Header Ads

Breaking News
recent

نوابزادہ خان لیاقت علی خان......


کرنال( مشرقی پنجاب )کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے لیاقت علی نے علی گڑھ سے 1919 ء میں گریجویشن کے بعد 1921ء میں انگلستان میں آکسفرڈ سے اصول قانون میں ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں1922ء میں بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا، لیکن وکالت سے تعلق بس اتنا سا رہا کہ ہائیکورٹ کے وکلا کی فہرست میں نام درج کروا لیا،بطورِ پیشہ اسے کبھی اختیار نہیں کیا۔ نوابزادہ لیاقت علی خان 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلم رہنماؤں کی اس پود کی نمائندہ شخصیات میں سے ایک ہیں ،جو برطانوی راج سے آزادی حاصل کر کے الگ وطن کے حصول کے لیے یکسو ہوئے اور جن کی سرکردگی میں مسلمانانِ ہند نے اپنی آزادی کا مقدمہ لڑا اور اپنے لیے ایک آزاد ریاست کا خواب پورا کیا۔ لیاقت علی خان کی سیاسی زندگی کا آغاز انگلستان سے آنے کے بعد ہی ہو گیا تھا اور ابتدا ہی سے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی طرف مائل تھے۔ انگلستان سے آتے ہی یوپی کے کانگریسی راہ نماؤں نے ان سے کانگریس میں شمولیت کی درخواست کی ،لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ ان کی جماعت کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتے۔

 بعد ازاں 1923ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی 1926ء سے 1940 ء تک،وہ یوپی کی مجلس قانون ساز اور بعد ازاں مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن رہے۔ مسلم لیگ میں وہ سیکرٹری جنرل اور بعد ازاں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جیسی اہم ذمے داریوں پر فائز رہے۔ نظریات کے حوالے سے لیاقت علی خان اسی فکر کے سانچے میں ڈھلے نظر آتے ہیں ،جسے ہم آل انڈیا مسلم لیگ کا بنیادی منہج فکر کہہ سکتے ہیں۔ 1930 ء میں لیاقت علی خان یوپی کی واحد مسلم درسگاہ ’’مدرسہ‘‘ کے صدر منتظم منتخب ہوئے ، مسلمانوں کی تعلیم ہمیشہ سے ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔

 مسلم لیگ سے نظریاتی وابستگی کا اندازہ محض اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ، جب مسلم لیگ نے 1932ء میں ایک سمجھوتے کی بنا پراسد علی اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے کانگریسی فکر کے حامل راہ نماؤں کو جماعت میں شامل کیا ،تو لیاقت علی خان 1936ء سے اوائل 38ء تک مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر انگلستان چلے گئے تھے حالاں کہ وہ اس وقت پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے اعزازی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ لیاقت علی خان کا خیال تھا اس سمجھوتے سے مسلم لیگ کا تشخص دھندلا گیا تھا۔ ایک درد مند قومی راہ نما کی حیثیت سے تعلیم ان کی پہلی ترجیح رہی۔ 1932ء میں مسلم تعلیمی کانفرنس کے 40 مطالبات انہی کی کوششوں سے منظور کیے گئے ، اسی طرح 1944ء میں اینگلو عریبک کالج دہلی کے صدر کے طور پر منتخب کیے گئے اور دسمبر 1945ء میں کل ہند مسلم تعلیمی کانفرنس کی صدار ت فرمائی۔

 اس حوالے سے علی گڑھ میں ان کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نزدیک تعلیم نہ صرف آزادی کی جدوجہد میں کام یابی کی ضامن تھی بلکہ یہ اسے برقرار رکھنے کا بھی واحد ذریعہ تھی: ’’ہم آزادی کے لیے جدوجہد اس لیے نہیں کرر ہے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو کر ہنددؤں کی غلامی میں چلے جائیں بلکہ ہمارا مقصد ایک آزاد اور خود مختار مملکت کی تشکیل ہے تاکہ ہم اس نصب العین تک پہنچ سکیں ،جس سے ہمیں تیرہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے روشناس کروایا تھا۔قرآن مجید کی رو سے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ صرف خدا کے لیے زندہ رہے اور خدا کے لیے جان دے کیوںکہ خدا ہی حقیقی حکمران ہے اور ساری حاکمیت اسی کی ذات میں مرتکز ہے۔‘‘ اسلامی معاشرے کے متعلق ان کا نظریہ قرارداد مقاصد کی منظور ی کے تناظر میں بھی سامنے آتا ہے اور مسلم ممالک کے ساتھ پر جوش تعلقات کی وہ تمام کوششیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں کیں۔ اس حوالے سے ان کے خطاب کا یہ اقتباس روشنی ڈالتا ہے: ’’ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ،جس کے مطابق پاکستان میں ہم سچے مسلمانوں کی طرح اسلامی اصولوں پر عمل کر کے دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں کے علاوہ بھی ایک نظام ہے جس کے اصول اسلام ہمیں مہیا کرتا ہے۔


