Header Ads

Breaking News
recent

دسمبر 1971ء کی یادیں....جب 4 آرمی ایوشین سکواڈرن نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا

جب 4 آرمی ایوشین سکواڈرن نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ***** 16 دسمبر1971 ء کو ڈھاکہ ہوائی اڈہ کی تباہی کے بعد مشرقی پاکستان میں تمام فوجی نقل و حرکت ہتھیاروں کی سپلائی، زخمیوں کی مدد اور جنگی مشنِ کا واحد ذریعہ 4 آرمی ایوشین سکواڈرن رہ گیا، جس نے ہنگامی حالت کے آغاز سے چٹاگانگ، بیراب بازار فینی ،بارسیال اور بلونیا میں اپنے صرف چار MI-8 ہیلی کاپٹروں اور تین چھوٹے چھوٹے ہیلی کاپٹروں سے 861 جنگی مشن بڑی دلیر ی اور مہارت سے انجام دئیے اورGALLANT کا خطاب حاصل کیا۔ 14 دسمبر کی شام جنرل نیازی نے ایڈمرل شریف، ائیرمارشل انعام الحق اور جنرل راؤ فرمان کی موجودگی میں آرڈر دیا کہ 16 دسمبر سے پہلے سب جنگی جہاز، ٹینک، توپیں، ہیلی کاپٹرز اور بھاری اسلحہ تباہ کردیا جائے اور تمام پاکستانی یونٹ اپنی اپنی جگہ بھارتی فوج کے سامنے 16 دسمبر کو ہتھیار ڈال دیں۔

یہ حکم سب کے لئے نہایت مایوس کن تھا۔ میں نے بطورِکرنل 4ایوشین سکواڈرن، جنرل نیازی کو مشورہ دیا کہ بجائے ہیلی کاپٹروں کو تباہ کرنے کے ہم ان کو برما کے راستے پاکستان لے جاسکتے ہیں۔ ائیرمارشل انعام الحق پی۔
اے۔ایف کمانڈر مشرقی پاکستان نے ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پراسے ناقابلِ عمل اور نہایت خطر ناک اور خودکش پلان قراردیا کیونکہ ہمارے ہیلی کاپٹروں میں ایسے آلات نہ تھے ،جس سے تاریکی میں کسی زمینی یا ریڈیو کی مدد کے بغیر بحفاظت برما پہنچ سکیں۔ بغیر کسی روشنی کے پرواز کے دوران ہیلی کاپٹروں کا ٹکرانے کا خدشہ بھی تھا۔ چھوٹے ہیلی کاپٹروں میں دو گھنٹے کی پرواز ممکن تھی جبکہ اکیاب برما کا سفر چار گھنٹے کے قریب تھا علاوہ ازیں بھارتی نیوی کا ایر کرافٹ کیریرــــــــــ "وکرانت"ـ VIKRANT شہر COXS بازار میں لنگر انداز تھا تاکہ کوئی پاکستانی جہاز بنگلہ دیش سے نکلنے نہ پائے۔ ایئر ایڈمرل شریف، نیول چیف مشرقی پاکستان نے مشورہ دیا کہ آرمی ایو شین سکواڈرن کمانڈر کو اسکے ہیلی کاپٹروں اور پلان کا ہم سب سے زیادہ تجربہ ہے۔ اگر وہ یہ مناسب سمجھتا ہے تو ہمیں مان لینا چاہیے۔ 

جنرل نیازی نےGHQ میں چیف آف جنرل سٹاف، جنرل گل حسن سے فون پر رابطہ کیا، تو انھوں نے بغیر کسی جھجک کے فورا ہیلی کاپٹروں کو پاکستا ن لانے کی اجازت دے دی۔ جنرل نیازی نے مجھے (کرنل لیاقت بخاری) کو ہدایت کی کہ میں میجر جنرل محمد رحیم خان کو جو 10 دسمبر کو دشمن کے ہوائی حملہ میں شدید زخمی تھے اور کچھ پاکستانی خواتین و بچے بھی ساتھ لے جائیں کیونکہ ہم نے حکومت برما پر یہ ظاہر نہیں ہونے دینا تھا کہ یہ فوجی ہیلی کاپٹرز ہیں۔

 ان کی شناخت چھپانے کیلئے گرائونڈ سٹاف نے تمام آرمی شناخت اور نمبر تار کول سے ڈھانپ دئیے۔ پرواز کا وقت تین بجے شب مقرر کیاگیا تاکہ مشرقی پاکستان کا تمام علاقہ رات کی تاریکی میں طے ہوجائے اور صبح ہونے سے پہلے برما کی سرحد میں داخل ہوجائیں چونکہ چھوٹے ہیلی کاپٹروں میں دو گھنٹے کے بعد پٹرول ڈالنے کی ضرورت تھی، ان کے ساتھ زائد پٹرول ڈبوں میں بھر کر رکھ دیا تاکہ راستہ میں اندھیرے میں کسی محفوظ انجان جگہ اتر کرخود پٹرول ڈال سکیں۔ دشمن کی ہوائی برتری اور ڈھاکہ ایر پورٹ تباہ ہونے کی وجہ سے ہم نے سارے ہیلی کاپٹر ڈھاکہ چھائونی (کینٹ )کی گالف کورس میں اونچے اونچے درختوں کے نیچے چھپا دئے تھے۔

