Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان سمیت دنیا کے چند ممالک میں فوجی عدالتوں کا قیام

ملکی تاریخ میں سب سے پہلے فوجی عدالتیں 1953میں اُس وقت قائم ہوئیں جب قادیانیت مخالف فسادات کا حصہ بننے والوں کو سزائیں دی گئیں۔ اس کے بعد 1958میں جب جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیااگرچہ اُن عدالتوںکو جنرل ایوب خان نے مارشل لاء کے بعد ختم کر دیا تھا۔ فوجی عدالتیں ختم کرکے ملکی عدالتی نظام بحال کر دیا گیا تھا۔ 1969 میں جنرل ایوب کے بعد جب جنرل یحییٰ نے مارشل لاء لگایا تو ایک بار پھر فوجی عدالتوںکا قیام عمل میں لایا گیا۔ پھر جب ایک جمہوری عمل کے خاتمے کے بعد جنرل ضیاء الحق برسرِ اقتدار آئے تو اُنہوں نے ملک بھر میں فوجی عدالتیں قائم کردیں ۔

جنرل ضیاء الحق کے دَور کے بعد جب ملک میں سیاسی کلچر شروع ہوا تو موجودہ وزیرِ اعظم کے موجودہ دور سمیت تینوں ادوار میں فوجی عدالتوںکا قیام عمل میں لایاگیا ۔ فوجی عدالتوں کا قیام وطنِ عزیز میں ہی محض نہ ہوا دنیا کے چند ایک ممالک میں فوجی عدالتیں قائم رہیں ۔اس کی سب سے بڑی مثال امریکہ ہے ۔امریکہ جیسے جمہوری ملک میں بھی فوجی عدالتوںکا قیام اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مخصوص حالات میں ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ مصر میں بھی فوجی عدالتوںکا قیام عمل میں رہا۔ یہ عدالتیں انقلاب کے بعد قائم کی گئیں تھیں۔

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں سول سوسائٹی کی تمام تر مخالفت کے باوجود بھی فوجی عدالت قائم رہی ہے ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی ایک اور مثال ہمارے سامنے جرمنی کی رہی ہے ۔ اگرچہ جرمنی میںابھی ایسا کوئی اقدام نہیں لیا گیا مگر مخصوص حالات میں اُن کا آئین فوجی عدالت کے قیام کی اجازت دیتا ہے ۔

No comments:

Powered by Blogger.