Header Ads

Breaking News
recent

ترک رہنماؤں کا نیتن یا ہو کو منہ توڑ جواب....


پیرس میں گیارہ جنوری بروز اتوار دہشت گردی کے خلاف فرانس کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ریلی میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہوکی شرکت پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم احمد داؤد اولو نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یا ہو کی پیرس یکجہتی اور امن ریلی میں شرکت کو ریلی کے چہرے پر سیاہ دھبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ایک ایسے ملک کا وزیراعظم جو غزہ میں دو ہزار پانچ سو افراد کی ہلاکت جس میں ساحل ِ سمندر پر اپنے ہاتھوں میں کھلونوں سے کھیلنے والے معصوم بچے اور خواتین بھی شامل تھیں کے قتل عام میں ملوث ہو، کس منہ سے شرکت کر رہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ پیرس ریلی میں صرف ان ممالک کے رہنماؤں کو شرکت کرنے کا حق ہونا چاہئے تھا یا ان کو مدعو کیا جانا چاہئے تھا جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جدو جہد میں حصہ لیا ہو اور دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہوں لیکن نیتن یا ہو جیسے شخص کو اس امن ریلی میں مدعو کرتے ہوئے امن ریلی کے مقصد ہی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
(ترک حکام سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق فرانس کے صدر فرانسواں اولینڈ نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہو کو کوئی دعوت نامہ ارسال نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ انہیں پیرس میں دیکھنے کے خواہاں تھے لیکن نیتن یا ہو بغیر کسی دعوت نامے کے پیرس پہنچ گئے جس پر فرانس کے صدر اولینڈ نے نیتن یا ہوکو زچ کرنے کے لئے آخری وقت میں فلسطین کے صدر محمود عباس کو اس امن ریلی میں مدعو کیا) صدر ایردوان نے نیتن یا ہو کی ڈھٹائی اور بے شرمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہو نے اس امن ریلی میں اپنے ہاتھ چاروں اطراف ہلاتے ہوئے لوگوں کو سلام کرنے کا جو طریقہ اپنا رکھا تھا اس سے لگتا تھا کہ وہ کسی امن ریلی میں نہیں بلکہ کسی اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے آئے ہوں اور تماشائیوں کا گرم جوشی سے ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہوں ۔ انہوں نے اس صورتحال پر نیتن یا ہو سے سوال کیا۔ ’’آپ کا اس امن ریلی سے کیا تعلق؟ یہ تو امن ریلی ہے۔‘‘ نیتن یا ہو کی اس ریلی میں شرکت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔کیونکہ پہلے انہیں معصوم بچوں اور خواتین کے قتل کا حساب دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پیرس میں دہشت گردی کے حملوں سے متعلق مسلمانوں پر لگائے جانے والے الزامات اور اسلام کو بدنام کرنے اور دہشت گردی کو مذہب اسلام سے منسلک کرنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیرس کے واقعے کا چند ایک عنوانات کے تحت تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات دہشت گردی میں ملوث افراد کا تعلق فرانس سے ہے۔ لیکن بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ اس دہشت گردی کا الزام مسلمانوں اوراسلام پر لگایا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ 

ویسے بھی یہ دہشت گرد حملہ کرنے سے پہلے سولہ ماہ تک فرانس کی جیل میں قید رہ چکے ہیں تو پھر فرانس کی خفیہ سروس اور پولیس نے مسلمانوں پرالزام لگانے سےقبل ان دہشت گردوں سے متعلق ہر پہلو سے تحقیقات کو کیونکر مکمل نہ کیا؟ اب اپنی جان چھڑانے کے لئے مسلمانوں پر الزامات لگا کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا جا رہا ہے اور مغرب میں اسلام فوبیا کو ہوا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے تمام طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم مسلمان ہونے کے ناتے کسی بھی صورت امن پسند مذہب اسلام پر قتل عام یا دہشت گردی کا لیبل اور نہ ہی اس کے صاف اور شفاف چہرے پر کوئی دھبہ لگنے دیں گے۔‘‘

