Header Ads

Breaking News
recent

معاشی دہشت گردی....

عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام حکومت کو کیا نام دینا چاہئے؟ بجلی‘ گیس‘ پانی اور پٹرول کے بغیر زندگی کی گاڑی کیسے چل سکتی ہے؟ پٹرول بحران سے عوام کی زندگی کا پہیہ جام ہوا۔ آخر کیوں ہوا؟ چیئرمین اوگرا ہوں یا وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی‘ کسے موردالزام ٹھہرایا جائے؟ بجلی‘ پانی‘ گیس‘ پٹرولیم کے وزیر کس کام کے جو عوام کو پیسے کے بدلے بنیادی اشیاءفراہم نہیں کر رہے۔ کیا پٹرولیم بحران کیلئے بھی کوئی جوڈیشل کمیشن بنے گا۔ اگر بن بھی جائے تب بھی جن لوگوں نے بحران سے فائدے اٹھا لئے‘ انکا کیا بگڑے گا۔ 

کیا کوئی ایسا کمیشن بنایا جا سکتا ہے جس کی رپورٹ کے نتیجے میں کسی ذمہ دار کی شامت آئی ہو؟ حمودالرحمن کمیشن نے سقوط ڈھاکہ کے اسباب گنوائے‘ لیکن کسی کا کیا بگڑا؟ ملک ٹوٹ گیا اور بس۔ ادھر ہم ادھر تم کہنے والے اقتدار میں آگئے۔ روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آنےوالوں کے دور میں بھی لوگ پاﺅ گھی کیلئے مارے مارے پھرتے تھے۔ سوشلزم لانے والوں کے دور میں عوام ستائے گئے تھے اور اب بھاری مینڈیٹ سر پر اٹھائے شریفوں کے دور میں عوام کس طرح خوار ہو رہے ہیں۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ حکومتیں کبھی اپنی نااہلی نہیں مانتیں۔ فوجی عدالتوں کا قیام ہی حکومتی نااہلی کا بین ثبوت ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس سے بھی اسکی تصدیق ہو گئی ہے۔

 اقتدار پسند ٹولے کے نزدیک انکے کرسی پر براجمان رہنے کا نام ہی جمہوریت ہے۔ پٹرول‘ گیس‘ بجلی‘ پانی ملے نہ ملے‘ سکیورٹی ملے نہ ملے‘ لاءاینڈ آرڈر ہو نہ ہو‘ انصاف ملے نہ ملے‘ تعلیم ملے نہ ملے‘ صحت ملے یا موت‘ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہنی چاہئے۔ اکیسں کے بعد خواہ 22 ویں ترمیم بھی کرنی پڑے‘ جمہوریت چلنی چاہئے۔ چھ ماہ میں 60 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے۔ ساتھ ہی بجلی کی قیمتوں میں 68 پیسے فی یونٹ اضافہ ہو چکا ہے۔ عوام کی بے بسی پر وزیراعظم کی تشویش سے عوام کی بے چارگی دور ہو جاتی ہے؟ شہریوں کو پٹرول نہ ملنا حکومت کی مجرمانہ غفلت نہیں؟ حکومت کی غفلت کا نوٹس لینے کیلئے بھی کوئی سپریم حکومت ہونی چاہئے۔ ہائیکورٹ کے بعد تو لوگ سپریم کورٹ کی طرف دوڑتے ہیں۔ حکومت سے مایوس ہو جائیں تو کس حکومت کی طرف دوڑیں۔ 

افسوس در افسوس اس بات کا ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں خاموش بیٹھی ہیں۔ عوام کیلئے یہ جماعتیں کیا کر رہی ہیں۔ عوام کا مارے مارے پھرنا دکھائی نہیں دیتا۔ پارلیمنٹ میں جمہوریت بچانے کیلئے یکجا ہونے والے عوام کے مسائل کیلئے یکجا کیوں نہیں ہوتے۔ عمران خان سولو فلائٹ چھوڑ دیں۔ حلقہ122 عوام کا مسئلہ نہیں۔ عوام کے مسائل کے حل کی طرف سر جوڑ کر بیٹھیں‘ مسائل کیلئے حکومت پر دباﺅ بڑھائیں۔ بجلی اور گیس کے ہاتھوں درد بڑھتا جا رہا ہے۔ بحران میں شدت آگئی ہے۔ مختلف مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دفاتر کے گھیراﺅ اور بل نذرآتش کئے جا رہے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 6 سال میں کم ترین سطح 47 ڈالر 10 سینٹ پر آگئی ہے‘ لیکن ہماری حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کردی ہے۔ جی ایس ٹی کی اس بلند ترین شرح کی بدولت ہر ماہ صارفین کی جیب سے 5.30 ارب روپے حکومت کے پاس جائینگے۔ جون 2014ءمیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 115ڈالر فی بیرل تھی اور ہمارے ہاں پٹرول 107.87 روپے فی لیٹر کے حساب سے دستیاب تھا۔ اب جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 47.10 ڈالر فی بیرل ہے تو ہمارے پٹرول کا نرخ 78 روپے فی لیٹر ہے۔ بجلی‘ پانی‘ گیس‘ تیل کے چکروں میں پھنسے عوام کیا کرینگے؟ بری گورننس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ تیل کمپنیوں کی بدانتظامی کے باعث ملک بھر میں پٹرول کا بحران شدت اختیار کر گیا۔ 80 فیصد پمپ بند ہونے سے عوام خوار ہوئے۔

