Header Ads

Breaking News
recent

تیل کی قیمتوں میں کمی خوشحالی کا راستہ؟.....


حکومت خام تیل کی قیمتوں میں کمی، جو کہ ایک نعمت خداداد سے کم نہیں، کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

موجودہ حکومت نے اپنے مقاصد میں سرِفہرست اقتصادی شرح نمو کو رکھا ہے، اور اب یہ اس پر ہے کہ وہ کس طرح خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی حالیہ نمایاں کمی کو معیشت کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بناتی ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت بھی 59 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے جبکہ امریکی مارکیٹ میں جو قیمت جون 2014 میں 110 ڈالرز تھی وہاں بھی یہ 55 ڈالرز تک گرگئی ہے۔

پاکستان کی معیشت لڑکھڑاہٹ کا شکار ہے، جو خراب قیادت اور ناقص طرز حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں 45 فیصد کمی گاڑیوں کے مالکان تک صرف 15 فیصد کمی کی صورت میں پہنچی۔

تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے دو اہم شعبوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے: ایک توانائی بحران اور دوسرا ادائیگیوں کا بیرونی توازن۔ توانائی کے بحران میں شدت نے پرتشدد احتجاجوں کو ہوا دی ہے، جبکہ ہزاروں افراد ایک ایسے ملک میں روزگار سے محروم ہوئے ہیں جہاں پہلے ہی بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

اوپیک (خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم) کے زیادہ طاقتور اراکین خام تیل کی قیمتوں کو پچاس ڈالرز فی بیرل کی سطح پر بھی برداشت کرنے کو تیار ہیں، تاکہ روس، ایران (حالانکہ وہ بھی اوپیک کا رکن ہے) اور امریکا کے شیل انقلاب کا سامنا کیا جاسکے۔

حکومت کو اس موقع کو توانائی بحران کے خاتمے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں موسم گرما کے دوران توانائی بحران کی بڑی وجہ طلب و رسد میں چھ ہزار میگاواٹ سے زائد تک کا خلا ہونا ہے، جبکہ سال کے دیگر ایام میں بھی یہ فرق چار سے پانچ ہزار میگاواٹ تک رہتا ہے۔

یہ خسارہ مجموعی طلب کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے یعنی 33 فیصد کے لگ بھگ صارفین ایک وقت میں بیس گھنٹے سے تک بجلی سے محروم رہتے ہیں۔

اس بات کو دوہرانا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کا توانائی بحران پیداوار کی ناکافی صلاحیت کا نتیجہ نہیں، جو 24 ہزار میگاواٹ کے قریب ہے بلکہ یہ مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے غیرموثر نظام کے باعث ہے جس کے نتیجے میں یہ رواں برس گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ طلب 19 ہزار میگاواٹ کی ضروریات بھی پوری کرنے میں ناکام رہا۔

توانائی کے حصول کے ذرائع میں تھرمل پیداوار کا حصہ 68 فیصد ہے مگر سردیوں میں یہ 80 فیصد تک پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ ہائیڈرو الیکٹرسٹی (پانی سے بجلی کی پیدوار) کا 14 فیصد تک رہ جانا ہے۔ تھرمل ذرائع میں نمایاں ترین ذریعہ تیل سے پیداوار ہے، گیس سے بجلی کی پیدوار 2005 میں 45 فیصد تھی مگر گیس ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث یہ اب 19 فیصد کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

درآمدی تیل پر انحصار کے باعث گزشتہ آٹھ سال کے دوران حکومت کو 1900 ارب روپے کی سبسڈیز اداکرنا پڑی ہیں، جس کا بڑا سبب خام تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے اس سے پیدا کی جانے والی بجلی کی لاگت اور ٹیرف میں نمایاں فرق ہونا تھا۔

تیل کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے کے نتیجے میں گردشی قرضوں کا عفریت بھی پیدا ہوا اور جولائی 2013 میں پانچ سو ارب روپوں کی ادائیگی کے باوجود یہ گردشی قرضہ ستمبر 2014 میں ایک بار پھر 300 ارب روپوں تک پہنچ گیا۔ مزید یہ کہ پیداوار کی زیادہ لاگت کے نتیجے میں پاور پلانٹس کو غیرفعال ہونے پر مجبور کردیا جو کہ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خراب طرز حکمرانی کے باعث نااہلی، لاسز اور ریکوری میں کمی اس کے علاوہ ہیں۔

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے تحت 6600 میگاواٹ بجلی گرڈ میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر 60 ڈالر فی بیرل تیل کے مقابلے میں بہت زیادہ ٹیرف کے باعث ان پر کام اب تک شروع نہیں ہوسکا۔

دسمبر 2014 میں فرنس آئل کی قیمتیں بھی 360 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئیں جو جون 2014 میں 630 ڈالرز تھیں۔ سادہ ریاضیاتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب فرنس آئل کے استعمال سے تیار ہونے والی بجلی کی پیدوار ساڑھے دس روپے فی یونٹ تک پڑنی چاہیے کیونکہ پیداوار کے 60 سے 80 فیصد کا انحصار ایندھن کی لاگت پر ہوتا ہے (جس کے علاوہ آپریشنز اور مرمت کی لاگت بھی شامل ہیں)۔

اس لیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو ٹیرف میں بھی نظر آنا چاہیے اور اسے سبسڈیز میں کمی کے لیے استعمال کرنا چاہیے جو کہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک خوش قسمت موقع ہے۔ اس سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی، جس سے یہ زیادہ قابل استطاعت ہوسکے گی، سبسڈی کی ضرورت کا خاتمہ ہوسکے گا اور دو کروڑ 30 لاکھ صارفین کو ریلیف ملے گا۔

تاہم حکومت خام تیل کی قیمتوں میں کمی، جو کہ درآمدی تیل پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے ایک نعمت خداداد سے کم نہیں ہوتی، کا پورا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک ملک میں پچھلے سات سالوں سے جاری توانائی بحران برقرار رہے گا۔

آغاز کے طور پر حکومت کو اس وقت فعال تھرمل پاور پلانٹس کی افادیت کو نئے پرزہ جات اور بحالی نو کے ذریعے بڑھانا چاہیے۔ عام اصطلاح میں افادیت میں اضافے کا مطلب یہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے کم ترین مقدار میں تیل و گیس کا استعمال ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا حکومت افادیت میں اضافے کے لیے سادہ حکمت عملی اپناتی ہے اور اس کے بعد وہ پاورپلانٹس کو سستے تیل کی بدولت مکمل گنجائش کے مطابق چلاتی ہے یا نہیں؟ موجودہ صورتحال میں یہ ایک مختصر المدت حل اور آسان قابل عمل حکمت عملی ہے۔

تیل درآمد کرنے والے پاکستان کے شعبہ توانائی کے کسی بھی منصوبہ ساز کے لیے یہ آسمانی مدد سے کم نہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو ذہن میں رکھ کر یہ قابل فہم ہے کہ حکومت کی جانب سے انرجی وژن 2035 کے حوالے سے ایک نئی، معقول اور مضبوط قومی پاور پالیسی کو عمل میں لایا جائے۔ دوسری جانب یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ سادہ حساب اور عزم کا معاملہ ہے جس سے توانائی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ارشد ایچ عباسی

No comments:

Powered by Blogger.