 جہاں سے ہر شب ان کو نکال کر پائلٹ اپنا اپنا مشن پورا کرتے اور صبح کی روشنی سے پہلے ہی ان کو ڈھانپ دیتے۔ یہ کام سکارڈن کے گرائونڈ سٹاف نے اتنی مہارت سے کیا کہ پوری جنگ میں بھارتی فضائیہ اپنی مکمل برتری اور جدید فضائی کیمروں اور بنگالی جاسوسی نیٹ ورک کے باوجود ایک بھی ہیلی کاپٹر کو نہ ڈھونڈ سکے۔ اندرونی پٹرول ٹینک کی وجہ سے بڑے ہیلی کاپٹروں میں صرف 16 مسافروں کی گنجائش تھی اور چھوٹے ہیلی کاپٹروں میں چونکہ پٹرول کے ڈبے رکھنے تھے کوئی مسافر کے لئے جگہ نہ بن سکی۔جب رات پائلٹ دو بجے کے قریب ہیلی پیڈ پر پہنچے تو وہاں ایک ہجوم دیکھ کر پریشان ہو گئے ڈھاکہ چھائونی میں اب تک خبر پھیل چکی تھی کہ ہیلی کاپٹرز پاکستان جارہے ہیں۔ 

مرد وخواتین اپنے اپنے بچوں اور سامان کے ساتھہ ہیلی کاپٹروں میں گھس بیٹھے تھے۔ کوئی پٹرول ٹینک پر بیٹھا تھا تو کوئی دروازے سے لٹکا ہوا تھا۔ ہر ایک کو سمجھانا کہ صرف ایک جہاز میں16 مسافروں کی جگہ ہے، ورنہ ہیلی کاپٹر زیادہ بوجھ کی وجہ سے پرواز نہ کر سکے گا۔ ایک عظیم مرحلہ بن گیا۔کوئی بھی اترنے کیلئے تیار نہیں تھا اور پرواز کا وقت تیزی سے گزر رہاتھا۔

 بہت تگ و دو کے بعد ان کو قائل کیا کہ اگر نظم و ضبط سے کام نہ لیا گیا، تو ان کی خواتین و بچے بھی نہ جاسکیں گے، مگر پھر بھی 16کی بجائے 35 مسافر بٹھانے پڑے۔ تمام خواتین و بچے سہمے ہوئے تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے عزیزوں کے بغیر دیار غیر میں کن حالات سے دو چار ہونگے اور پیچھے رہنے والوں پر کیا بیتے گی۔ کچھ خواتین زارو قطار رو رہی تھیں کچھ قرآنی آیات کی تلاوت کر رہی تھیں۔ 16 کی بجائے 35 مسافروں کے ساتھ اونچے اونچے درختوں کے بیچ مکمل تاریکی میں پرواز کرنا ایک نہایت ہی خطرناک ٹیک آف تھا۔ٹھیک رات ساڑھے تین بجے پہلے ہیلی کاپٹر میں ( کرنل لیاقت بخاری) میجر ریاض الحق اور میجر علی قلی خان نے اللہ کا نام لے کر اس تاریخی پرواز کا آغاز کیا۔ ہیلی کاپٹر 6 1 کی بجائے 35 مسافر لے کر اپنی پوری انجن کی طاقت استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ درختوں کو پیچھے چھوڑتا اور بچتاہوا مکمل تاریکی میں ہوا میں بلند ہونے لگا اور یہ پرواز کا مشکل ترین آغاز بخیرو عافیت طے پاگیا۔

اس کے پانچ منٹ بعد دوسرے ہیلی کاپٹر میں میجر اکرم اور میجر علی جواہر نے اپنی پرواز شروع کی۔ اسکے پانچ منٹ بعدتیسرا ہیلی کاپٹر میجر باجوہ اور میجر ظہور نے ہوا میں بلند کیا۔ تینوں ہیلی کاپٹرز کی بحفاظت پرواز پرسب نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ چھوٹے ہیلی کاپٹرز میں کیونکہ وزن کاا تنا مسئلہ نہ تھا۔ ان کی پرواز نسبتاً آسان تھی۔ ان کیلئے سب سے خطر ناک دو گھنٹے کی پرواز کے بعد رات کی مکمل تاریکی میں کسی انجانی جگہ اتر کر پٹرول بھرنا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان میں ہر جگہ بھارتی فوج اور مکتی باہنی پھیلی ہوئی تھی۔ 

ایسے میں دشمن کے علاقہ میں اتر کر جہازوں میں پٹرول ڈالنا اور انکی دیکھ بھال کرنا بڑی دلیر ی کا کام تھا۔ دونوں چھوٹے ہیلی کاپٹرز میجر نعمان محمود اور میجر پیٹرک کی قیادت میں پروگرام کے مطابق پرواز کر گئے۔اس طویل پرواز میں ہیلی کاپٹروں میں وہ ضروری آلات نہ تھے، جن سے مکمل تاریکی میں راستہ ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی یا تصدیق ہوسکتی کہ وہ ٹھیک سمت پر ہیں۔ زیادہ اونچا پرواز دشمن کے راڈار سے بچنے کے لئے ممکن نہ تھی۔ موسم یا ہوا کی رفتار ودرست جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

