Header Ads

Breaking News
recent

کیا یہ قائداعظم کا پاکستان ہے؟....

قائداعظم نے ہمیں جو پاکستان دیا تھا کیا کسی صورت میں بھی وہ وہی ہے جو آج کا پاکستان ہے۔ اس کا جواب تو نقشہ دیکھتے ہی مل جاتا ہے۔ اس کا ایک بازو کٹا ہوا ہے۔ جسے لسانی، نسلی بنیادوں اور بھارت کی جارحیت نے کاٹا۔ بنگال میں جو لسانی شورش برپا ہوتی تھی کیا وہ مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی؟ کیا کسی مذہبی جماعت یا تحریک کی جانب سے لسانی، نسلی علیحدگی پسندی پر کوئی فتویٰ دیا گیا تھا؟ کیا مکتی باہنی مذہبی یا فرقہ وارانہ تنظیم تھی جس نے مشرقی بنگال میں آباد پنجابی، سندھی، بلوچی اور اردو بولنے والی آبادی کی تطہیر کی تھی؟ کیا یہ مذہبی جنونی تھے جنہوں نے مذہبی و اقلیت کو قتل کیا، ان کے اعضاء کی قطع برید کی، سرنج کے ذریعے ان کے بدن سے خون کا آخری قطرہ کشید کر کے بڑے بڑے پیپے بھر کر خون کا بینک Blood Bank بنایا؟ میں مانتا ہوں کہ یہ کسی ایک فریق نے ایسا نہیں کیا بلکہ یہ انسانیت سوز فعل دونوں حریفوں سے سرزد ہوا۔ جسے انتقام کا بہانا بنایا گیا۔

اس نسلی و لسانی خونریزی اور تخریب کاری کے آثار آج بھی میر پور اور محمد پور میں رہائش پذیر خستہ ہال بستی میں نظر آتے ہیں جہاں 82288 مربعہ فٹ کھولیوں میں کثیر العیال کنبے مقیم ہیں۔ انہیں نہ بنگلہ دیش اپنا شہری سمجھتا ہیں  نہ حکومت پاکستان۔ ادھر بنگلہ دیش میں نسلی تعصب میں لت پت عدلیہ نے کھیپ کی کھیپ ضعیف العمر افراد کے قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ بنگلہ دیش کے بھارت نواز حکمرانوں کی نو آتش انتقام اور نہ ہی خون کی پیاس بجھتی ہے۔ کیا حسینہ واجد، کیا وزیر قانون اور کیا اس کی عدلیہ کا سربراہ سب کے سب لسانی نسلی تعصب میں اندھے ہو کر آدم خور بن گئے ہیں۔ صدر مشرف نے فراخدلی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت بنگلہ دیش کی قوم سے ان زیادتیوں کی غیر مشروط معافی تک مانگ لی پھر بھی بنگلہ دیش کے نسل پرست حکمران ٹولے کا جنون تھمنے کا نام نہیں لیتا۔

ان نسل پرستوں نے اگر تلہ میں اندرا گاندھی سے ساز باز کر کے بغاوت برپا کر دی تا کہ بھارت فوجی مداخلت کر کے پاکستان کا بازو کاٹ دے۔ ادھر عالمی تنظیم اور سلامتی کونسل نے بھارت کی ننگی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 17 کی 39 تا 48 شقوں کے تحت کارروائی نہیں کی جبکہ اس وقت کی اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی قرار داد میں متحاربین کو جنگ بندی کی ہدایت کی تھی۔ مشرقی پاکستان کا سقوط داخلی عاقبت نااندیشی اور بیرونی جارحیت کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ اس میں سوویت یونین اور بھارت کا کردار مجرمانہ تھا جبکہ امریکہ پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سوویت یونین سے جنگ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ جوہری جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔

ابھی تو میں نے مشرقی پاکستان کی نسل پرست تحریک پر پاکستان توڑنے کا الزام لگایا ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ مغربی پاکستان کے حکمران لسانی و نسلی تعصبات سے بالاتر تھے بلکہ سچ تو یہ ہے انہوں نے مشرقی پاکستان کے خلاف مغربی پاکستان کے صوبوں کو ضم کر کے ون یونٹ کے نام سے ایک مصنوعی صوبہ قائم کر دیا۔ اس طرح ایک طرف تو مشرقی پاکستان کے خلاف مغربی پاکستان کو صف آراء کر دیا جس سے جغرافیائی بعد کے ساتھ ساتھ نسلی لسانی خلیج بھی حائل ہو گئی اور اس (مشرق پاکستان) کی اکثریت کو ختم کر کے اس کی مغربی پاکستان کے برابر نمائندگی متعین کر دی۔ نیز یہ پارلیمانی جمہوریت کے اصول کی نفی تھی جسے قائد اعظم نے اپنی 11 اگست 1947ء اور فروری 48ء میں امریکی عوام کے نام خطاب میں تکرار کے ساتھ واضح کر دیا کہ:
’’ پاکستان کی ریاست اپنے عوام کے نمائندوں پر مشتمل ایک جمہوریت ہو گی۔‘‘ پھر مشرقی پاکستان کی 55 فیصد آبادی کی نمائندگی کم کر کے پچاس فیصد کیوں کر دی گئی۔

یہی ناں کہ مشرقی پاکستان کو شراکت اقتدار سے خارج کرایا جائے۔ پھر تو لسانی و نسلی اختلافات نے علاقائی علیحدگی پسندی کی شکل اختیار کرنا ہی تھا۔ یہ مشرقی پاکستان کا نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی نسل پرست قیادت کا تصور تھا۔ جب یحییٰ خان نے مارشل لاء کے ذریعے مشرقی پاکستان کو تناسب آبادی کے اعتبار سے نمائندگی دے دی اور مغربی پاکستان کی مصنوعی اکائی توڑ کر صوبوں کو از سر نو بحال کر دیا تو یہ ایک مستحسن اقدام تھا کیونکہ صوبوں کے انضمام سے سندھ، شمالی مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں لسانی و نسلی جذبات نے علاقائی علیحدگی پسندی کو ہوا دی۔ چنانچہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں فوجی طاقت استعمال کرنا پڑا جبکہ سندھ میں جیے سندھ کی تحریک نے سر اٹھایا اور اب تو بلوچستان کی طرز پر سندھ میں بھی آزاد سندھ فوج قائم ہو گئی۔

لسانی، نسلی تعصب اندرون سندھ مہاجر سندھی فسادات کا موجب بنا اور شورش زدہ علاقوں سے پنجابی اور مہاجر آباد کار نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ ان عوامل نے کراچی میں مخلوط النسل آبادی میں فسادات کی آگ بھڑکا دی اور بیروت کی طرح یہ شہر مہاجر، سندھی، بلوچ، پنجابی اور پختون محلوں میں بٹ گیا۔ کیا قصبہ کالونی ، علی گڑھ کالونی، بنارس کالونی اور حیدر آباد میں پرانا قلع اقلیتی نسل کا مقتل نہیں بن گئے۔ کیا مہاجر صوبے اور کراچی کی علیحدگی کے نعرے اب بھی نہیں گونج رہے ہیں۔ یہ کیا بلوچستان میں اغوا، نسلی تطہیر اور ماو رائے عدالت قتل کی وارداتیں تھم گئی ہیں۔ اس پر مستزاد فرقہ وارانہ تنظیموں نے اپنی اپنی قاتل ملیشیائیں بنا لی ہیں اور اب کوئٹہ اور کراچی میں اس طرح فرقہ وارا نہ تنظیمیں تشکیل پا رہی ہیں جس طرح لسانی و نسلی بنیادوں پر بن گئی ہیں۔

