Header Ads

Breaking News
recent

کیا کشکولِ گدائی ٹوٹ جائے گا؟....

مجھے امید ہے میرے جیسے رومانوی دل و دماغ رکھنے والے پاکستانی اور بھی لاکھوں کروڑوں ہوں گے۔ آج بھی کئی بار تخیل کی پریاں آنکھوں کے دریچوں کی راہ دل میں اُتر کر تادیر قبضہ جمائے رکھتی ہیں۔سوچتا ہوں شائد ایسا کوئی لمحہ پاکستان کی تاریخ میں بھی آ جائے کہ جیسا 1930ء کے عشرے میں سعودی عرب میں تیل اور گیس کی دریافت کے دوران آیا تھا اور اس سے بھی پہلے ایران میں یہی کچھ ہو چکا تھا۔ سعودی عرب، ایران، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور لیبیا سب اسلامی ممالک ہیں اور تیل کی دولت سے مالامال ہیں۔

 تصور ہی تصور میں، میں پاکستان کو بھی اس فہرست میں ڈال دیتا ہوں۔ خیال کرتا ہوں کہ ایک سہانی صبح یہ نوید آئے گی کہ پاکستان کے فلاں علاقے میں تیل کے ذخائر دریافت ہو گئے ہیں جن میں اربوں بیرل تیل موجود ہے۔ لیکن افسوس کہ اتنا سوچنے کے بعد خواب ٹوٹ جاتا ہے اور اداسی چھانے لگتی ہے۔

پاکستان میں گوادر سے لے کر کراچی تک کانٹینینٹل شیلف (Continental Shelf) کا سینکڑوں میل کا علاقہ ہے۔ اس شیلف سے آگے پاکستان کا خصوصی اقتصادی زون (EEZ) ، 200سمندری میل تک بحیرۂ عرب میں پھیلا ہوا ہے۔ کیا یہاں سے تیل نہیں نکل سکتا؟ اس طرح سے بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین ہے، گلگت بلتستان کے کوہستانی علاقے ہیں اور سندھ کا صحرائی خطہ ہے۔ ان سب میں کوئلہ ، تیل ، گیس ، سونا، چاندی، ہیلیم، ٹنگسٹن، یورینیم، پلوٹونیم اور خام لوہے وغیرہ کے ذخائر یقیناًپوشیدہ پڑے ہیں۔کاش پاکستان جیالوجیکل سروے کا کوئی سائنس دان یا انجینئر ان دفینوں کا کھوج لگا کر پاکستان کی بگڑی تقدیر بنا سکے!۔۔۔ یا کاش پاکستان کے کسی اور علاقے سے اس نوع کی کوئی معدنی دولت ایسی نکل آئے کہ جو پاکستان کو درویشی سے فغفوری عطا کر دے!!

پچھلے دنوں یوں لگا کہ جیسے میرا عشروں کا یہ خواب تکمیل پا گیا ہے اور مجھے اندازہ ہونے لگا کہ میں آنکھیں موندنے سے پہلے پہلے اپنے سینے میں دبی تمناؤں کو آسودۂ منزل دیکھ سکوں گا۔ وزیراعظم نے چنیوٹ کے ایک علاقے رجوعہ میں خام لوہے کے وسیع ذخائر کا مژدہ سنایا۔ ان کے دائیں طرف شہبازشریف اور بائیں جانب ڈاکٹر ثمرمبارک مند کھڑے دیکھ کر جب میں نے وزیراعظم کی زبان سے کشکولِ گدائی توڑنے کی خوشخبری سنی تو یقین جانئے کہ سینہ ء ویراں میں گویا بقول شاعر پھر شباب آ گیا۔

ابرِ نیساں پھر سے کشتِ جاں پہ منڈلانے لگا
سینہء ویراں میں گویا پھر شباب آنے لگا

میں کہ پہلے بھی کئی بار اس موضوع پر غوروخوض کر چکا تھا، وزیراعظم کی شکستگیء کشکول کا مژدہ سن کر ایک بار پھر انٹرنیٹ کی براؤزنگ کرنے لگا۔۔۔ معلوم ہوا کہ سب سے پہلے 1960ء کے عشرے میں ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز وسطی اور شمالی پنجاب کے علاقوں پر پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا تھا۔
یادش بخیر میں ان دنوں ایک دوست کے ہاں جوہرآباد گیا ہوا تھا۔ ہم تھل ڈویلپ منٹ اتھارٹی (TDA) کے دفتر کے لان میں کھڑے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا کہ اچانک ایک چھوٹا جہاز ہماری آنکھوں کے سامنے گراؤنڈ میں لینڈ کر گیا۔ میں نے آگے جا کر پائلٹ سے مصافحہ کیا۔ اس کے ساتھ ایک دو صاحب اور بھی تھے۔ 