 گہرے بادلوں کی وجہ سے ٹھیک راستہ معین کرنا بہت مشکل تھا۔ پہاڑوں کے بیچ درختوں سے بچتے ہوئے اپنی نہایت نیچی پرواز جاری رکھنا تھا۔ صرف وقت اور سمت پر بھروسہ کرکے منزل تک پہنچنا تھا۔جب بھی ہیلی کاپٹر کسی شہر یاقصبہ کے قریب سے گزرتے نیچے سے دشمن فائرنگ کرتے ہیلی کاپٹرز بغیر کسی روشنی کے پرواز کرتے اور بچتے رہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے کسی حادثہ سے دو چار ہوئے بغیر منزل پر پہنچ گئے۔

 دشمن کو اس پرواز آزادی کی بھنک بھی نہ پڑی۔سب منصوبے کے عین مطابق مشرقی پاکستان کی سرحد پار کرکے برما داخل ہوگئے۔ صبح ساڑھے چھہ بجے پہلا ہیلی کاپٹر برما کے ائیر پورٹ اکیاب پر اتر گیا کیونکہ ائیر پورٹ کا عملہ ان کے آنے سے بے خبرتھا۔ وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا۔ سب کے چہروں پر اطمینان اور خوشی کی لہر چمک اٹھی۔ خواتین دوپٹے اٹھا اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں اور عملہ کو دعائیں دیتی رہیں۔ پانچ منٹ کے وقفہ کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا ہیلی کاپٹر بھی منزلِ مقصود پر بحفاظت آن پہنچا۔

 اب اکیاب ائیرپورٹ کے سٹاف کو تشویش ہوئی کہ اتنے ہیلی کاپٹر بغیر کسی اطلاع کے کیسے آگئے۔ کچھ ہی دیر بعد ائیر پورٹ سٹاف کا ایک افسر میرے پاس آیا اور آنے کا مقصد پوچھا، جس پر میں نے اپنا تعارف بحیثیت چیف پائلٹ پلانٹ پروٹیکشن کروایا اور بتایا کہ وہ ڈھاکہ سے پاکستانی خواتین و بچے لائے ہیںہم جلد ہی بنکاک چلے جائیں گے۔

 وہ اس جواب سے مطمئن ہو کر لوٹ گیا۔ چھوٹے ہیلی کاپٹر کم رفتاری اور راستے میں رک کر پٹرول بھرنے کی وجہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچے۔ ادھر ڈھاکہ میں 16 دسمبر کی دوپہر جب بھارتی جنرل جیکب اپنے ہیلی کاپٹر میں سقوط ڈھاکہ کے کاغذات لے کر ائر پورٹ پر اتر رہاتھا۔ میجر توحید الحق نے جسے جنرل نیازی کے حکم پر انتظامی ضروریات کے لئے چھوڑا تھا فیصلہ کیا کہ چونکہ سرنڈر ہونے والا ہے اور فوجی قواعدو ضوابط کے تحت ہر شخص جنگی قیدی بننے کی بجائے فرارہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔ وہ بھی 4 سکواڈرن کے پیچھے برما پرواز کر جائیں گے۔

 میجر توحید الحق نے اس منصوبہ کاذکر میجر ظریف، میجرخالد صغیر اور میجر مسعود انور سے کیا۔ جنہوں نے فورا اس پلان کی تائید کی۔ اس طرح باقی ماندہ دونوں چھوٹے ہیلی کاپٹرز دن کی روشنی میں دشمن کی آنکھوں کے سامنے پرواز کرکے برما کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب انہوں نے ڈھاکہ سے پرواز کی کسی ہندوستانی یا بنگالی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستانی پائلٹ اس وقت پرواز کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ ان کو ہندوستانی سمجھتے رہے۔شام چھ بجے ان چاروں ہوا بازوں کو اچانک اکیاب میں دیکھ کر 4 سکواڈرن کے سب پائلٹ خوشی سے پھولے نہ سمائے اور اس طرح 4 آرمی ایوشین سکاڈرن کے تمام پائلٹ اور جہاز اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دشمن کی اسیری سے بحفاظت نکل آئے اور 139خواتین اور بچوں کی زندگی اور عزت بچائی۔

یوں4 آرمی ایوشین سکواڈرن پاکستان آرمی کا واحد یونٹ ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی ہمت و بصیرت دی کہ وہ پوری جنگ میں نہایت بہادری سے لڑنے کے بعد دشمن کے چنگل سے نکل کر بغیرہتھیار ڈالے اپنے سارے جہاز اور 139 خواتین و بچوں کو عزت و آبرو کے ساتھ پاکستان واپس لے آئے۔۔۔!  ٭

برگیڈئر لیاقت اسرار بخاری

No comments:

Powered by Blogger.