Header Ads

Breaking News
recent

پولیس کی تفتیش کیسے ہوتی ہے...


پولیس کی تفتیش کیسے ہوتی ہے اور جرم‘ خاص طور سے قتل کے کیس میں ثبوت کیوں ضروری ہے؟ یہ اتنے مشکل سوال ہیں کہ شاید نواز شریف کیلئے ان کا سمجھناآسان نہیں ہے یا پھر یہ اتنے غیر اہم ہیں کہ نواز شریف کوان پر غور کی ضرورت ہی نہیں ۔

چند ہفتے پہلے گرین ٹاؤن لاہور میں ایک معصوم بچے معین کا دردناک اور وحشیانہ قتل ہوا۔ اسے زیادتی کے بعد مسجد میں مؤذن کے کمرے کے باہرپھانسی دیدی گئی۔ پولیس نے موذن اور امام مسجد کو فوراً گرفتار کر لیا اور دو ہفتے تک ان کے ساتھ وہ کیا کہ کیا گوانٹا نامو والوں نے بھی القاعدہ کے ساتھ کیا ہوگا۔ آخر کار موذن نے اعتراف جرم کر لیا۔ نہ صرف اعتراف بلکہ پوری تفصیل بھی بتا دی کہ اس نے بچے کو کیسے اغوا کیا‘ کیسے قابو کیا‘ کس طرح پھندا بنایا‘ کس طرح گردن توڑی۔

 ترمیم کے مطابق سرسری سماعت کی عدالتوں کو فیصلہ کے لئے صرف تفتیشی افسر کا بیان چاہئے۔ تفتیشی افسر کا بیان یہ تھا کہ موذن نے بچے کو اغوا کیا‘ اس کی گردن توڑی‘ پھر پھندے سے ٹانگ دیا۔ اب سوچئے‘ یہ مقدمہ سرسری عدالت میں چلتا تو مؤذن کا اب تک چہلم بھی ہو چکا ہوتا لیکن اتفاق سے عدالتیں بنتے بنتے دیر ہوگئی اوراس دوران اصل قاتل نے اعتراف جرم کر لیا۔ موذن کی جان بچانے میں لاہور کے سی سی پی امین وینس کی فرض شناسی نے کردار ادا کیا۔ اس نے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا۔ سرسری قانون میں خدا جانے ڈی این اے ٹیسٹ کی کچھ اہمیّت ہے کہ نہیں۔

نیا انصاف ثبوت‘ گواہی‘ شہادت سے بے نیاز ہے۔ ایک اور واقعہ کا ذکر بھی ہو جائے۔ ایک قاتل کو ہائیکورٹ نے اس وقت بری کر دیا جب اسے یہ ثبوت ملے کہ مقتول کو کسی اور نے قتل کیا تھا لیکن لواحقین نے جن کی مبیّنہ قاتل سے دشمنی تھی‘ حساب چکانے کے لئے اسے نامزد کر دیا۔ اسے ماتحت عدالتوں سے سزائے موت ہوئی تھی۔

ابتدائی شواہد پرکہیں بھی اور کبھی بھی فیصلے نہیں سنائے جاتے۔ اصل مجرم کئی بار کوئی اور نکلتا ہے۔ لیکن نئے انصاف میں طے ہے کہ جو بھی گرفتار ہو‘ اسے پھانسی دی جائے گی۔ چلئے‘ اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن نام پر اعتراض ہے اور ایک نہیں‘ دو دو اعتراض۔ ایک تو یہ کہ سرسری سماعت کا لفظ ختم کیا جائے۔ سرسری سماعت اس کارروائی کو کہتے ہیں جس میں سماعت کا دورانیہ مختصر ہو۔ جہاں سماعت کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو اسے سرسری سماعت کیسے کہا جا سکتا ہے۔ اسے تو لاپتہ سماعت کی عدالت کہئے اور پھر دوسرا اعتراض لفظ عدالت پر ہے۔ عدالت کا لفظ عدل سے نکلا ہے۔ ہاں کورٹ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ کورٹ کے لفظی معنوں میں عدل کا ذکر نہیں ہے۔ تو نیا نام یوں کیوں نہ رکھ لیا جائے کہ لاپتہ سماعت کی کورٹ ۔ اور پھر جتنے چاہیں دار پر چڑھا دیں۔ کم از کم عدل کا لفظ تو دہائی نہیں دے گا۔

