Header Ads

Breaking News
recent

یہ جنگ پاکستان کو اکیلے ہی لڑنا ہوگی؟....


عجیب منظر، عجیب ماحول اور مستقبل کے بارے میں بھی عجیب آثار نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی کے ایک مشکل اور چیلنجوں سے بھرپور دور میں داخل ہورہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم کو خود اپنے ہی وسائل سے اکیلے ہی یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ قومی یکجہتی کے ساتھ پرعزم ہو کر حالات کا بہادری سے مقابلہ کرنے اور مخالف قوتوں سے نمٹنے کا فیصلہ درست اور سر آنکھوں پر لیکن پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تاریخ گواہ ہے کہ زمینی حقائق خواہ کتنے ہی تلخ ہوں ان کو پیش نظر رکھ کر فیصلے اور حکمت عملی سے کرنا ہی دانشمندانہ طریقہ قیادت اورکامیابی کی علامت کہلاتا ہے۔ کسی بھی عسکری آپریشن کی حکمت عملی طے کرتے وقت ناموافق زمینی حقائق کو موافق زمینی حقائق سے پہلے اور زیادہ تفصیل سے پیش نظر رکھا جاتاہے پھر موافق زمینی حقائق اور ایکشن کے مطلوبہ مقاصد کا فیصلہ ہوتا ہے اور قومی اتحاد و عزم کے ساتھ ایکشن کا آغاز ہونا زیادہ عملی اور بہتر طریقہ ہے۔خدا کرے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قیادت اور قوم مکمل کامیابی سے ہمکنار ہو۔ اردگرد کے عجیب منظراور ماحول میں ناموافق تبدیلیوں، دشمن کے وسائل اور پراکسی(PROXY) جنگ میں مخالفین کے سرپرستوں اور معاونین کو بھی پیش نظر رکھنا انتہائی لازمی ہے۔

عجیب منظر ہے کہ پشاور سے کئی ہزار کلومیٹر دور امریکہ اور کینیڈا میں آباد ہر پاکستانی خاندان اور ہر فرد سوگوار ہے۔ نہ صرف نیویارک میں ہی ٹائمز کے اسکوائر، بروکلین، لانگ آئی لینڈ، جیکسن ہائٹس اور مین ہٹن میں پشاور میں شہید ہونے والے معصوم طلبہ کی مغفرت ، تعزیت ،یکجہتی اور احتجاج کا اظہار کیا گیا بلکہ نیو یارک کے چرچوں میں بھی پاکستانی نژاد مسیحی برادری نے تعزیت اور دعا کے ساتھ ساتھ معصوم جانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پر احتجاج بھی کیا ۔ متعدد پاکستانی مسلمان بھی چرچوں کے ان اجتماعات میں شریک ہوئے۔ امریکہ و کینیڈا کے اسکول سسٹم میں زیرتعلیم کئی لاکھ پاکستانی نژاد بچے ایک ٹروما کا شکار ہیں کہ جب ان کے غیر پاکستانی ساتھی طلبہ پشاور کے واقعہ کا ذکر کر کے ان سے کوئی سوال کرتے ہیں اور پاکستانیوں کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ تو پاکستانی والدین کے یہ بچے عجیب صورتحال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ کیا وہ خود کو پاکستان، اپنی پاکستانیت اور والدین کے پاکستانی ہونے سے قطع تعلق کر کے یہ کہہ دیں کہ ہم تو امریکی اور کینیڈین ہیں یا پھر وہ اسکول جانا بند کر کے اپنے گھر بیٹھ جائیں۔
دوسرے غیر پاکستانی بچے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ یہ مسلمان ناموں والے مسلح افراد مسلمان ناموں کے حامل ان بے گناہ اور معصوم طلبہ کو کیوں گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں؟ یہ تمام دہشت گرد مسلمان نام والے ہی کیوں ہیں؟ کیا تم پاکستان جائو گے؟ کیا تمہارے والدین کے آبائی علاقوں میں بھی ان کے ہمسایوں میں کوئی دہشت گرد بھی رہتا ہے؟ پشاور کے اسکول کے طلبہ نے کیا قصور کیا تھا؟ ان سوالات نے پاکستانی بچوں اور والدین کیلئے ایک ٹروما کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اگرچہ ان سب کے دل آبائی وطن پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں مگر ان سوالات کا کوئی مربوط جواب موثر موقف نہیں ملتا۔ 

وہ پشاور سے اتنی دور امریکہ و کینیڈا میں کہیں زیادہ پرامن اور محفوظ رہ کر بھی پشاور کے سانحہ کے شہیدوں اور متاثرین کے ساتھ تعزیت ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کررہے ہیں۔

عجیب تبدیل ہوتا ہوا ماحول ہے اور اس کا ایک واضح ثبوت 16؍دسمبر کو امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان ایئر ایڈمرل کربی کی وہ بریفنگ ہے جو انہوں نے پشاور کے اسکول میں انسانیت سوز دہشت گردی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے دی ہے۔ ان کی طویل پریس بریفنگ کا لب لباب یہ ہے کہ امریکہ اب طالبان سے صرف اس لئے نہیں لڑے گا اور نہ ہی اس لئے انہیں مارے گا کہ وہ طالبان ہیں۔