(خیرپور 21 نومبر 1950ء ) ایک زمیندار خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود فکری ارتقاء کے باعث ان کے دل ودماغ کا رشتہ استحصالی ذہنیت سے کٹ کر اسلام کے سماجی اصولوں سے جُڑ چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں زرعی اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا تو اشرافیہ کی بے چینی دیدنی تھی کیونکہ یہ بل سراسر ان کے مفادات پر ضرب تھا۔ استحصالی نظام کے خلاف ان کا موقف بہت واضح تھا، جس کا اظہار انہوں نے ایک جگہ ان الفاظ میں کیا: ’’اگر پاکستان کو سرمایہ داروں کے استحصال کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا، تو اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا،پاکستان یقینا نہ تو سرمایہ داروں کا ملک ہو گا اور نہ اشتراکیوں کا،یہاں صرف اسلامی اصولوں پر عمل ہو گا‘‘۔ (17 نومبر 1948ء جلسہ مسلم لیگ) یوں تو یو پی کی سیاست میں لیاقت علی خان شروع ہی سے منتخب نمائندے کی حیثیت سے مسلم مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں، لیکن مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن وہ 1940ء میں منتخب ہوئے۔

 اس دور میں پہلی دفعہ مسلم لیگ ایوان میں بطور الگ پارٹی کے سامنے آئی اور اس کا لیڈر قائد اعظم اور ڈپٹی لیڈر نوابزادہ کو بنایا گیا۔ تحریک پاکستان کے اگلے سالوں میں قائد اعظم ایک جاں گسل عوامی جدوجہد میں مصروف ہونے کی بنا پر اسمبلی کے اندر دستوری اور پارلیمانی معاملات میں مسلم مفادات کے لیے بہت کم وقت نکال پاتے ، یہاں تقریبا سار ی ہی ذمہ داری لیاقت علی خان نے ادا کی۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے قائد اعظم کے شانہ بشانہ مہاجرین کی بحالی، افواج کی تنظیم ، معیشت کی بحالی غرضیکہ ہر طرف حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان تھک جدوجہد کی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد یہ تأثر پھیلنے لگا کہ اب پاکستان میں لیڈرشپ کا خلا پیدا ہوگیا ہے، تو اس مشکل گھڑی میں لیاقت علی خان نے غمزدہ قوم کو پھر سے نئی امید دی ،بیرونی دنیا میں پاکستان کو ایک پراعتماد ملک کی حیثیت سے پیش کیا اور بالخصوص بھارت کے ان مکروہ عزائم پر پانی پھیر دیا ،جو وہ قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان کے حوالے سے رکھتا تھا۔انہوں نے مختلف اوقات میں بھارتی جارحیت سے اپنے ملک کو تدبر اور حکمت سے محفوظ بنایا ،مثلا 1950ء میں کلکتہ کے فسادات کے بعد بھارت نے افواج مشر قی پاکستان کی سرحدوں پر جمع کرنی شروع کر دیں، فوری طور پر لیاقت علی خان نے ڈھاکاجا کر مسلمانوں کو رد عمل سے روکاجو فطری طور پر مغربی بنگال سے آنے والے لوگوں کی حالت زار دیکھ کر ان میں پیدا ہورہا تھا۔

 اس کے بعد طے پانے والالیاقت نہرو معاہدہ آج بھی دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل ہے ، جو بھارت کے اس دعوے کے رد کے لیے کافی ہے کہ بھارتی مسلمانوں سے سلوک اس کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ صوبائیت اور لسانیت نوزائدہ مملکت کے وجود کے لیے ویسا ہی خطرہ تھی، جیسے آج ہے۔ اس معاملے پر خان لیاقت علی آج بھی ہمارے سیاسی راہ نماؤں کے لیے مشعل راہ ہے: ’’میں سمجھتا ہوں کہ صرف ایک چیز یقینا پاکستان کو تباہ کر سکتی ہے اور وہ صوبہ پرستی کا جذبہ ہے۔کسی شخص کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ پنجابی، پٹھان، سندھی یا بنگالی ہے۔اگر ہم پر صوبہ پرستی کا جذبہ غالب آجاتا ہے،اور ہم صوبائی نقطہ نظر سے سوچنا شروع کر دیتے ہیں ،تو پاکستان کمزور ہو جائے گا۔‘‘ (15اپریل 1958ء،پاک بحریہ سے خطاب) خارجہ پالیسی کے محاذپر، مسلم ممالک سے پرجوش تعلق ہمیشہ لیاقت علی خان کے پیش نظر رہا۔

