Header Ads

Breaking News
recent

ناٹو کی آہنی دیوار اور روس کا گھیرائو......

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے روسی عوام کو متنبہ کیا ہے کہ اُن کے وطن کے گرد دشمن یعنی امریکہ اور ناٹو نئی آہنی دیوار قائم کررہے ہیں جس سے اُن کو مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں، لہٰذا انہیں ایسے وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پیوٹن نے ناٹو استعماری ٹولے پر الزام لگایا کہ وہ سابق یوگوسلاویہ کی طرح روس میں علیحدگی پسندوں کے ذریعے اس کے حصے بخرے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنے ملک سے سرمائے کی منتقلی روکنے کے لیے اعلانِ عام کردیا کہ اگر اس سرمائے کو وطن واپس لایا گیا تو اس کے مالکان سے کوئی بازپرس نہیں کی جائے گی اور متعلقہ سرمائے پر انکم ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ انہوں نے کریمیا کے روس سے انضمام کو حق بجانب قرار دیا۔  

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روس نے گورباچوف کے زمانے میں امریکہ اور ناٹو کی اس یقین دہانی کو باور کرتے ہوئے کہ چونکہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد سرد جنگ ختم ہوگئی ہے، معاہدۂ وارسا کو تحلیل کردیا۔ یہ گوربا چوف کی سادہ لوحی تھی کہ انہوں نے امریکہ اور ناٹو کے اس زبانی وعدے پر اعتبار کرلیا کہ ناٹو مشرقی یورپ کی سابقہ اشتراکی ریاستوں کو ناٹو فوجی معاہدے میں بھرتی نہیں کرے گا۔ لیکن جلد ہی ان کی خوش فہمی دور ہوگئی جب امریکہ نے رو س سے متصل ریاستوں LATVIA ‘LITHUANIA اور ESTONIA کو ناٹو میں شامل کرلیا اور پولینڈ، ہنگری، بلغاریہ، چیک وغیرہ جمہوریائوں کو رکنیت دے دی اور وہاں اپنی فوجی تنصیبات قائم کردیں، یہاں تک کہ امریکہ نے 26 مئی 1975ء کو کیے گئے میزائل شکن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولینڈ اور چیک جمہوریہ میں میزائل شکن ڈھال اور ریڈار نظام نصب کرکے روس کے مقابلے میں برتری حاصل کرلی۔ 

اس میں روس کی قیادت کا ہی قصور ہے کہ اس نے امریکہ کے ان جارحانہ اقدامات کی مزاحمت نہیں کی، یہاں تک کہ ناٹو کی رکنیت جو سرد جنگ کے دور میں 16 مغربی یورپی ریاستوں تک محدود تھی بڑھ کر 28 تک پہنچ گئی۔ اس وقت بھی روس کی طرف سے کوئی مؤثر مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ بورس یلسن کے زمانے میں تو ناٹو یورپی امن میں شراکت دار بن گیا، گو اُسے ناٹو میں کیے گئے حساس نوعیت کے فیصلوں میں کبھی شریک نہیں کیا گیا۔ امریکہ کی مزاحمت تو کجا روس امریکہ کی نام نہاد انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف امریکہ کا حلیف بن گیا اور اسی ہلے میں اس نے شیشان سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر بھرپور حملہ کردیا۔ ادھر عوامی جمہوریہ چین بھی ناٹو کی توسیع پر چپ سادھے رہا البتہ علیحدگی پسندی، مذہبی انتہا پسندی سے نپٹنے اور رکن ممالک یعنی تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور روس سے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے لیے معاہدہ کرلیا جو شنگھائی معاہدے کے نام سے موسوم ہے۔ 

کہنے کو تو اس معاہدے کا مقصد امریکہ اور ناٹو کی توسیع پسندی کی مزاحمت تھا، لیکن اس کی ساری طاقت شیشان، تبت اور زنجیانگ میں قومیتوں کی جدوجہدِ آزادی کو کچلنے میں ضائع ہوگئی ۔ ادھر یورپ میں روس نے بوسنیا پر سربیا کی جارحیت کی بھرپور حمایت کرکے یہ ثابت کردیا کہ روس، چین اور امریکہ طاقت اور جارحیت پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان میں سے کوئی کمزور اقوام کا دوست نہیں ہے۔ اس سے روس اور چین نے تیسری دنیا کے عوام کی ہمدردیاں کھودیں۔ 

کہنے کو تو عالمی رائے عامہ بڑی طاقتوں کی جارحیت نہیں روک سکتی، لیکن جب وہ متحرک ہوجاتی ہے تو استعماری طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کردیتی ہے، جیسے امریکہ کو ویت نام اور اب افغانستان سے، روس کو افغانستان سے، اور چین کو ویت نام میں عوامی قوتوں سے شکست کھا کر پسپا ہونا پڑا۔
روس کے حکمران تو سوویت یونین کو توڑ کر اور ناٹو ٹولے سے شراکتِ امن کرکے سمجھ بیٹھے تھے کہ اب دونوں سابق حریف حلیف بن کر افرایشیائی لاطینی امریکی اقوام پر اپنا اپنا تسلط قائم کرلیں گے، لیکن چونکہ دونوں ہی کی نیت میں کھوٹ تھی اس لیے مالِ غنیمت کی تقسیم پر لڑ پڑے۔

