Header Ads

Breaking News
recent

دھرنوں کے بعد کیا ہوگا؟....


طاہرالقادری نے سیاست کے سمندرمیں’’ریاست‘‘کا پتھر کیا پھینکا‘‘جواربھاٹے نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل ہی مچا دی تھی۔علامہ صاحب 67دن تک شاہراہ دستور پر انقلاب کی صدائیں بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔آنے والے دنوں میں سردی کی شدت اور محرم الحرام کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے بدھ کی رات بالآخر علامہ قادری نے دھرناختم کرنے کااعلان کرہی دیا۔قادری صاحب!دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرنے اتنی جلدی میں لاہور سے تشریف لائے کہ اپنی واپسی سے عمران خان تک کو بھی مطلع نہیں کیا۔آج دو ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد شاہراہ دستور،کابینہ ڈویژن اورپاک سیکریٹریٹ سمیت ریاست کی نشانی سمجھی جانے والی تمام سرکاری عمارتیں ایک بار پھر آزاد دکھائی دے رہی ہیں۔علامہ طاہر القادری اور ان کے رفقاء نے خد اخدا کرکے شاہراہ دستور کی جان تو چھوڑ دی مگر کچھ نئی اقدار ضرور متعارف کرا گئے ہیں۔اگر علامہ طاہر القادری برابری اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تو وہ بالکل درست ہے مگر ان کا طریقہ ٹھیک نہیں تھا۔

اختیارات کی آپس میں بند ر بانٹ ہی حکومتوں کے لئے مسائل پیدا کرتی ہے۔اگر قادری دو ماہ تک برابری کے حوالے سے امریکہ اور یورپی ممالک کی مثال دیتے رہے تواس پر کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔
قارئین کو شاید یہ پڑھ کر حیرت ہو کہ پاکستان کے 280آرٹیکلز کے مقابلے میں امریکہ کا آئین صرف 7آرٹیکلز پر مشتمل ہے۔مگر اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کہ ان بڑوں نے جنہوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز (liberty,equality,Fraternity) کے مشہور و بلند بانگ نعرے سے کیا انہوں نے امریکہ کے آئین میں سب سے زیادہ جگہ انسانی حقوق کو دی۔امریکہ کا آئین لکھنے کے لئے اس وقت کے بڑوں میں جن میں جینوسن ،میڈائسن اور واشنگٹن جیسے گوہر نایاب مل بیٹھے اور آئین کے خدوخال وضع کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کیں ۔نتیجہ ً1787میں دنیا کا بہترین آئین وجود میں آیا ۔امریکی معاشرہ جس پر اگر آج ساری دنیا رشک کرتی ہے۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس معاشرے میں انسانی حقوق کو تحفظ حاصل ہے۔مساوات و برابری ہے،انسان کی قدر ہے اور وہ تمام اصول جو پیغمبر آخر الزماںﷺ نے اپنی امت کو دئیے ،امریکہ اور اس جیسے معاشرے اس کی زندہ تعبیر ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم نے آزادی حاصل کی ،اسلام کے نام پر الگ ملک بھی حاصل کرلیا ،اس دین کے نام پر جس کی نہ صرف تعلیمات بلکہ عبادات میں بھی برابری ،مساوات اور انسانی حقوق کا درس ہے۔

علامہ طاہر القادری کے غیر جمہوری مطالبات کی فہرست طویل مگر حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے کہ جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور ملک کی و قوم کی بہتری کے لئے انہیں تسلیم کرے۔طاہر القادری کے شاہراہ دستور سے جانے کے بعد عمران خان کا دھرنا اب صرف علامتی ہی رہ جائے گامگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت معاملات کی سنجیدگی سے رو گردانی شروع کردے۔محرم الحرام کا ایک ماہ حکومت کے پاس سنہری موقعہ ہوگا کہ وہ اپنی خامیوں کا تدارک کرکے بہتری کی جانب پیشرفت کرے۔ علامہ طاہر القادری اور عمران خان سے ہٹ کر اب تو سندھ سے بھی تبدیلوں کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ بلاول بھٹو کی ایک غلطی نے اپنی ہی حکومت کے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کردیاہے اور سندھ کے سیاسی بحران کا نقصان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کو بھی ہوا ہے۔

