Header Ads

Breaking News
recent

میرے پاکستان… میں شرمندہ ہوں.....


جب کبھی میں بڑے پاکستانیوں کی گنتی کرتا تھا تو اس فہرست میں سب سے پہلا نام قدرتی طور پر عبدالستار ایدھی کا آتا تھا اور آخری نام کسی سیاستدان کا۔ میں ایدھی صاحب سے کبھی ملا نہیں لیکن وہ مجھ سے ہر روز ملاقات کرتے رہے ہیں۔ میں جب بھی کسی راستے پر ایدھی ایمبولینس دیکھتا تھا اور اس کا کوئی دفتر میرے راستے میں پڑتا تھا جہاں سے پاکستانیوں کو باعزت مدد امداد ملتی تھی تو میرا دل سکون اور اطمینان کی دولت سے بھر جاتا تھا۔

مجھے کسی نے یاد دلایا کہ ریسکیو سروس بھی ایک سیاستدان پرویز الٰہی نے اپنی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں شروع کی تھی تو میرے دل سے سیاستدانوں کے خلاف میل بھی ذرا سا دھل جاتا تھا کیونکہ میں نے اس سروس کو دو بار استعمال کیا ہے۔ اس کے تربیت یافتہ رضاکاروں نے میرے گھر کی دوسری منزل سے مریض کو بحفاظت اور بآرام نیچے اتار کر اپنی ایمبولینس میں ڈال لیا اور پھر اسپتال کی طرف ہوا ہو گئی۔ گھر والے بعد میں پہنچے جب مریض معالجوں کی تحویل میں جا چکا تھا۔ مجھے تعجب ہوا کہ ایک پیدائشی سیاستدان بھی ایسی نیکی کا کام کر سکتا ہے لیکن یہ محدود علاقے کے لیے تھا مگر ایدھی پورے پاکستان کا مدد گار اور رضا کار ہے۔ تعجب ہے کہ ہمارے برے لوگوں کو بھی خدا نے ایدھی جیسی نعمت عطا کر دی تھی۔

میں اس بوڑھے شخص پر ہمیشہ فخر کرتا رہا اور خدائے پاک کا شکر ادا کرتا رہا ساتھ ہی یہ التجا بھی کہ ایسا شخص زندہ سلامت رہے لیکن جب ایدھی کی بے حرمتی کی خبر ملی اس کے گھر سے لوگوں کی امانتوں کی چوری کی اطلاع ملی تو میں سُن ہو کر رہ گیا۔ کیا ہم پاکستانی اخلاقی زوال کے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ ایدھی کا احترام بھی ہمارے اندر باقی نہیں رہا۔ ایدھی کی عزت و وقار نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک ہی ایدھی ہے اور ہم اس کے پاؤں بھی دھو کر پیئں تو کم ہے۔ میں نے ان دنوں ایک جعلی لیڈر کے پاؤں میں انتہائی غیر اسلامی انداز میں جھکتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے مگر ایدھی تو ہمارا پیر و مرشد ہے اس کی زندگی میں ہمیں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے کردار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں وہ بادشاہ یاد آتے ہیں جو ہر روز صبح سویرے نماز کے بعد اپنے حلقے کی ایک بڑھیا کے گھر میں جا کر اس کا کھانا تیار کرتے تھے اور جب کچھ دیر بعد مستقبل کا دوسرا بادشاہ آتا اور بڑھیا کو کھانا کھاتے دیکھتا تو وہیں بیٹھ جاتا کہ ابو بکر تم کچھ تو ہمارے لیے بھی چھوڑ دو۔

ہم نے انھی لوگوں کے نام پاکستان بنایا تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الاللہ‘‘ پاکستان بنانے والے ہمارے بزرگوں کی دعاؤں سے ہمیں کچھ اچھے پاکستانی بھی مل گئے لیکن ایدھی تو ایک مثال ہے ایک تبرک ہے جو پاکستان کو عطا کیا گیا۔ جن لوگوں نے اس کے ہاں اپنے سونے کے انبار بطور امانت رکھوائے تھے وہ تو کبھی ان کا تقاضا نہیں کریں گے اور نہ وہ خواتین جنہوں نے اپنا سرمایہ اور زیورات رکھوائے تھے۔ ایدھی کو سرمائے کی کمی کا سوال ہی نہیں ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ میرے پاس روپیہ بہت ہے مگر کام کرنے والے کم ہیں جن کی تلاش ہے۔ ایدھی کے آنسو بہہ نکلے ہیں اسے زندگی بھرکی خدمت اور کمائی کا جو صلہ ملا ہے شاید اس سے زیادہ اس کے آنسو قیمتی تھے۔ ایدھی کی بے حرمتی اور اسے بے وقار کرنے کی کوشش ایک گناہ عظیم ہے یہ ایک ایسا ڈاکا ہے جس کی سزا اللہ تبارک تعالیٰ ہی دے گا۔

ایدھی کی بے توقیری کی خبر عام ہو چکی ہے مگر کسی حکمران کو خدا نے یہ توفیق نہیں دی کہ وہ اس بہت بڑے نادر روز گار پاکستانی کے حضور حاضری دے کر اسے کچھ تسلی دیں۔ وزیر اعظم اس کی خدمت میں کیوں حاضر نہیں ہوتے۔ کیا اللہ کی ذات ان سے اتنی ناراض ہے کہ ان سے نیکی اور نیک نامی کا یہ موقع بھی چھین لیا۔ یہی حال دوسرے حکمرانوں کا ہے جن کی بدکاریوں کی داستانیں عام ہیں لیکن ان کو نیکی کا ایک موقع ملا تو وہ اس سے محروم رہے۔ زیادہ نہیں تو کراچی پولیس کے متعلقہ ملازمین کو ان کے افسروں سمیت ہتھکڑیاں لگا کر ایدھی کے لٹے ہوئے دفتر کے باہر بطور عبرت بٹھا دیا جاتا اور صوبہ سندھ کے کسی درجہ کے حکمران کو تو خود ہی نوکری اور عہدہ سے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس سب کے لیے قومی حمیت اور غیرت ضروری ہے جو موجود نہیں ہے۔
کوئی دوسرا ایدھی آئے گا یا نہیں لیکن اس ایدھی کے ساتھ پاکستانیوں نے جو سلوک کیا ہے وہ ضرور یاد رہے گا اور پاکستان کی تاریخ کو سیاہ کرتا رہے گا۔ شنید ہے پولیس کے چند اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے کہ وہ اب کسی دوسرے ایدھی کی تلاش کریں اور مالا مال ہوں۔ 

نہایت ہی دکھ اور شرم کی بات ہے کہ قوم نے ایدھی کے وقار کے چلے جانے کا سوگ نہیں منایا کوئی دھرنا نہیں ہوا بلکہ کسی نامور لیڈر نے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں کہے کہ پاکستانی اخلاق کی دولت لٹ گئی ملک دیوالیہ ہو گیا۔ ایدھی تو رو دھو کر اس عمر میں بھی اللہ کے بھروسے پر زندہ رہے گا لیکن ہم پاکستانی کس طرح زندہ رہیں گے اس پر مجھے خود اپنے آپ پر بھی بہت تعجب ہے۔ پنجابی کا ایک بڑا ہی سخت محاورہ ہے کہ غیرت تو کبھی کنجر کی بھی جاگ اٹھتی ہے خدا جانے ہم کون ہیں۔

عبدالقادر حسن

No comments:

Powered by Blogger.