Header Ads

Breaking News
recent

ایبولاوائرس… خطرناک صورت حال.....


مغربی افریقی ممالک سیرالیون،گنی اور لائبیریا سے پھیلنے والا جان لیوا، خطرناک وائرس ایبولا اب آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بڑی تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے دارالحکومتوں میں جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اس پر پوری دنیا میں تشویش ہے۔ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے مقابلے میں دنیا پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ رواں سال دسمبر تک اس کے ہزاروں نئے واقعات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔مشن کے سربراہ اینتھنی بین بری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’وہ (ایبولا) ہم سے تیز دوڑ رہا ہے اور ریس جیت رہا ہے۔

عالمی ادارے کے نائب سربراہ آئلوارد کاکہنا ہے کہ ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ردعمل بگڑتی ہوئی صورت حال کے مطابق نہیں ہے۔ متاثرین میں سے 70فیصد افراد مر رہے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابھی مجموعی طور پر دنیا بھر میں اس سے متاثر افراد کی تعداد 8914 ہے جب کہ کم از کم 4447 افراد اس کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 4024 ہلاکتیں مغربی افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ نائیجیریا، سینیگال، اسپین اور امریکہ میں بھی اس مرض کے کیس درج کیے گئے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں بھی اس وائرس سے لوگ متاثر ہوچکے ہیں ۔ امریکہ نے اپنے 4000 فوجی متاثرہ خطے میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ 750 فوجی اہلکار سیرالیون بھجوا رہا ہے۔ 

ایبولا وائرس آنے سے دنیا بھر میں چاکلیٹ کی سپلائی کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ آئیوری کوسٹ جو دنیا میں کوکا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس نے لائبیریا اورگِنی کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرلی ہیں۔ دنیا بھر کے چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں تشویش کا شکار ہیں اس ضمن میں ورلڈ کوکا فائونڈیشن اب نیسلے، مارس اور دیگر ممبران سے اس کی کوکا انڈسٹری کے لیے فنڈ اکٹھا کررہی ہے تاکہ ایبولا کے خلاف پہلا قدم اٹھایا جا سکے۔19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن اور سیکورٹی کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا تھا۔

 صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات تیز نہیں کیے گئے تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔این آئی بی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرشمسی کا کہنا ہے کہ وائرس کے پاکستان میں پہنچنے کے امکانات موجود ہیں اور ائیر پورٹ پر افریقہ سے آنے والے مسافروں کی چیکنگ کی جانی چاہئیے اور کسی مسافر کو بخار ہو تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہئیے ۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ملک میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں اسٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایبولا وائرس کیا ہے؟ یہ مرض 1976ء میں سب سے پہلے سوڈان میں ظاہر ہوا تھا، اور 2013ء تک اس کے صرف 1716 واقعات سامنے آئے تھے۔ایبولا وائرس کا نام افریقی دریا کانگو سے پڑا ہے جسے فرنچ میں ایبولا کہتے ہیں۔ یہ انسانوں اور جانوروں میں پایا جانے والا ایک ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد میں دو سے تین ہفتے تک بخار، گلے میں درد، پٹھوں میں درد اور سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ قے، ڈائریا اور خارش وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی گھٹ جاتی ہے۔ مرض میں شدت آنے کے بعد جسم کے کسی ایک یا مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور اُس وقت اس کا ایک سے دوسرے فرد یا جانور میں منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ 

درحقیقت اسے دورانِ خون کا بخار بھی کہا جاتا ہے، اور جب خون بہنے کی علامت ظاہر ہوجائے تو مریض کا بچنا لگ بھگ ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ مگر صرف خون نہیں بلکہ پسینے، تھوک اور پیشاب سمیت جسمانی تعلقات وغیرہ سے بھی یہ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتا ہے، مریض کے زیراستعمال سرنج کا صحت مند شخص پر استعمال اسے بھی ایبولا کا شکار بناسکتا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ چمگادڑوں اور پھر بندروں اور گوریلوں کے ذریعے یہ افریقہ میں پہلے جانوروں اور اُن سے لوگوں میں پھیلنا شروع ہوا، اور ایبولا کے شکار افراد کی بڑی تعداد ایک ہفتے میں ہی دنیا سے چل بستی ہے۔وہ چیزیں جو ایبولا کا سبب نہیں بنتیں ان میں ہوا، پانی، خوراک، مچھر یا دیگر کیڑے شامل ہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مریض کی چھوئی ہوئی اشیاء سے یہ مرض کسی اور میں منتقل ہوسکتا ہے۔ نہ ہی متاثرہ ممالک سے آنے والے طیاروں کے ذریعے یہ کسی اور ملک میں پہنچ سکتا ہے۔ یہ فلو، خسرہ، ٹائیفائیڈ یا ایسے ہی عام امراض کی طرح نہیں ہے۔ اس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ یہ کسی وبا کی طرح ایک سے دوسرے براعظم تک پھیل جائے۔ تاہم متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد اگر اس کا شکار ہوں تو وہ ضرور کسی ملک میں اس کے پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور اسی خطرے کے ساتھ یہ مرض اب پھیل رہا ہے ‘جس کے لیے دنیا میں تشویش بھی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ 

اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں، تاہم بیمار افراد کو ہلکا میٹھا یا کھارا پانی پلاکر، یا ایسے ہی سیال مشروبات کے ذریعے کسی حد تک بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے بلڈ پروڈکس، ڈرگ تھراپی، ایمیون تھراپی بھی کی جاتی ہے۔ اب تک اس کی کوئی ویکسین دنیا کی کسی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ دو ویکسین پر کام ہورہا ہے اور وہ تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اب اس ویکسین کی تیاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر چند سال کے بعد براعظم افریقہ سے ایک وائرس وبا کی صورت میں کیوں پھلتا ہے اور وہ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے کہ اس سے بڑا دنیا کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیا یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے یا بڑی عالمی قوتوں نے افریقہ کے جنگلات کو اپنی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

ایبولا وائرس کی تیاری میں امریکہ ملوث ہے؟

اخبار ’ڈیلی آبزرور‘ نے بعض دستاویزات اور ثبوتوں کی بنیاد پر ایبولا وائرس کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم کے ساتھ براعظم افریقہ میں خفیہ آپریشن کرتے ہوئے مہلک وائرس ایبولا کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔

لائبیریا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ مہلک وائرس ایبولا کو امریکہ کی ایک فوجی اور صنعتی کمپنی 1975ء میں اُس وقت کی جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے تعاون سے وجود میں لائی۔ اس کے بعد سے امریکی وزارت دفاع اس وائرس کو ایک جراثیمی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پروفیسر سرل بروڈریک کے مطابق امریکہ نے 1975ء میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی مدد کے ساتھ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں، کہ اُس وقت جس کا نام زئیر تھا، خفیہ طور پر ایبولا کا پہلا مہلک وائرس تیار کیا۔ اس کے بعد اس مہلک اور خطرناک وائرس کو لیبارٹری میں وجود میں لایا گیا اور اس کی replication کی گئی۔ اور امریکی وزارت جنگ نے براعظم افریقہ کی سیاہ فام آبادی میں کمی کے لیے اس وائرس کو حربے کے طور پر استعمال کیا۔ میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی تحقیقات سے بھی پروفیسر سرل بروڈریک کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ 1976ء میں زئیر کے ایک دریا کے مضافاتی علاقے میں پہلی مرتبہ ایبولا وائرس کا پتا لگایا گیا۔ پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے دعوے کے اثبات کے لیے کتاب ’’حساس علاقہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے جسے 1998ء میں تحریر کیا گیا۔ اس کتاب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ امریکہ کی صنعتی، فوجی اور طبی کمپنیوں نے کس طرح امریکہ کے اتحادی بعض افریقی ممالک کے تعاون کے ساتھ امریکہ کی قومی سیکورٹی سے متعلق معلومات کے تحفظ کے لیے خفیہ جراثیمی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یہ بات مسلّم ہے کہ ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم سے انجام پانے والی خفیہ کارروائی کا مقصد وسیع و عریض براعظم افریقہ کے باشندوں کی آبادی میں کمی اور نسل کشی کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔

٭٭٭ ایبولا…قاتل وائرس کی پاک افغان
سرحد پرموجودگی کی اشاعت

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں 4 اپریل 2001 ء میں ٹم بوچر کے مضمون میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’’ایبولا‘‘ وائرس پاکستان افغان سرحد پر موجود ہے۔ ٹم بوچر نے یہ رپورٹ کوئٹہ سے لکھی تھی۔

ڈاکٹر فریحہ عامر

Ebola Virus in West Africa

No comments:

Powered by Blogger.