آصف زرداری اب تک سیاسی بساط پر شطرنج کے سب سے کامیاب کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔گزشتہ دور اقتدار میں ان کی سب چالیں کامیاب ہوئیں۔اقتدار کے آخری ایام میں اسٹیبلشمنٹ نے ڈاکٹر طاہر القادری کی صورت میں’’تُرپ‘‘کا جو پتہ پھینکا ،اس کا توڑبھی انہوں نے اس خوبصورتی سے نکالا کہ سب حیران رہ گئے۔اور پھر اصلاحات کے علمبرداروں کو چکمہ دیکر بروقت الیکشن کرانے میں بھی کامیاب ہو گئے مگر حال ہی میں ان کے بیٹے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر ایسی تقریرکی کہ پوری ملکی سیاست پرلرزہ طاری ہو گیا۔ حتی کہ نوجوان خون نے سندھ میں اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو بھی نہ بخشا۔میری اطلاعات کے مطابق بلاول اورآصف زرداری صاحب کے درمیان اب بھی کچھ معاملات پر شدید اختلافات ہیں۔

بلاول کے اسٹاف افسر حشام ریاض شیخ انہیں اردو سکھاتے اور آج کل سیاسی تربیت دے رہے ہیں۔ حتی کہ بلاول جلسوں میں تقاریر بھی حشام ریاض کی مشاورت سے کرتے ہیں۔سانحہ کارساز کی ساتویں برسی کے موقع پر کی گئی تقریر بھی انہی صاحب نے تیار کی تھی اور اس کی حتمی منظور ی آصف زرداری سے نہیں لی گئی تھی۔اس لئے پی پی پی کے لئے بلاول کی تقریر کے بعد مسائل پیدا ہوئے۔بلاول بھٹو قابل نوجوان سیاست دان ہیں۔سب سے بڑھ کر بینظیر بھٹو کے جانشین ہیں۔جن سے آج بھی عوام کی جذباتی و نظریاتی وابستگی ہے مگر بلاول کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جب بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو وہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر مبشر،مصطفی کھر جیسے افراد کو مشاورت کے لئے ترجیح دیتی تھیںاور ان کے تجربے سے سیکھتی تھیں۔بلاول کو بھی چاہئے کہ اپنی والدہ کے سیاسی نقش قدم پر چلے۔بلاول کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ پی پی پی میں ایک مرتبہ پھر روح پھونک سکتے ہیں۔اپنی سیاسی زندگی کے پہلے بڑے جلسے میں ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور اپنی خالہ صنم بھٹو کے ساتھ ان کی اسٹیج پر آمد نے یہ تو واضح پیغام دے دیا کہ بلاول ہی بھٹو خاندان کی نئے روح رواں ہیں۔ضنم بھٹو اب اس دنیا میںذوالفقار علی بھٹو کی واحد وارث ہیںاور قارئین کی اکثریت آگاہ ہوگی کہ صنم بھٹو نے کبھی سیاسی جلسوں میں شرکت نہیں کی۔

کراچی کے جلسے میں بلاول کے ساتھ ان کی آمد پی پی پی کے جیالوں کے لئے واضح پیغام تھا۔مگر ان سب حقائق سے ہٹ کر بلاول کو تدبر کا مظاہر کرنا چاہئے نہ کہ کوئی غیر سنجیدہ قدم اٹھاکر وہ اپنے لئے مشکلات پیدا کریں۔سندھ حکومت سے ایم کیو ایم کی علیحدگی کے بعد مستقبل قریب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مشکل پیش آئے گی۔پیپلز پارٹی کے ارباب اختیار کی پوری کوشش ہوگی کہ ایم کیو ایم سے تعلقات بحال کئے جائیںکیونکہ زرداری کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ سندھ میں اپنے لئے ایک اور مخالف کھڑا کرلیں۔
ان حالات میں وفاقی حکومت کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے آپ کو مزید مسائل میں الجھانے کے بجائے ان کا حل تلاش کرے۔انقلاب کی آس لگائے اسلام آباد آنے والے آج اپنے گھروں کو تو لوٹ گئے ہیں مگر سونامی خان مٹھی بھر افراد کے ساتھ اب بھی ڈی چوک پر براجمان ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور حالیہ سیاسی بحرانوں سے چھٹکارا نصیب ہو تو بلاتاخیر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت سے حلقہ بندیاں تشکیل دے کر غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کرانے کا فوری اعلان کریں۔عوام کی اکثریت اب کسی ایک فرد کے پاس طاقت کو برداشت نہیں کر تی اور آپ اب تک یہ نہیں سمجھ پارہے۔بہتر ہوگا کہ اختیارات کو جتنا ہوسکتا ہے تقسیم کریں وگرنہ ملک کے ہر کونے سے آنے والی مڈٹرم الیکشن کی صدا زور پکڑ جائے گی اور پھر کوئی اسے روک نہیں پائے گا۔

حذیفہ رحمان
بشکریہ روزنامہ "جنگ

No comments:

Powered by Blogger.