بتایا گیا کہ یہ محکمہ زراعت والوں کا جہاز ہے جو فصلوں پر کیڑے مار دوائیاں چھڑکنے کے ٹاسک پر مامور ہے۔ بظاہر مجھے پائلٹ کی بات پر یقین نہ آیا اور میں نے سوال کیا کہ : ’’اس ’’چھڑکاؤ‘‘ کا کوئی اور ارزاں طریقہ نہیں؟ اس چھوٹے سے جہاز میں ’’چھڑکاؤ‘‘ کی ادویات اور سازوسامان کہاں ہے؟ اور یہاں جوہرآباد میں ایسی کون سی لہلہاتی فصلیں کھڑی ہیں کہ جن میں کیڑے ’’پڑے‘‘ ہوئے ہیں؟‘‘

پائلٹ میرے سوالوں کو سن کر مسکرایا اور کہا: ’’دراصل اس ہوائی سروے کا اصل کام علاقے کا مقناطیسی (Aeromagnetic) سروے کرنا ہے۔ یہ جہاز آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن (OGDC) کا جہاز ہے اور ہم ابھی ابھی خوشاب اور چنیوٹ کے علاقوں پر سے پرواز کرتے ہوئے آئے ہیں۔ جہاز کے اندر لگے مقناطیسی آلات اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان علاقوں میں خام لوہے کے ذخائر موجود ہیں‘‘۔

اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ واقعہ آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔ اس کی توثیق چند روز پہلے معظم حسین صاحب کے ایک آرٹیکل سے بھی ہوئی۔ وہ پنجاب بورڈ آف انویسٹ منٹ کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور ارضِ پنجاب میں خام لوہے کی دریافت کی پوری تاریخ ان کو ازبر ہے۔

انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ 1989ء میں جیالوجیکل سروے آف پاکستان والوں نے ایک مطالعاتی پروگرام (Study) لانچ کیا تھا جس سے پتہ چلا کہ بالخصوص چنیوٹ کے علاقے میں سطح زمین سے بہت نیچے خام لوہے کے ذخائر تو ضرور موجود ہیں لیکن ان کو نکالنا (Mining) کمرشل اعتبار سے نفع بخش سودا نہیں۔

یہ سٹڈی سرکاری الماریوں میں پڑی رہی اور اس طرح 20برس گزر گئے۔ پھر2009ء میں خام لوہے کے ان ذخائر کو نکالنے کے لئے ایک بار پھر کوششیں تیز کر دی گئیں۔ اس باب میں جو رکاوٹیں حائل نظر آئیں اور جو سوالات پیدا ہوئے وہ اس طرح کے تھے

 جیالوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق رجوعہ کے آس پاس کے علاقوں میں جن ذخائر کی نشاندہی کی جا چکی ہے ان کی تفصیلات کیا ہیں؟
۔ان کو کمرشل اعتبار سے نفع بخش بنانے کے لئے کیا کیا کوششیں درکار ہوں گی؟
۔ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے کے لئے کون لوگ ہوں گے جو آگے آئیں گے؟

۔ جن قطعاتِ زمین کے نیچے یہ ذخائر موجود ہیں آج ان پر فصلیں کھڑی ہیں اور گنجان آبادیاں بھی موجود ہیں۔ ان کو کس طرح خالی کروایا جائے گا اور یہ آبادیاں کہاں ٹرانسفر کی جائیں گی ؟۔۔۔اور ان کا معاوضہ کون دے گا؟

۔خام لوہے کو کس طرح استعمال میں لایا جائے گا؟ کیا اس سے اعلیٰ کوالٹی کا فولاد (سٹیل) بنایا جا سکے گا؟ اس کے لئے انرجی (بجلی / گیس/ کوئلہ وغیرہ) کہاں سے آئے گی؟ ملک میں بجلی اور گیس کی کمی کا عفریت تو پہلے ہی منہ کھولے کھڑا ہے۔

