Header Ads

Breaking News
recent

کتابیں ہیں چمن اپنا!....


کیرن ہوف سٹائن - ترجمہ: سید ابو الہاشم 

نیویارک کا سٹرانڈ بک سٹور پانچ منزلوں پر مشتمل نادر و نایاب کتابوں اور ادبی مجالس کی بنا پرایک اہم مرکز بن چکا ہے  سٹرانڈ بک سٹور کے اندر کی حالت اچھی نہیں ، اس کی فرش گھسی ہوئی ہے۔ کتابوں کی میزیں پرانی ہیںاور کرسیاںصرف بیٹھنے کے لائق،لیکن یہ چیزیں اس کتب خانہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہی کرتی ہیں۔ دنیا بھر سے جو لوگ پہلی بار اس کتاب کی دکان میں آتے ہیں، انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ پہلے بھی کبھی یہاں آئے ہوں۔  

ذرائع ابلاغ میں اس طرح دکھائے جانے کی وجہ سے83 سال پرانی یہ دکان ایک روایتی کتب خانے کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ یہ سادہ سی عمارت بروڈوے اور ایسٹ 12سٹریٹ کے کنارے واقع ہے ،جس کی پانچ منزلوں میںسٹرانڈ بک سٹور ہے۔ ان میں سے چارمنزلیں عوام کیلئے کھلی ہوئی ہیں۔چھتیں اونچی ہونے کی وجہ سے کتابوں کے خانے ڈھائی میٹر تک اونچے ہیں۔ وہاں ہمیشہ ایک سیڑھی دستیاب رہتی ہے، جس کے ذریعہ گاہک چاہیں تو سب سے اونچی طاق پر رکھی کتابوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ سٹرانڈ بک سٹور کے مالک فریڈ باس کا اندازہ ہے کہ سٹرانڈ بک سٹور میں جو کتابیں ہیں ، انہیں اگر زمیں پربچھا دیا جائے تو18 میل یا تقریباً 29کلو میٹر تک پھیل جائیں گی۔

 اس بک سٹور کا لوگو جو تھیلوں ،مگ اور ٹی شرٹ پر چھپا ہوا ہے،اس میں ایک سرخ رنگ کی بیضوی شکل بنی ہوئی ہے، جس پر ’’18 مائلس آف بکس ‘‘لکھا ہے۔یہ کتب خانہ1927ء میں باس کے والد بن نے قائم کیا تھا۔ اس کتب خانے کا نام اشاعتی گھرانوںکے لئے مشہور لند ن کی ایک سڑک کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اب باس فیملی کی تیسری نسل یہ کتب خانہ چلا رہی ہے اور اس میں بین الاقوامی قارئین کے ذوق کی تسلی کا سامان ہے۔پیرس میں سینی ندی کے کنارے واقع کتاب کی دکانوں سے متاثر ہوکر اس اسٹور نے بھی سنٹرل پارک کے قریب اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی کتاب کی دکانیں چلانے کا اہتمام کیا ہے۔

 سٹرانڈ بک سٹور کی کتابوں کے خریدار بڑے وفا دار ہیں اور اس سٹور کے بارے میں اپنے احساسات کو بیان کرنے کیلئے لفظ محبت کا بار بار استعمال کرتے ہیں۔ امبرٹو ایکو،فرین لیبووز اور فرینک میکو سمیت اہم مصنفین نے کہا ہے کہ یہ ان کا پسندیدہ کتب خانہ ہے۔ اس میں تواتر کے ساتھ مصنفین کو اپنی تخلیقات پڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ان مصنفین میں ڈیوڈ سیڈارس، جیمس ایل رائے اور جھمپا لہری بھی شامل ہیں۔ سٹرانڈ میں چک کلوز سے کرسٹو اور جین کلائوڈے جیسے آرٹسٹوں تک نے اپنے فن پاروں کی نمائش کی ہے۔ یہاں ہونے والی نظم خوانی ، افسانے کی قرأت ، خطبات اور نمائشوں میں بڑے پیمانے پر لوگ شریک ہوتے ہیں اور جو ذاتی طور پر وہاں نہیں پہنچ سکتے ،ان کے لئے سٹرانڈ کی ویب سائٹ کسی بھی تقریب کے انعقاد کے دوران ساتھ ساتھ اس کی ترسیل و تشہیر کا اہتمام کرتی ہے۔

سٹرانڈ بک سٹور لوگوں کے لئے یہ سہولت بھی فراہم کرتا ہے کہ اگر وہ تقریب میں شریک نہ ہوسکیں ،تو بھی انہیں کتابوں کے دستخط شدہ نسخے پہلے سے دیئے گئے آرڈر کے تحت دستیاب ہوجاتے ہیں۔نینسی باس وائڈن نے ، جو اپنے والد کے ساتھ مل کر سٹرانڈ بک سٹور چلا رہی ہیں کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ اپنے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کتب خانہ کتابوں کے شیدائیوں کا پسندیدہ کتب خانہ ہے۔ ہمارا صرف ایک ہی سٹور ہے، جسے ہمارا خاندان آزادانہ طریقے سے چلاتا ہے۔ ہم تمام کتابوں کی قیمتوں میں رعایت دیتے ہیں۔ ‘‘ ایک ایسے شہر میں جہاں صنعتی گھرانوں کی ملکیت میں ان گنت کتب خانے ہیں۔ سٹرانڈ بک سٹور نہ صرف باقی ہے بلکہ ترقی بھی کر رہا ہے۔ 

