Header Ads

Breaking News
recent

جو میدان میں زندگی کی بازی ہار گئے.....

ساڑھے 5 اونس وزنی گیند 90 میل فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے آپ کے چہرے یا کھوپڑی کا رخ کرے تو آپ کو اپنی ہڈیاں بچانے کے لیے خاصی تیاری کرنا پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بلے بازوں کو ہیلمٹ سے لے کر دستانے اور پیڈز سے لے کر رانوں کو بچانے تک کے لیے مختلف حفاظتی سامان سے لیس ہونا پڑتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ سب کچھ بھی بیکار ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ فلپ ہیوز کے ساتھ ہوا۔

شیفیلڈ شیلڈ کے مقابلے میں نیو ساؤتھ ویلز کے خلاف کھیلتے ہوئے حریف باؤلر شان ایبٹ کی ایک اٹھتی ہوئی گیند کو ہُک کرنے کی کوشش ایسی ناکام ثابت ہوئی کہ فلپ کی جان ہی لے گئی۔ گیند ہیوز کے ہیلمٹ کے بالائی حصے کے نیچے اور جالی کے پیچھے اس جگہ پر لگی جو ہیلمٹ کی حفاظتی تہہ سے ڈھکی ہوئی نہیں تھی۔ کچھ دیر تو ہیوز سنبھل کر کھڑے رہے، پھر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکے اور اچانک منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔ اور پھر جمعرات کی صبح سڈنی کے ہسپتال میں انتقال تک وہ ایک لمحے کے لیے بھی ہوش میں نہیں آئے۔

کرکٹ دیکھتے ہوئے شاید ہی کسی کو اندازہ ہوتا ہو کہ میدان میں گیند اور بلے کے ساتھ ساتھ زندگی اور موت کی جنگ بھی جاری ہے۔ ماضی میں چند ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب کھیل کے دوران کسی کھلاڑی کو جان لیوا ضرب پہنچی ہو۔ ان میں سب سے پہلے نمایاں کھلاڑی پاکستان کے عبد العزیز تھے۔ جنہوں نے 17 جنوری 1959ء کو صرف 17 سال کی عمر میں میدان میں اپنی جان دی۔
وکٹ کیپر بلے باز عبد العزیز سندھ مسلم کالج کے طالب علم تھے اور 1959ء کے اوائل میں پاکستان کمبائنڈ سروسز کے خلاف کراچی کی جانب سے قائد اعظم ٹرافی کا فائنل کھیل رہے تھے کہ حریف باؤلر دلدار اعوان کی ایک گیند ان کے سینے پر جا لگی۔ عبد العزیز کچھ دیر تو سنبھلے رہے اور اگلی گیند کا سامنا کرنے کی تیاری پکڑ ہی رہے تھے کہ اچانک گر پڑے۔ انہیں بے ہوشی کے عالم میں میدان سے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ یہ کرکٹ تاریخ میں اپنی نوعیت کا غالباً پہلا واقعہ تھا کہ کوئی کھلاڑی میدان کے اندر چوٹ لگنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوگیا ہو۔

عبد العزیز اس قائد اعظم ٹرافی میں پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے چند عظیم ترین ناموں کے ساتھ کھیلے تھے۔ حنیف محمد، علیم الدین، وزیر محمد، مشتاق محمد اور انتخاب عالم ان کے ٹیم میٹس تھے۔ عبد العزیز تو اس دنیا میں نہ رہے البتہ کراچی نے قائد اعظم ٹرافی ضرور جیتی، لیکن بوجھل دل کے ساتھ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ عبد العزیز دل کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن نوعمری کی وجہ سے اس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔ جب گیند لگی تو اس مرض نے مہلک صورت اختیار کرلی۔