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ ’’ ہمیں اس قسم کے دہشت گردی کے واقعات کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ شام میں تین لاکھ 50 ہزار افراد قتل کئے جا چکے ہیں اور مزید قتل کا سلسلہ جاری ہے لیکن دنیا ابھی تک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ ہم ترکی، لبنان اور اردن تین ممالک شام کے5ملین مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور مغربی ممالک لالی پوپ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ مغرب نے ہمیشہ ہی سے مسلمانوں سے متعلق دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ مغرب میں سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پیرس حملوں کی وجہ نسل پرستی اور غیر ملکی دشمنی ہے جسے اب اسلام فو بیا کا روپ دیا جا رہا ہے۔

صدر ایردوان نے میڈیا کی آزادی کے بارے میں اپنے بیان میں کہا کہ میڈیا کی آزادی کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو کسی بھی صورت میڈیا کی آزادی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو مادر پدر آزادی نہیں دی جا سکتی ہے۔ اگر مغربی میڈیا اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے تو پھر مغرب میں ہولو کاسٹ پر کیوں پابندی ہے؟ مغربی میڈیا آج تک ہولو کاسٹ پر آواز اٹھانے کی کیوں جرأت نہیں کرتا ہے؟ 

مغرب میں ہولوکوسٹ کی نفی کرنے والوں کو تو سزا دی جاتی ہے لیکن ہمارے عزت و وقار اور جان سے بھی بڑھ کر عزیز پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺکی بے حرمتی کی جاتی ہے تو ہمیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ کیسی منطق ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہولو کاسٹ کی طرح تمام انبیائے کرام کی بے حرمتی کرنے کے عمل پر مکمل طور پر پابندی لگا دی جائے ویسے بھی اسلام ایک ا یسا مذہب ہے جس میں تمام انبیائے کرام کی عزت و تکریم فرض ہے اور کوئی بھی مسلمان کسی بھی پیغمبر یا نبی کی بے حرمتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ تو پھر ایسے مذہب کے پیغمبر کو جان بوجھ کر حقارت کا نشانہ بنا نا کہاں کا انصاف ہے؟

ترکی کے صدر کے علاوہ وزیراعظم احمد داؤد اولو نے بھی توہین آمیز خاکوں کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ’’ ہم کسی بھی صورت اس قسم کے خاکوں کو ترکی میں شائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یاد رہے ترکی کے اخبار ’’جمہوریت‘‘ میں چارلی ایبڈو میگزین میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کو جگہ دی گئی جس پر وزیراعظم احمد داؤد اولو نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ترکی میں پیغمبر اسلام کی بے حرمتی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ 

ایسا کرنے کی صورت میں قانون حرکت میں آجائے گا اور پھر اس اخبار کو اپنے اس کیے کی سزا خود ہی بھگتنا پڑے گی۔ اس اخبار کے رائٹرز کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ یہ اخبار ایک ایسے ملک سے شائع ہو رہا ہے جس کی ننانوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ترکی کے یہ نام نہاد سیکولر حلقے اسلام دشمنوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ روزنامہ جمہوریت کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور عدالت جو مناسب سمجھے گی اس اخبار کو سزا دے گی۔ انہوں نے واضح کردیا کہ کسی بھی شخص کو اپنے ہی باشندوں کو مذہبی لحاظ سے رنجیدہ کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔

انہوں نے اس موقع پر پوپ فرانسیس کے اس بیان کو جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’’ اگر میرا بہترین دوست ڈاکٹر گیسپری میری ماں کے بارے میں بُرا جملہ کہے تو جواباً اسے مکے کی توقع ہی کرنی چاہئے۔ ہر مذہب کی ایک عزت اور تکریم ہوتی ہے اور آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدیں متعین ہیں۔ آپ کسی کو بھی اشتعال نہیں دلا سکتے، آپ کسی کے ایمان کی توہین نہیں کر سکتے۔‘‘ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیں حضرت محمدﷺ کی عزت سب سے بڑھ کر عزیز ہے ۔ ہم کسی کو بھی ان کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔ ہم ماضی میں ترکی میں حضرت محمد ﷺسے متعلق توہین آمیز خاکوں کی وجہ سے ہنگاموں اور مظاہروں کو دیکھ چکے ہیں ۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کسی کو یہ بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ دہشت گردی کو مذہب اسلام سے جوڑے ۔ دہشت گردی چاہے کسی بھی شکل میں ہو دہشت گردی ہے ۔ پیرس جا کر ہم نے دنیا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا اور اب میڈیا سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ آزادی کی آڑ میں کسی کو پیغمبر اسلام ﷺکی توہین کرنے کی اجازت نہ دے۔

ڈاکٹر فرقان حمید
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.