 میں ایک آرڈیننس کے ذریعے’’ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ‘‘بنایا گیا لیکن حقیقی طور پر یہ بورڈ کبھی سامنے نہ آسکا۔ دوسری طرف وفاق المدارس العربیہ،تنظیم المدارس اور رابطہ المدارس نے حکومت کے تشکیل کردہ بورڈ میںیہ کہتے ہوئے شمولیت سے انکار کردیاکہ بورڈ میں مختلف مسالک کی نمایندگی موجود نہیں ہے۔ اگست 2009 میںپیپلز پارٹی کی حکومت نے اسلام آباد اور اس کے نزدیکی شہروں میں قائم مدارس کے لیے ایک سروے فارم کا اجراء کیا ۔ فارم کا مقصد مدارس سے متعلق مکمل کوائف جمع کرنا تھا۔

 لیکن دینی مدارس نے فارم کے کوائف غیر متعلقہ اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ 2010 کے اختتام پر وزارتِ داخلہ نے مْلک کے پانچ بڑے مدارس کے بورڈز پر مْشتمل’’ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان‘‘ (آئی ٹی ایم پی) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ، جس کے تحت مدارس کو مذہبی تعلیم کا نصاب ترتیب دینے میں خود مختاری دی گئی لیکن انہیں حکومت کے تجویز کردہ نصاب کے مطابق ریاضی، سائنس اور معاشرتی علوم کے مضامین کی تعلیم شروع کرنے کا بھی پابند بنایا گیا ۔اس معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مدارس کے مذہبی نصاب میں کیا کیا چیزیں شامل ہوں گی۔

شفیع موسیٰ منصوری

No comments:

Powered by Blogger.