Header Ads

Breaking News
recent

بھارت امریکہ گٹھ جوڑکے محرکات....جنرل مرزا اسلم بیگ

 
بھارت، امریکہ سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا مقصد افغانستان سے بنگلہ دیش تک کے علاقے میں بھارت کی بالادستی قائم کرناتھا۔افغانستان کو جنوبی ایشیا کا حصہ قرار دینے کے پیچھے بھی یہی حکمت کارفرما تھی ۔ 

بھارت نے اس سوچ سے فائدہ اٹھایا اوراتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان کی سرزمین سے تمام ہمسایہ ممالک، خصوصأ پاکستان کے خلاف جاسوسی کے مراکز تعمیر کئے اور دہشت گردی کی لعنت تھوپ دی۔ 2005 ء میں ہی سول نیوکلیر (Civil nuclear) معاہدے پر مفاہمت ہوئی جس کے حصول کے لئے بھارت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت میں ووٹ دیاتھا اور امریکہ اور اس کے اتحادیو ں کے ساتھ مل کر خطے میں بڑھتے ہوئے اسلامی انتہا پسندی کے خطرات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کاحوصلہ پیدا کیا،لیکن افسوس کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس مقصد میں بری طرح ناکام و نامرادہوئے۔

حالیہ دنوں میں مودی نے امریکہ کے ساتھ تذویراتی طور پر ہم رکاب ہوکر خطے کے جغرافیائی و سیاسی حالات کو نئی جہت دی ہے ۔’’غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے بھارت اپنے نظریے سے منحرف ہوکرایک جانبدارانہ تشخص اختیار کرچکا ہے اور خلیج عدن سے لے کرآبنائے ملاکا تک پھیلے ہوئے طویل المدتی عسکری تعلقات میں بندھ چکا ہے۔ یہ معاہدہ دس سالوں تک قابل عمل ہوگا۔اس کے علاوہ دفاعی و تکنیکی و تجارتی معاہدے  پر بھی دستخط ہوئے ہیں جس کی رو سے بھارت ہوائی جہاز بردار بحری جہاز بنانے کے قابل ہو سکے گا۔،، بھارت، امریکہ اور جاپان کی سرکردگی میں تشکیل پانے والے ایشیاء پیسیفک اکنامک کوآپریشن فورم میں بھی شامل ہو چکاہے ، جس سے وہ چین کے نیو سلک روڈ پارٹنرشپ منصوبے کا توڑ کرنے کاعملی طور پر پابندہے۔

اس کے علاوہ بھارت، چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کرنے کا پابند ہے ۔اس لئے کہ چین نے اپنے بنائے ہوئے یورو ایشین زمینی رابطے  اور مختلف ممالک کی بندرگاہوں کی سہولت حاصل کرلینے کے بعد بہت ہی اہم مفادات حاصل کر لئے ہیں جو مشرق وسطی سے چین تک پھیلے ہوئے ہیں۔چین کا یہ بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکہ،بھارت اور ان کے اتحادیوں کو قطعأ ناقابل قبول ہے۔

مودی کا اہم ہدف ’’اقتصادی ترقی کے ثمرات جلد از جلدغریب عوام تک پہنچاناہے، مروجہ عالمی اقتصادی نظام کی طرح اوپر سے نیچے کی طرف  ترقی کے ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا مودی کا مقصد نہیں ہے ،بلکہ نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کے ثمرات کو غریب طبقے تک پہنچانا مقصودہے جس کے لئے ملک کے اندر تیار کی ہوئی مصنوعات پر انحصار ضروری ہوگا۔اوبامہ کا مقصد بھی بھارت کو ترقی دے کر ایشیا میں اہم طاقت بنانا ہے، کیونکہ بھارت کی طاقت کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ اہم سمجھتا ہے‘‘۔ 

اس مقصد کے حصول کے لئے امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی بہت مفید ثابت ہوگی اور یہ بات مودی بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔لہذابھارت اور امریکہ نے باہمی تجارت کو ایک سو(100)ملین امریکی ڈالر سے بڑھا کر پانچ سو(500) ملین امریکی ڈالرسالانہ تک کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ چین کے ساتھ تجارت کے برابر ہے ۔اس کے علاوہ اوبامہ کی بھارت یاترا کا ایک اوراہم مقصد وہ فارمولا تلاش کرنا تھا جس کے ذریعے بھارت کے ایٹمی قوانین میں 2005 ء سے موجود خامیاں نظر انداز کی جا سکیں اور بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکے۔ یہ معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔

تذویراتی لحاظ سے امریکہ کے ہم رکاب ہونے کے باوجود’’بھارت کی جانبدارانہ پالیسی اس کے حق میں مفید اورقابل عمل ہوگی، اوربھارت ، چین اورروس کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات قائم کر سکے گا جس کے سبب واشنگٹن کی اختیار کردہ حکمت عملی متاثر ہوگی اور امریکہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ کثیر المرکزی عالمی نظام کو قبول کر لے کہ جس کے تحت امریکہ نے بھارت کی جغرافیائی و سیاسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اوراس کی ترقی کی رفتاردیکھتے ہوئے ،اسے مستقبل کے عالمی نظام کے لئے انتہائی اہم سمجھا ہے‘‘۔

اس کے برعکس 1950ء کی دہائی میں ، جوسردجنگ کا دورتھا ، پاکستان، امریکی اتحادی بننے پر مجبور ہوا ،لیکن اپنی کمزور پالیسیوں کے سبب اسے بہت تلخ تجربات سے گزرنا پڑا کہ کس طرح اس کے طاقتور شراکت دار نے اپنی ضرورت کے وقت پاکستان کواستعمال کیا اور جب ضرورت نہ رہی توآنکھیں پھیر لیں۔اس کی بدترین مثال 2001 ء میں قائم کی گئی جب پاکستان سے کہا گیا کہ ’’یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہمارے خلاف‘‘ جس سے گھبرا کر پاکستان نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے کا غیر اخلاقی و غیر منطقی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑاہے اور ابھی تک اٹھائے جا رہا ہے۔

حالیہ دور میں ابھرنے والے حالات پاکستان کے لئے خاصے پریشان کن ہیں خصوصاً ،جبکہ اندرون ملک دہشت گردی اورسیاسی انتشار پھیلا ہوا ہے اور ہماری شمال مغربی سرحدوں پر جنگ کی کیفیت ہے ،لیکن اس الجھے ہوئے منظر نامے میں بھی امید افزا اشارے ہیں جن کا تقاضا ہے کہ ہم نہایت تدبر اور فہم و فراست سے فیصلے کریں اوران مواقع سے بھرپور طور پر مستفید ہوں۔ ’’منطقی طور پر یہ بات درست ہے کہ بھارت اور امریکہ کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ کا واضح ہدف چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنا ہے۔

یہ بات چین کے لئے پریشان کن ضرور ہے، لیکن اس کے رد عمل میں چین، پاکستان اور روس کے مابین عسکری و اقتصادی تعلقات میں مفاہمت کی فضا ہموا ر ہو رہی ہے جس سے پاکستان کی سلامتی کی نئی راہیں کھلیں گی‘‘۔ افغان صدر اشرف غنی نے بیجنگ میں منعقد ہونے والی  کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ منفرد انداز سے کیا جائے گا جس کے لئے انہوں نے اپنے چھ قریبی ہمسایہ ممالک ، پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے بہت ہی قریبی روابط قائم کئے ہیں اوربھارت اور امریکہ کو الگ رکھا ہے جن کی سازشوں کے سبب1990 ء کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی تھی، لہذا افغان قوم اب تہیہ کرچکی ہے کہ وہ کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے اورپرامن انتقال اقتدار کے تمام معاملات کافیصلہ خود کریں گے۔

پاکستان کے لئے اب باہمی احترام اور مفادات پر مبنی پاک امریکہ تعلقات کی نئی بنیادیں استوار کرنے کایہ نادر موقع ہے، لہٰذا’’یہ امر ذہن میں رکھنا لازم ہے کہ امریکہ صرف ایک عام ملک نہیں، بلکہ وہ ایک سپر پاور ہے ،جس نے دنیا کو ایک خطرناک سرزمین بنا دیا ہے۔حالیہ عرصے میں جہاں کہیں بھی امریکہ نے مداخلت کی ، وہاں بربادی ہی چھوڑی ہے، اور وہ بھی ایسی کہ کسی آمر نے بھی نہ کی ہو، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں‘‘۔۔۔ لہٰذا یہ بات سمجھنا ہمارے لئے اہم ہے کہ ا ب ہم کتنی جلدی امریکہ کی مضبوط گرفت  سے نکل کر دوستانہ اور پراعتماد تعلقات قائم کرسکیں، تاکہ آزادفضا میں آزادی سے سانس لینا ممکن ہو۔ 

جنرل مرزا اسلم بیگ

No comments:

Powered by Blogger.