 آئی پی پیز کے ذمہ پی ایس او کے واجبات 23 ارب سے تجاوز کر گئے۔ تمام بینکوں نے پی ایس او کو قرض دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی طلب میں کمی اور وافر ترسیل کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ قیمتوں میں یہ کمی خام تیل کی عالمی طلب میں کٹوتی کے اعلان کے بعد سے جاری ہے۔ 14 نومبر 2014ءکے بعد سے خام تیل کی قیمت 130ڈالر فی بیرل کم ہو گئی ہے جبکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت ستمبر 2014ءسے یکم جنوری 2015ءتک 28.28 روپے کم ہو سکی ہے‘ لیکن روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتیں کم نہیں ہو سکیں۔

افسروں کی معطلی کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا پٹرول بحران پر درجنوں سوال اٹھ رہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کی منطق کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ پٹرل بحران غیرمعمولی طلب سے پیدا ہوا۔ پی ایس او کیمطابق بحران کے خاتمے کیلئے 100 ارب روپے اور 2 ماہ درکار ہیں۔ حکومت کی نااہلی اور بدعنوانی ثابت ہو گئی ہے۔ آئل کمپنیوں نے 20 دن کا ذخیرہ نہ رکھ کر خلاف ورزی کی۔ پٹرول سپلائی کرنیوالی سب سے بڑی کمپنی ”پارکو“ کو 5 دن بند رکھنے سے بحران بڑھا۔ وزیر داخلہ نے حکومتی نااہلی کا اعتراف کر لیا‘ لیکن اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ احکامات‘ ہدایات‘ رپورٹیں طلب کرنیوالے الفاظ اپنی وقعت کھو چکے ہیں۔ ڈسپلن سے مالامال واحد ادارہ فوج ہے۔ ایسا ہی ڈسپلن سول حکومت میں پیدا کئے بغیر بُری گورننس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سوال ہے عوام کو خوار کرنیوالوں کو کون سزا دے گا؟

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

بجٹ سے پہلے منی بجٹ لایا گیا ہے۔ سٹیل مصنوعات اور موبائل فون مہنگے کر دیئے گئے ہیں۔ بجلی پر ڈیڑھ سے 2 روپے فی یونٹ سرچارج عائد ہو رہا ہے۔ چند روز قبل پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کی گئی تھی۔ ہر حکومت اپنے اخراجات کو چھیڑنے کی بجھائے عوام سے چھیڑخانی کرتی اور مہنگائی بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ زمینی حقائق کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ 20 کروڑ عوام کیلئے روٹی تو ہے اس لئے کہ رزق کا وعدہ تو خالق نے مخلوق سے کر رکھا ہے‘ لیکن بجلی ہے نہ پانی اور نہ گیس‘ کاش وی وی آئی پی اور وی آئی پی لوگ مساجد کے وضو خانے آکر دیکھ لیں۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے وعدوں کا آغاز زرداری دور کے آغاز میں راجہ پرویز اشرف نے کیا تھا۔ اس جھوٹ کو بھی 7 سال گزر چکے ہیں۔ 

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا درد کینسر کی تھرڈ سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔ سارا دن بجلی آنے اور بجلی جانے کی راہ تکتے گزر جاتا ہے۔ حکمرانوں کا کام بلاناغہ اعلیٰ سطحی اجلاس بلانا اور تصویریں چھپوانا ہے۔ کبھی کبھی برہمی کے اظہار کی خبریں چھپوانا ہے۔ گریڈ 22 کی شاہانہ مراعات اور اختیارات انجوئے کرنیوالوں کو جھاڑ جھپٹ سے کیا فرق پڑتا ہے؟ نوکری میں یس سر یس سر کی تسبیح لیکر گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ اب تو بڑے بڑے کالجوں کے گریڈ20 کے پرنسپل بھی ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر کیلئے سٹینڈ بائی رہتے ہیں۔ عوام پہلے بھی سارا دن عدالتوں‘ تھانوں‘ ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں رلتے تھے۔ آج بھی رلتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک اژدھام کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ٹریفک وارڈنوں کا کام ٹریفک کو رواں دواں نہیں‘ اپنی چالان کی کتابیں بھر کر شاباش اور انعام وصول کرنا ہے۔ نہ جانے یہ کیسی گورننس ہے؟

خالد محمود ہاشمی

No comments:

Powered by Blogger.