یہ سوالات بجائے خود بڑے چیلنج تھے۔۔۔ ان کا حل تلاش کرنے اور جواب لانے میں پنجاب کی بیورو کریسی نے 5برس لگا دیئے اور آخر 2014ء میں کہیں جا کر یہ طے ہوا کہ ایک چینی کمپنی کو یہ ٹاسک دے دیا جائے۔ اس کمپنی نے بالآخر یہ رپورٹ تیار کی کہ خام لوہے کے یہ ذخائر 500ملین ٹن کے قریب ہیں اور ان کی کوالٹی بھی ملک میں نکالنے جانے والے خام لوہے سے کسی طور کم نہیں۔
ان کے علاوہ اور بھی کئی چیلنج ہیں مثلاً پاکستان میں جہاں جہاں سے خام لوہا نکالا جاتا ہے وہ مقامات سطحِ زمین سے زیادہ گہرائی میں نہیں لیکن چنیوٹ کے یہ ذخائر زمین میں 150میٹر کی گہرائی تک ہیں اور چونکہ یہ علاقہ دریائے چناب کا طاس بھی ہے اس لئے اس کے نیچے مختلف گہرائیوں میں پانی کے چینل بہہ رہے ہیں۔

 جب زمین کھودنے والی مشینیں اس پانی تک پہنچتی ہیں تو اس کی نکاسی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ اور پھر یہ چینل صرف ایک چینل نہیں، ایک آبی چینل کے بعد خشک اور سخت زمین آتی ہے اور کچھ مزید کھدائی کے بعد دوسرا چینل آ جاتا ہے۔ اس طرح وقفے وقفے سے کئی آبی چینل ہیں جن سے گزر کر خام لوہے (اور دوسری معدنیات چاندی، سونا، تانبہ وغیرہ) تک پہنچنا پڑتا ہے۔۔۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کام کتنا مشکل ہوگا۔

دوسرا چیلنج یہ ہے کہ چنیوٹ کے آس پاس ہی کہیں ایک سٹیل مل قائم کرنی پڑے گی۔ وجہ یہ ہے کہ خام لوہے کو پختہ لوہے میں تبدیل کرنے اور پھر اس پختہ لوہے کو سٹیل میں ڈھالنے کے لئے اس کو ایک سٹیل مل کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سٹیل مل، چنیوٹ سے زیادہ دوری پر واقع ہو تو خام لوہے کے ڈلے (Billets) ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانے کے لئے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے کراچی ہی میں اپنی پہلی سٹیل مل لگائی کہ بحری جہاز سے خام لوہا اتار کر اس کو مل میں پہنچانے میں زیادہ وقت اور محنت درکار نہ ہو۔

ایک تیسرا چیلنج اور طرح کا یہ بھی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام لوہے کی مانگ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے اس کے نرخ بھی کم ہو رہے ہیں۔ جو گلوبل مائننگ کمپنیاں چنیوٹ کی کانوں سے خام لوہے وغیرہ کو نکالیں گی، ان کو یہ پہلو بھی مدنظر رکھنا ہوگا اور خام لوہا نکالنے کی فی ٹن لاگت کا مقابلہ عالمی لاگت سے کرنا ہوگا۔

یہ اور اس قسم کے دوسرے چیلنج ضرور موجود ہیں لیکن موجودہ پنجاب حکومت اور موجودہ مرکزی حکومت میں وہ لوگ برسراقتدار ہیں جن کو اس موضوع سے غائت دلچسپی ہے۔ جتنا ٹیکنیکل Knowhowاس ذیل میں شہباز حکومت کو ہے ، وہ پاکستان کی کسی بھی دوسری سیاسی حکومت کو نہیں ہو سکتا۔ اس لئے امید کی جانی چاہیے کہ پنجاب حکومت ان ذخائر سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے اور جلد سے جلد حاصل کرنے کی طرف اپنی ساری توجہ مبذول کرے گی۔

پاکستان کے اربابِ اختیار پہلے ہی سیندک، ریکوڈک اور تھرکول کے منصوبوں کے سبزباغ دکھا دکھا کر مجھ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کو رومانیت کے تصوراتی بامِ بلند سے یاسیت کے پاتالوں تک دھکیل چکے ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ اس بار تخیل کی وہ پریاں کہ جن کا ذکر میں نے کالم کے شروع میں کیا تھا، اپنی ایک جھلک دکھا کر واپس کسی کوہ قاف میں نہیں چلی جائیں گی۔۔۔ پاکستانیوں نے آخر ایسا کیا گناہ کیا ہے کہ عقوبت کے واسطے ان کی سزاؤں کی کوئی حد ہی نظر نہ آئے۔

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

No comments:

Powered by Blogger.