اگر طالبان براہ راست امریکہ پر حملہ نہیں کریں گے تو امریکہ ان سے نہیں لڑے گا۔ البتہ امریکی شہریوں، امریکی تنصیبات ، فوجیوں پر حملہ یا تصادم کو براہ راست امریکہ سے تصادم تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کے عوام ایک عرصہ سے دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کررہے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں کسی مدد یا تعاون کی درخواست امریکہ کو موصول نہیں ہوئی۔ افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اب خاصے وسائل، تربیت اور طالبان سے لڑنے اور نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان سے تعلقات کی اونچ نیچ کے باوجود امریکہ نے پاکستان سے تعلقات اور ڈائیلاگ مسلسل رکھا ہے۔ میری نظر میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان ایئرایڈمرل کربی کی اس بریفنگ کا واضح پیغام ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا دوطرفہ افغان۔

امریکہ سیکورٹی معاہدہ ہے لہٰذا امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ بھی لڑے گا۔ افغان سیکورٹی فورسز کی مدد بھی کرے گا اور اگر طالبان نے امریکی فوجیوں ، مشیروں اور تنصیبات پر کوئی حملہ کیا تو یہ حملہ امریکہ کے خلاف جنگ تصور ہوگا ۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں پر ہمیں افسوس ہے ہم مذمت کرتے ہیں کہ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو یہ جنگ اکیلے ہی اور خود اپنے وسائل سے لڑنا ہوگی۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان کی جانب سے امریکہ کو تعاون یا مدد کی کوئی درخواست بھی موصول نہیں ہوئی۔ امریکہ ماضی کی اس پالیسی کو تبدیل کررہا ہے کہ جب صرف طالبان ہونا جرم تھا۔ اب اچھےاور برے طالبان کا فرق اپنایا جائے گا۔ جو طالبان براہ راست امریکہ پر حملہ نہیں کریں گے۔ انہیں امریکہ کچھ نہیں کہے گا۔ صرف ان برے طالبان کو امریکی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا جو امریکی شہری فوجی اور تنصیبات و مفادات پر حملہ کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

اب ذرا زمینی حقائق پر نظر ڈال لیں کہ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کی آمد کے بعد پاک۔ افغان تعلقات میں ناگواری کی جگہ بہتری نے لی مگر افغانستان اپنے تمام سیکورٹی فیصلوں میں امریکی معاہدے کا پابند ہے۔ دس سال تک دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے اتحادی اور فرنٹ لائن کے ملک کے طور پر اس جنگ میں مکمل شرکت اور اپنی سرزمین تک رسائی دینے کے باوجود اب پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اکیلے طور پر لڑنا ہے جبکہ بھارت جیسا ہمسایہ ملک اپنا خاموش اور اعلانیہ رول بھی ادا کررہا ہے۔ دہشت گردوں کو امریکہ کی نئی پالیسی کے تحت صرف پاکستان کے خلاف اپنی تمام تر دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا موقع مل گیا ہے جہاں وہ اپنی سابقہ ناکامیوں اورتلخیوں کا انتقام لینے کی کوشش کریں گے۔ امریکی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان امریکہ سے مدد اور تعاون کی درخواست کرے مگر اس بات کا پورا پورا امکان ہے کہ ایسی مدد اور تعاون کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے معاملات بھی متاثر ہو جائیں وجہ صاف ظاہر ہے اور موقف یہ کہ انہیں دہشت گردوں کی پہنچ سے بچانا ہے۔

پاکستان کی معیشت کرپشن،دھرنا اور سیاسی خلفشار کے اثرات کا شکار ہے اور ابھی مزید مشکل حالات اور چیلنجوں کا خطرہ موجود ہے۔پاکستانی فوج تو گزشتہ 10سال سے زیادہ عرصے سے جنگ میں مصروف ہے۔ پیرا ملٹری فورسز۔ رینجرز اور پولیس بھی داخلی سطح پر جس صورتحال سے دوچار ہے وہ بھی کوئی اچھی صورت نہیں۔گویا قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کیلئے صورتحال ٹھیک نہیں اور دہشت گردی پاکستان میں شدت پکڑ رہی ہے۔ جیلوں میں سزا یافتہ دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل کرنے کا کام بھی جاری ہے۔ حکومت کی رٹ بھی کمزور نظر آرہی ہے اور چیلنج ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا اور ایٹمی اثاثوں کو محفوظ رکھتے ہوئے خطے میں پاکستان کا وجود قائم رکھنا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انتہائی ناموافق صورتحال میں جنگ عظیم کے دوران لندن ہٹلر کی بمباری کا شکار ہوا مگر عوام کے عزم اور دانشمندانہ سیاسی قائدین کی بدولت لندن آج بھی آباد اور دنیا کا ایک اہم مرکز ہے۔ پاکستان کے عوام میں تو عزم بھی ہے اور مشکل ترین حالات میں زندہ رہنے، صبر کے ساتھ امید سے وابستہ رہنے کا حوصلہ بھی ہے۔ صرف دانشمندانہ محب وطن فوجی اور سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنے ہی محدود وسائل میں رہ کر ملک کو بچا کر تعمیر کرنے کیلئے فیصلے کر سکیں۔

ورنہ 16 دسمبر 1971ء کے سانحہ بنگلہ دیش کی طرح لاعلمی اور جذباتی انداز کے فیصلوں اور عمل کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ خوش خیالی کے خوابوں سے جاگ کر ناموافق حالات کا تجزیہ کرکے تحفظ کی ضرورت ہے۔

عظیم ایم میاں
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.