یہاں ایسی کتابیں اور خدمات پیش کی جاتی ہیں، جو دوسرے سٹورز میں نہیں ملتیں۔ سٹرانڈ بک اسٹور صرف نئی کتابیں ہی نہیں فروخت کرتا بلکہ وہ کتابیں بھی یہاں مل جاتی ہیں، جن کی کاپیاں ختم ہوگئی ہوں یا جن کے ایڈیشن نادر ہوں۔سٹرانڈ بک سٹور اپنے گاہکوں کے لئے لائبریریاں قائم کرنے کا اہتمام بھی کرتا ہے اور پاپ سٹار موبی جیسی مشہور شخصیتوں نے اپنے گھروں میں لائبریری کے قیام کیلئے اس کی خدمات حاصل کی ہیں۔وائیڈن کہتے ہیں کہ ’’یہ خیال ہی سچ مچ بڑا پر جوش کردیتا ہے کہ جن کتابوں کو ہم پسند کرتے ہیں انہیں کسی اور کی طاق پر سجایا جائے۔ یہاں تقریباً ہر کوئی کالج کا ڈگری یافتہ ہے اور ادب میں اس سے بھی اوپر کی ڈگری لے رکھی ہے۔ اس لئے ہم لوگ صرف کتابیںبیچتے ہی نہیں ان سے پیار بھی کرتے ہیں۔‘‘ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ سٹرانڈبک سٹور کا انٹر نیٹ کاروبار بھی خوب ترقی کر رہا ہے اور کچھ کتابوں کو چھوڑ کرسٹرانڈ کی تقریباً تمام کتابیں آن لائن دستیاب بھی ہیں۔ 

آرٹ سے متعلق کتابیں خاص طور سے بہت مقبول ہیں اور اس سٹور میں آرٹ بک کا جو حصہ ہے، وہ دُنیا میں سب سے بڑے آرٹ بک سیکشنوں میں گنا جاتا ہے۔ وائیڈن نے بتایا کہ ’’اس کتب خانے میں پہنچ کر کتاب کی خریداری کرنے کا جو مزہ ہے وہ آپ کو انٹر نیٹ پر نہیں مل سکتا اور وہ ہے کتابوں کو چھونے کا لمسی تجربہ۔کچھ لوگ یہاں ہر روز آتے ہیں اور ان کو کسی خلاف معمول چیز کی تلاش ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح سے کسی خزانے کی تلاش ہے۔ ‘‘ سٹرانڈ بک سٹورمیں آنے والوں کی دلکشی کا ایک نمایاں مرکز اس سٹور کی تیسری منزل پر واقع نادر کتابوں کا کمرہ ہے۔

 اس کمرے کی دیکھ بھال کا کام ماہرین کی ایک ٹیم کرتی ہے۔ دیوار پر ایک اشاریہ لکھا ہے ’’ہر کسی کیلئے قابلِ حصول کتابیں ‘‘ اس کمرے کے بیچ میں ایک ’’گولڈ والٹ ‘‘ ہے، جو کہ ایک بینک کی سابق تجوری ہے۔ اس کے اندر اس سٹور کی انتہائی گرانقدر کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ گولڈ والٹ کی کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھیں تو اس کے اندر ’’اولی سیس‘‘کی ایک کاپی رکھی ہوئی ہے، جس پر جیمس جوائس اور ہنری میٹیسے کے دستخط ہیں۔ یہاں’’گان وتھ دی ونڈ‘‘ کا پہلا ایڈیشن ہے اور مارک ٹوائن کی کتابوں کا پورا سیٹ ہے، جس پر مصنف کے قلمی نام اور حقیقی نام سیمویل کلیمنس کے دستخط ہیں۔

وائیڈن نے نارمن میلر کی دستخط شدہ 150ڈالر کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ڈھیر ساری پرانی کتابیں سچ مچ قوت خرید کے اندر ہیں۔ یہ با معنی کتابیں ہیں،جن کتابوں پر دستخط ہیں ،وہ ایک طرح سے مصنفین کے ساتھ رابطے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ‘‘ اپنے سٹاک کو برقرار رکھنے اور اسے بڑھانے کے لئے سٹرانڈ ہزاروں کی تعداد میں استعمال شدہ کتابیں خریدتا ہے۔کتابوں کی خریداری کا شعبہ ہفتے میں6 دن کھلا رہتاہے۔ بہت سے گاہک ایسے ہیں، جو یہاں سے کتابیں خریدتے ہیں اور پھر یہیں لاکر بیچ بھی دیتے ہیں۔ وائیڈن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’ ہم لوگ اس کے بارے میں ’ری یوز ،ری سائیکل ، ری ریڈ‘ہی کہنا پسند کرتے ہیں۔ ‘‘  ٭

No comments:

Powered by Blogger.