کھیل کے دوران کھلاڑی کی موت کا دوسرا افسوسناک واقعہ اگست 1993ء میں انگلینڈ میں پیش آیا جب ایک باؤنسر این فولی کے چہرے پر لگی تھی۔ فولی نے 1982ء میں لنکاشائر کی جانب سے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا لیکن ایک انجری کی وجہ سے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ لیکن 1991ء میں انہوں نے دوبارہ کھیلنا شروع کردیا۔ پہلے جیسی کارکردگی تو پیش نہ کرسکے لیکن ان کی موت کرکٹ کے میدان ہی میں لکھی ہوئی تھی۔ 30 اگست 1993ء کو وائٹ ہیون کی جانب سے ورکنگٹن کے خلاف ایک کلب میچ کھیل رہے تھے کہ حریف باؤلر کا ایک باؤنسر ان کے چہرے پر آنکھ کے عین نیچے جا لگا۔ زخمی حالت میں انہیں ہسپتال لایا گیا جہاں بے ہوشی کے عالم میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ چل بسے۔ اس وقت فولی کی عمرمحض 30 سال تھی۔
ان دونوں واقعات میں بیٹسمینوں کی بدقسمتی نے انہیں موت کے منہ میں دھکیلا لیکن 20 فروری 1998ء کو فیلڈر کی موت کا عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہندوستان کے معروف کھلاڑی رامن لامبا بین الاقوامی کرکٹ میں شاندار آغاز کے بعد اپنی جگہ برقرار نہ رکھ سکے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے مستقبل کو تاریک ہوتا دیکھ کر وہ لیگ کرکٹ سے وابستہ ہوگئے۔ پہلے آئرلینڈ میں کھیلے اور پھر بنگلہ دیش کا رخ کیا جہاں انہیں بہت عزت ملی، یہاں تک کہ انہیں "ڈھاکہ کا ڈان" تک کہا جاتا تھا۔
1998ء میں ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے فائنل میں رامن لامبا اباہانی کریرا چکر کی نمائندگی کررہے تھے کہ کپتان نے انہیں فارورڈ شارٹ لیگ پر کھڑا کردیا اور پوچھا کہ کیا ہیلمٹ کی ضرورت ہے؟ جس پر لامبا نے کہا کہ صرف تین گیندوں کی تو بات ہے۔ لیکن اگلی ہی گیند پر محمڈن اسپورٹنگ کے بلے باز محراب حسین نے گیند کو پوری قوت کے ساتھ پُل کردیا۔ گیند سیدھا لامبا کی طرف آئی اور ان کی پیشانی پر اس شدت کے ساتھ لگی کہ ٹکرا کر واپس وکٹ کیپر کے پاس پہنچ گئی۔ لامبا زمین پر گرگئے، کھلاڑیوں نے خیریت دریافت کی تو انہوں نے یقین دلایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور پھر بغیر کسی سہارے کے خود ڈریسنگ روم گئے۔ جہاں کچھ دیر بعد ان کی حالت غیر ہونے لگی۔ فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بے ہوش ہوگئے اور اسی عالم میں تین روز بعد چل بسے۔ اس دوران ان کے دماغ کا آپریشن بھی کیا گیا تھا لیکن کوئی کوشش کارگر ثابت نہ ہوسکی۔ بوقتِ انتقال لامبا کی عمر محض 38 سال تھی۔

ابھی گزشتہ سال یعنی اکتوبر 2013ء میں ہی جنوبی افریقہ میں بھی ایک لیگ مقابلے میں ایک بیٹسمین کی موت واقع ہوئی۔ 32 سالہ ڈیرن رینڈل وکٹ کیپر بلے باز تھے اور چار فرسٹ کلاس مقابلوں کا تجربہ رکھتے تھے۔ بارڈر کرکٹ بورڈ پریمیئر لیگ کے ایک مقابلے میں ایک اٹھتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں ناکامی ان کے موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ گیند رینڈل کے سر پر لگی اور وہ وہیں میدان میں گر پڑے۔ ہسپتال پہنچانے کے باوجود ان کی حالت نہیں سنبھلی اور بالآخر چل بسے۔

اب آسٹریلیا کے فلپ ہیوز بھی ان بدقسمت کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہر موت ایک بہت بڑا سانحہ ہوتی ہے، کم از کم خاندان کے لیے تو وہ خلاء کبھی بھی پر نہیں ہوتا جو ایک جوان موت سے ان کی زندگی میں پیدا ہواجتا ہے لیکن فلپ ہیوز کا نقصان اس لیے زیادہ محسوس ہوگا کیونکہ وہ ان تمام بدنصیب کھلاڑیوں میں بین الاقوامی کرکٹ کا سب سے زیادہ تجربہ بھی رکھتے تھے اور ان کا مستقبل بھی ان سب کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتا تھا۔

ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ دو پہلوؤں پر غور کرنا بھی بہت ضروری ہے، ایک کھلاڑی کے لیے "سیفٹی گیئر" کی اہمیت اور دوسرا اس حفاظتی سامان کا بھی اس قابل ہونا کہ وہ کھلاڑیوں کو کسی بھی ناگہانی حالت سے بچا سکیں۔ فیلڈرز کو لاحق خطرات ایک طرف، لیکن پہننے کے باوجود بلے بازوں کی اموات ہیلمٹ کی افادیت پر سوالات اٹھاتی ہیں۔ حفاظتی سامان بنانے والے اداروں اور کرکٹ آفیشلز کو اب سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، تاکہ کھیل کو جان لیوا حادثے میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔

افتخار عارف کے ان اشعار پر اختتام، کہ

کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
عمر بھر کا یہ رشتہ
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

فہد کیہر

No comments:

Powered by Blogger.