 ایک موقع پر جب مشترکہ دفاع کی تجویز کا شوراٹھا، تو جولائی 1950ء میں عید کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا : ’’اگر مغربی جمہوریتیں اپنے طریق زندگی کے تحفظ کے لیے معاہدے کر سکتی ہیں اور اگر اشتراکی ممالک اپنی نظریاتی اساس کے دفاع کے لیے ایک بلاک بنا سکتے ہیں، تو مسلم اقوام متحد ہو کر کیوں اپنا تحفظ نہیں کر سکتیں اور دنیا کو یہ نہیں دکھا سکتیں کہ ا ن کا بھی ایک علیحدہ نظریہ اور طریق زندگی ہے۔‘‘ لیاقت علی خان کی شخصیت میں سیاسی تدبرو بصیر ت اور موقف پر پختگی کی دو نمایاں خصوصیات نظر آتی ہیں۔ تقسیم ہند کے موقع پر افواج کی تقسیم کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھا، لیاقت علی نے بطور وزیر خزانہ وائسرائے کو دو دفعہ باقاعدہ اس طرف متوجہ کیا اور پھر ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس ہوئے جن میں اسلحے اور افواج کی تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا، انہیں تقسیم کے دوران افواج کی اہمیت کا ادراک ہو گیا تھا۔ وقت نے اس اہمیت کو ثابت کیا۔ سیاسی تنازعات میںمفاہمانہ ذہن اور ہٹ دھرمی سے پاک، لیکن اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کی روش، جو آج مفقود ہے۔اس کی ایک جھلک ان کے دور حکومت میں پنجاب کے ممدوٹ اور دولتانہ وغیرہ اور پیر آف مانکی شریف اور عبدالقیوم خان کی سرحد میں چپقلش میں نظر آتی ہے، جن کا لیاقت علی خان نے صرف منوانے سے نہیں ، مان لینے سے بھی حل نکالا!! موقف پر پختگی کی بہترین مثال 1949 ء میں ہندوستان سے روپے کی قدرپرہونے والا قضیہ ہے، جس میں ہندوستان نے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنی کرنسی کی قدر گھٹا دی تھی لیکن پاکستان نے ایساکرنے سے گریز کیا، اب پاکستان کا ایک روپیہ بھارت کے ڈیڑھ روپے کے برابر ہو گیا تھا۔اس پر بھارت نے پاکستان سے تمام تجارت معطل کر دیکرنسی کی قدر گھٹانے تک یہ سلسلہ معطل کردیا۔ لیاقت علی خان نے بھی ڈھاکا جا کر کہہ دیا کہ بھارت کو ایک گانٹھ پٹ سن بھی نہیں دی جائیگی اور جیسا یہ کریں گے ،جواباً ان کے ساتھ بھی ویساہی کیا جائے گا۔یہی صورتحال جاری رہی یہاں تک کہ چھے مہینے بعد بھارت اپنی ضد سے باز آگیا۔ 16 اکتوبر1951ء کو تحریک پاکستان کا یہ نظریاتی سپاہی اور سیاسی مدبر شہید کردیا گیا۔ وہ آج ایک دمکتے ستارے کی طرح ہماری قومی تاریخ کے افق پر جگمگا رہے ہیں۔ ان کی زندگی میں ایک بار بابائے قوم نے انھیں خراج ِتحسین پیش کیا تھا، جو نہ صرف ان کے خلوص اور جدوجہد کے لیے سند کا درجہ رکھتا ہے بلکہ ہمارے سیاسی راہ نماؤں کے لیے بھی اس میں واضح پیغام ہے،قائد اعظم نے فرمایا تھا: ’’لیاقت علی خان نے نہایت تن دہی کے ساتھ شب و روز کام کیا ہے اور عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا بھی بہت مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے کاندھوں پر کتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔وہ کہلاتے تو نوابزادہ ہیں، لیکن فکر و عمل کے لحاظ سے بالکل عوامی کردار رکھتے ہیں اور ملک کے دوسرے نوابوں اور نوابزادوں کو چاہیے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں۔‘‘ (6 دسمبر 1934ء، مسلم لیگ کا اجلاس ،منعقدہ کراچی

Liaquat Ali Khan


 

No comments:

Powered by Blogger.