کیسی مزے کی لیکن ’’بامعنے‘‘ دلیل دی جا رہی ہے کہ عام عدالتیں گواہوں اور ثبوتوں کے بغیر سزا نہیں سناتیں اس لئے فوجی عدالتیں ضروری ہیں۔ بگلے کا شکار اس کے سر پر موم بتی رکھ کر کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے۔ آئین میں غیر آئینی کے بجائے ’’آئینی‘‘ ترمیم کرتے اور ضابطہ فوجداری بدل دیتے۔ عدالتوں کے لئے طے کر دیتے کہ وہ ثبوت اور گواہوں کے چکر میں نہیں پڑیں گی اور پولیس کے تفتیشی افسر کی سفارشات پر عمل درآمد کی پابند ہوں گی۔ یوں مقصد بھی پورا ہو جاتا اور غیر آئینی اقدام کی تہمت سے بھی بچ جاتے۔ خیر‘ یہ بحث تو بے فائدہ ہے لیکن اس تفتیشی افسر کو انعام کون دے گا جس نے قتل سے لاعلم اور لاتعلّق موذن سے نہ صرف اعتراف جرم کرالیا بلکہ ارتکاب جرم کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل بھی حاصل کر لی۔ اسے کیوں نہ نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا جائے؟
______________________

عقل صحرائے گم میں اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہی ہے کہ میاں نواز شریف کو عدلیہ پر اتنا عدم اعتماد ہے تو انہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کیوں چلائیتھی؟

قوم کو وہ منظر یاد ہے۔ دسیوں لاکھ افراد ان کی کال پر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اگرچہ ساری کال ان کی نہیں تھی‘ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی آگے آگے تھیں اور ملک بھر کے وکلاء بھی اگلی صفوں میں تھے۔ اتنا بڑا جلوس برّصغیر کی تاریخ میں نہیں نکلا تھا۔ لوگ بیوی بچوں سمیت گھروں کو تالے لگا کر آئے تھے۔ اس وقت کوئی کہتا کہ نواز شریف اسی عدلیہ پر عدم اعتماد کرد یں گے تو لوگ اسے زرداری کا ایجنٹ کہتے۔ اب وہ کیا کہیں۔ نواز شریف کو عدلیہ پر عدم اعتماد کیوں ہے اور اس کورٹ پر اعتماد کیوں ہے جس نے ایک منتخب وزیراعظم کو طیارہ ہائی جیک کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا دی تھی۔ ایسا ہی اعتماد ہے تو پھر وہ سزا ٹھیک تھی۔ وہ کورٹ ملی جلی تھی اس لئے عمر قید دی۔ ’’خالص سرسری کورٹ‘‘ ہوتی تو بات آگے جانی تھی جو اصل ہائی جیکر کا مدعا تھا۔ عقل بالکل ہی گم ہوگئی ہے یہ سوچ کر کہ نواز شریف کو ’’ذاتی تجربے‘‘ کے باوجود اعتماد کیوں ہے؟ سچ ہے‘ بعض سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔

اور بعض بیان بھی لاجواب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی پارٹی کے ’’قائد‘‘ بلاول کے بیان کا مذاق اڑاتے ہوئے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے پارلیمنٹ کی ناک کٹوا کر ملک بچا لیا۔ چیئرمین بلاول نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ نے اپنی ناک کٹوالی۔
خورشید شاہ نے ایسا لاجواب بیان کیوں دیا؟ شاید وہ بلاول کے نہیں بھٹّو کے پیروکار ہیں۔ وہی بھٹو جنہوں نے1971ء میں ایسٹ بنگال آپریشن شروع ہونے پر کراچی میں یہ بیان دیا تھا کہ ’’ملک بچ گیا‘‘۔
 
عبداللہ طارق سہیل

No comments:

Powered by Blogger.