قائد اعظم نے صوبائی خود مختاری پر ہمیشہ بہت زور دیا۔ مطالبہ پاکستان سے کئی عشرے قبل انہوں نے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی پر زور تحریک چلائی اور اس کی صوبائی حیثیت کو بحال کر کے ہی دم لیا۔ کیا سندھ کا ون یونٹ (ایک کافی) یعنی مغربی پاکستان میں انضمام قائداعظم کے تصور کے منافی نہیں تھا؟ اسی طرح قائد نے اپنے 14 نکات میں شمالی مغربی سرحدی صوبے سندھ کو برصغیر کے دوسرے صوبوں کے مساوی حیثیت دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا؟ پھر ان صوبوں کو ون یونٹ میں کر دینا قائد کے چودہ نکات کی سنگین خلاف ورزی نہ تھی؟ اگر 1955ء کا پاکستان کے نقشے کا قائداعظم کے پاکستان کے نقشے سے موازنہ کیا جائے تو دونوں میں کتنا واضح فرق نظر آتا ہے۔

قائد اعظم کے پاکستان میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور شمالی مغربی سرحدی صوبے اپنی جغرافیائی حدود، ثقافت ، زبان اور تاریخ اپنے اپنے تشخص برقرار رکھے ہوئے تھے۔ اگر حیات نے وفا کی ہوتی تو قائد اعظم علاقائی خود مختاری پر مبنی ایک جمہوری وفاق پر مبنی آئین تشکیل کر دیتے لیکن وہ قوم پر اپنی مرضی نہیں تھوپنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے یہ اختیار قوم کے نمائندوں کو دے دیا تھا کہ وہ پارلیمانی جمہوری خطوط پر مبنی آئین وضع کریں۔ چونکہ وفاق مختلف النسل اور مختلف اللسان قومیتوں پر مشتمل تھا اس لیے انہیں مربوط کرنے کے لیے اسلام ناگزیر ہو گیا۔

قائد اعظم فرقہ وارانہ اور مسلکی تنازعات کے سخت مخالف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تحریک پاکستان میں کیا شیعہ ، کیا سنی، کیا دیو بندی تو کیا بریلوی سبھی شامل تھے۔ پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان بننے کے بعد وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ یہ فرقہ واریت تحریک پاکستان کی روح کے خلاف تھی۔ چنانچہ قائداعظم کی رحلت کے بعد جمہور علماء نے 1951ء میں اسلامی دستور سازی کے لیے 21 نکاتی فارمولا وضع کیا جس پر تمام مسالک کے طلباء کا مکمل اتفاق تھا۔ اور قوم کسی نہ کسی طرح 1972ء میں ایسا آئین وضع کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

اب اگر آج کوئی اپنا مسلک اور اپنی فقہ ساری قوم پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے یا پاکستان کی وحدت کو لسانی اور نسلی بنیادوں پر نوازنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ساری قوم کے خلاف برسر پیکار تصور کیا جائے گا۔ ابھی تک فرقہ وارانہ تنظیموں نے ملک توڑنے کی بات تو نہیں کی لیکن ملک میں خانہ جنگی برپا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن لسانی اورنسلی علیحدگی پسندی کو اندرون ملک آزاد خیال (لبرلزم) طبقے اور چند غیر ملکی رقوم پر پلنے والی غیر سرکاری ایجنسیوں نے جس طرح ہوا دی ہے وہ قائداعظم کے تصور پاکستان کی صریحاً نفی ہے یہ طبقہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جامعات کا پلیٹ فارم تک استعمال کرتا ہے اور بعض غیر ملکی انجمنیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں بین الاقوامی سیمینار کرا کر اپنے ایجنڈے کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ملک میں سیکولرزم اور بنیاد پرستی کے تصادم کو ختم کرنے کی بجائے اسے ہوا دیتی ہیں۔ روس کے صدر پیوٹن نے ان غیر ملکی انجمنوں پر پابندی عائد کر دی ہے لہٰذا قائد اعظم کا پاکستان بچانے کے لیے حکومت کوبھی ملک دشمن عناصر پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور غیر ملکی سیمیناروں میں شرکت پر نظر رکھنی چاہیے ۔ میری مراد مخالفت نہیں ہے، ملی سیمینار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

پروفیسر شمیم اختر

"بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.