 ناٹو نے بقول گوربا چوف روس کی جانب فاتحانہ رویہ اختیار کیا اور یوکرین کو بھی اپنے ٹولے میں شامل کرنا چاہا تو صدر پیوٹن جن میں گوربا چوف اور یلسن کے مقابلے میں زیادہ قومی غیرت ہے، ڈٹ گئے اور ناٹو قزاقوں کو سرخ لائن سے آگے قدم رکھنے سے منع کردیا۔ اس پر روس کے ازلی دشمن جرمنی اور امریکہ بڑے چیں بہ جبیں ہوئے اور غصے میں اتنے اندھے ہوگئے کہ انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ اگر روس نے یوکرین اور یورپ کو گیس کی فراہمی بند کردی تو اوباما ان کا چولہا جلانے کیسے آئے گا، البتہ انہیں گراں قیمت پر تھوڑی بہت گیس فروخت کرکے اپنا مقروض بنالے گا۔ جب امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے بینکوں پر پابندی عائد کردی تو روس نے یورپی یونین سے سبزی اور پھلوں کی درآمد ممنوع قرار دے دی اور یوکرین سے گیس کے بقایا جات کا تقاضا شروع کردیا تو انہیں دن میں تارے نظر آنے لگے اور روس کو گیدڑ بھبکیاں دینے لگے کہ وہ روس سے گیس نہیں خریدیں گے۔ 

چنانچہ روس نے عوامی جمہوریہ چین سے گیس کی خریداری کا طویل المدت معاہدہ کرلیا۔ نیز روس نے اپنے اقتصادی اور سیاسی مقاطع کی امریکی اور یورپی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اُن ریاستوں سے رجوع کرنا شروع کردیا جنہیں وہ اپنا مخالف سمجھتا تھا اور منہ نہیں لگاتا تھا، یعنی ترکی اور پاکستان۔ ولادی میر پیوٹن استنبول پہنچے اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے کھل کر توانائی اور تجارت سے متعلق تعاون پر زوردیا اور باہمی تجارت کو 2013ء کے حجم 23.7 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاقِ رائے کیا۔ (ڈان، یکم دسمبر 2014ئ) دونوں سابق حریفوں کی اس قلابازی پر اہلِ مغرب کو حیرت کا جھٹکا ضرور لگا، لیکن یہ دائو پیچ تو انہوں نے استعماری ٹولے سے ہی سیکھا ہے۔ اس سے قبل روس کے وزیر دفاع نے اسلام آباد میں قدم رنجہ فرمایا اور اپنے پاکستانی میزبانوں سے گن شپ ہیلی کاپٹر کا سودا کر ڈالا اور مزید سامانِ حرب کی فراہمی اور دیگر شعبوں میں تعاون کا وعدہ کیا۔

 ترکی کی طرح روس نے پاکستان سے بھی دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کا یقین دلایا۔
اگر اسے ترکی اور پاکستان امریکہ اور یورپ سے سودے بازی کے لیے بطور کارڈ نہ استعمال کریں تو اس سے خطے کے تزویراتی توازنِ طاقت میں مثبت تبدیلی رونما ہوسکتی ہے، لیکن میری رائے میں ان دونوں ممالک کے حکمراں امریکہ کا دامن نہیں چھوڑ سکتے۔

جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو وہ اپنے قومی مفاد کا تحفظ بخوبی کرسکتا ہے۔ یاد رہے جب اس نے جولائی 1974ء میں قبرص کی ترک نژاد اقلیت کی نسل کشی روکنے کے لیے فوجی مداخلت کی تھی تو امریکہ نے اس کی فوجی اور اقتصادی امداد بند کردی تھی، لیکن اس کے باوجود ترکی اپنے مؤقف پر قائم رہا اور بالآخر امریکہ کو 1975ء میں امداد بحال کرنی پڑی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے امریکہ اور یورپ سے ہر شعبے میں باہمی انحصار پر مبنی تعلقات استوار کیے تھے جنہیں یوکرین بحران کے باعث آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ اسے فرانس سے ہیلی کاپٹر بردار طیارے کی فراہمی میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے (ڈان 6 دسمبر 2014ئ)۔ بات یہ ہے کہ روس اور چین کو اب اس غلطی کا احساس ہوچلا ہے کہ انہوں نے سرمایہ دار ٹولے سے مفاہمت کرکے عالمی نظام کو تقویت پہنچائی جس سے استعماری ٹولہ مستحکم ہوگیا، جبکہ انہیں کثیر القطبی نظام قائم کرنا چاہیے تھا جو بنڈونگ ایشیائی کانفرنس کے اعلان کردہ پنج شیلہ پر تشکیل پاتا جس میں ہر ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ اور اس کی علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ ساتھ عدم جارحیت‘ عدم مداخلت اور مختلف سیاسی اور اقتصادی نظام کے مابین پُرامن بقائے باہمی کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ اب بھی ممکن ہے اگر روس اور چین ایک متبادل مالی نظام قائم کریں جس میں تیل سے مالامال ممالک اپنے وسائل بروئے کار لاکر عدل پر مبنی اقتصادی نظام قائم کریں۔

پروفیسر شمیم اختر

No comments:

Powered by Blogger.