Header Ads

Breaking News
recent

سچ کا قحط اور مافیاز کا راج....

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ضمیر کی آواز پر مستعفی ہونے کی روایت ناپید رہی ہے۔ اشرافیہ کے افراد مناصب کیلئے دین، ایمان، عزت اور وقار سب کچھ دائو پر لگادیتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی مفادات کے حریص اور اسیر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کا دین اور ایمان بھی پیسہ اور عہدہ ہوتا ہے۔ سرمایہ پرست معاشرے میں جب کوئی باضمیر انسان اپنے منصب سے مستعفی ہوتا ہے تو اسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر ہونا کوئی معمولی اعزاز نہیں ہے۔ سیلف میڈ انسان دوست شخصیت چوہدری محمد سرور نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑے منصب سے مستعفی ہوکر موجودہ استحصالی ریاستی نظام پر کاری ضرب لگائی ہے اور ان سیاسی جماعتوں اور گروپوں کو تقویت پہنچائی ہے جو سٹیٹس کو توڑنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ 

گورنر کا حلف اُٹھانے کے بعد چوہدری سرور سے ملاقات میں کہا’آپ نے اپنی طبعیت، مزاج اور وژن کے برعکس بڑے گھر کا قیدی بننے کا فیصلہ کیوں کرلیا‘۔ کہنے لگے کہ’ میاں صاحب سے گزارش کی تھی کہ مجھے ایسا رول دیا جائے جو نتیجہ خیز ہو۔‘ چوہدری سرور کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ شریف برادران نے انکو فری ہینڈ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پاکستان کے قومی لیڈر پنجاب کے معاملے میں بڑے حساس رہے ہیں۔ وہ اس سرزمین پر کسی ٹیلنٹڈ شخصیت کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیتے تاکہ وہ مستند قیادت کو چیلنج نہ کرنے لگے۔ چوہدری سرور نے پنجاب کے ہر گھر میں صاف پانی فراہم کرنے اور ہر پنجابی کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ چوہدری سرور سے استعفیٰ کے بعد ان کو فون پر آزادی کی مبارک دی۔ انہوں نے قہقہہ لگا یا، ایسے مطمئن تھے جیسے اپنے سر سے اذیت کا پہاڑ اُتار پھینکا ہو۔

چوہدری سرور نے مستعفی ہونے سے پہلے جو کلمہ حق کہا اسے حالات کی صدا اور تاریخ کی بانگ درا کہا جائے گا۔ چوہدری سرور نے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں کہا کہ پاکستان میں سچ کا قحط ہے اور مافیاز کا راج ہے۔ سیاسی کارکنوں سے غلاموں اور مزارعوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انصاف کمزور ہے۔ زنا بالجبر کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پانچ فیصد اقلیت نے اکثریت کے حقوق غصب کررکھے ہیں۔ سابق گورنر پنجاب کا بیان پنجاب حکومت کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے۔ بیگم سرور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انکے شوہر دردمند دل رکھتے ہیں اور وطن سے محبت کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ دونوں خوبیاں جرم ہیں، جس شخصیت میں یہ دو خوبیاں ہوں اس کو سولی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔

نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

قائداعظم نے سچ بول کر پاکستان حاصل کرلیا تھا اور ہم جھوٹ بول کر اسے برباد کرنے کے درپے ہیں۔ قیام پاکستان کے چند ماہ بعد جب قومی خزانے میں تنخواہیں ادا کرنے کیلئے پیسے نہ تھے تو بیوروکریسی نے مشورہ دیا کہ عوام کو یہ سچ نہ بتایا جائے۔ قائداعظم نے فرمایا عوام پاکستان کے مالک ہیں ان سے سچ نہ چھپائیں اور اعتماد میں لیں۔ محسن انسانیتﷺ نے سچ کے اصول پر ریاست مدینہ کو چلایا اور عالم عرب کو فتح کرلیا۔ہمارے ہاں سچ چونکہ حکمران اشرافیہ کی موت ہے اس لیے پاکستان میں سچ کا قحط ہے۔ سابق گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا گورنر سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ 

گویا ریاست بھی مافیاز کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ مافیاز کے راج کی تازہ مثال شوگر مافیا کی ہے۔ حکومت گنے کی قیمت مقرر کرتی ہے۔ عدلیہ بھی سرکاری قیمت پر گنا خریدنے کا حکم جاری کرتی ہے مگر شوگر ملز مالکان کارٹیل بنا کر (گٹھ جوڑ کرکے) کاشتکاروں کو اپنی مرضی کی قیمت پر گنا فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کاشتکار سڑکوںپر احتجاج کرتے ہیں اور انتظامیہ ان پر لاٹھی چارج کرتی ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت کم ہونے پر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرتی ہے مگر ٹرانسپورٹ مافیا کرایوں میں کمی نہیں کرتا۔ حکومت ناکام رہتی ہے۔

 پاکستان کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ایوان میں کہا تھا کہ پاکستان میں کارٹیلز موجود ہیں جو منصوبہ بندی کرکے عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ مسابقتی کمشن مسابقتی ایکٹ 2010ء پر عملدرآمد کرانے سے قاصر رہا ہے۔ اسحق ڈار کے مطابق بینکنگ، اکائونٹس، سٹاک ایکسچینج، شوگر، سیمنٹ، ٹیلی کام، پولٹری اور ککنگ آئیل کے شعبوں میں کارٹیل موجود ہیں جو آئین کے مطابق ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی بجائے گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں اور من مرضی کا منافع کماتے ہیں جن کی وجہ سے شہریوں کا کھلا استحصال ہورہا ہے۔ 

ریاست طاقت کے باوجود مافیاز کے سامنے بے بس ہے۔ اس بے بسی کی وجہ یہ ہے کہ جاگیردار، تاجر، صنعت کاراور انکے خاندان انتخابی سیاست پرقابض ہوچکے ہیں۔ وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے پارلیمنٹ میں پہنچ کر سیاسی طاقت پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ تاجر، صنعت کار اور ان کے قریبی عزیز وزارتوں پر براجمان ہوجاتے ہیں۔ بیوروکریسی پر بھی حکمران اشرافیہ کے عزیز و اقارب قابض ہیں۔ وہ تاجروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ عوام اس قدر کمزور ہیں کہ مافیاز کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ شوگر ملوں کے مالک خود ریاست کے اہم عہدوں پر فائز ہیں وہ کارٹیل کو کیسے توڑ سکتے ہیں۔ کارٹیلز کھلے عام عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ سیاستدانوں نے کارٹیلز کو توڑنا تھا مگر سیاسی کارٹیل وجود میں آچکا ہے۔

قیوم نظامی

No comments:

Powered by Blogger.