Header Ads

Breaking News
recent

کانگریس مرجھا گئی.....


ہریانہ اور مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات میں کانگریس کی شکست کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ جن لوگوں نے 2014ء کے لوک سبھا کے انتخابات کے بعد سیاسی اتار چڑہاؤ پر نظر رکھی ہے ان کو پتہ تھا کہ کانگریس اب قصہ پارینہ بن چکی ہے اس پر کرپشن کے الزامات اس قدر شدید ہیں کہ عوام میں اس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ دیگر پارٹیاں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

ہریانہ کی مثال ہی لیجیے جہاں ماضی میں بی جے پی کے 10 سے زیادہ امیدوار کبھی کامیاب نہیں ہوئے مگر اس بار اس پارٹی نے تن تنہا اپنی حکومت بنا لی ہے۔ اس سے پارٹی کی تیز رفتار ترقی کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ مہاراشٹر میں شیو سینا نے کانگریس کا تختہ الٹ دیا ہے جب کہ بی جے پی نے بھی اتنی نشستیں جیت لی ہیں کہ ان دونوں پارٹیوں کو مکمل اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ کیا سیاسی منظر نامہ میں یہ حیرت انگیز تبدیلی نریندر مودی کی اس کشش کا نتیجہ ہے جو اس نے قوم پر طاری کر دی ہے تاہم اب یہ بات مزید بحث مباحثہ کا موضوع نہیں رہی۔ اور نہ ہی اب اس بات میں کوئی شک رہا ہے کہ بی جے بی ایک قومی پارٹی کے طور پر ابھر آئی ہے اور مودی ایک قومی لیڈر بن چکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مودی قومیت پرستی کو ترب کے پتے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ علاقائی عصبیت کو ہوا دے رہے ہیں جب کہ سیکولر قوتیں بزدلی سے ہمت ہار رہی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہریانہ اور مہاراشٹر جو بصورت دیگر دونوں ہی ترقی پسند ریاستیں ہیں مگر وہاں سے بہت کم تعداد میں عورتیں کامیاب ہوئی ہیں۔ اس کی ذمے داری پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے محض چند خواتین امیدواروں کو کھڑا کیا ۔ اس سے ووٹروں کی دقیانوسی سوچ بھی ظاہر ہوتی ہے۔ آزادی کے تقریباً سات عشروں کے بعد بھی عورتوں کو ان کا جائز حق نہیں مل سکا۔
میں نہیں سمجھتا کہ کانگریس آیندہ دس سال تک بھی اقتدار میں واپس آ سکے گی۔ اور اس کے لیے بھی نئے جوش و جذبے اور نئی قیادت کی ضرورت ہو گی اور چونکہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی خاندانی سیاست سے آگے نہیں دیکھ سکتیں لہٰذا پارٹی کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں۔ وہ سالہا سال سے راہول گاندھی کی کامیابی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ مگر وہ اب تک یہ نہیں سمجھ سکیں کہ نہ تو اس کو کوئی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی موصوف میں ایسی کوئی صلاحیت موجود ہے کہ وہ میدان مار سکے۔

کانگریس کی بدنظمی صاف نظر آ رہی ہے اور پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اس کا ثبوت ہے۔ کانگریس کے پرانے وفاداروںنے جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے راہول گاندھی اور ان کی ٹیم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور انھیں شکست کا ذمے دار قرار دیا ہے لیکن اس قسم کی آوازوں کی پارٹی میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ پارٹی کو سونیا اور راہول گاندھی ہی چلاتے ہیں اور اب جب کہ دونوں ناکام ہو چکے ہیں تو عوام کس کے پاس جائیں؟ دونوں نے مبینہ طور پر ایک مرتبہ مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی لیکن کانگریس کی وفادار ورکنگ کمیٹی نے ان کے استعفے منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں خود ہی پارٹی ہیں اور خود ہی پارٹی قیادت ہیں اور دونوں یہ کوشش کرتے ہیں کہ خاندان سے باہر دیگر عناصر کو اندر نہ آنے دیا جائے۔

منطقی طور پر لوک سبھا اور بعض ریاستوں کے انتخابات میں شکست کے بعد راہول کا سیاسی کیرئیر ختم ہوجانا چاہیے۔ لیکن خاندانی سیاست میں اس اہم مسئلہ پر بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ کانگریس کی بقا کے لیے گاندھی فیملی کو کلیدی حیثیت دی جاتی ہے۔ راہول پارٹی کے لیے بہت اہم ہے بالخصوص اس صورت میں جب کہ سونیا کی صحت درست نہیں ہے۔ راہول کے سیاسی کردار کے بارے میں شکوک و شبہات کے باوجود پارٹی میں ایسے سرپھروں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن وہ لیڈر کا کردار ادا کرنے لگے گا۔ گویا کانگریس اور سونیا کی حکمت عملی بس یہیں تک محدود ہے۔ پارٹی کے دیگر رہنما جب راہول کو تنقید سے تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اے کے انتھونی کی رپورٹ میں پارٹی کے مایوس کن نتائج کی ذمے داری راہول کے بجائے تنظیمی خامیوں پر عائد کی گئی ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر میں ہونے والی انتخابی مہم سے راہول کو باہر نکال لینا چاہیے تھا کیونکہ اس کی موجودگی سے منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
ایک اچھی بات یہ ہے کہ سونیا نے ایک خط میں یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ پارٹی کی سابقہ حیثیت کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پارٹی لیڈروں کے نام اس کے اس خط کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ان کے لیے حوصلہ افزائی کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس سے ان میں اعتماد بحال ہوا ہے لیکن یہ راستہ بہت طویل ہے اور اس کے لیے انتھک جدوجہد درکار ہو گی۔

پارٹی کے جو لیڈر ہمت ہار بیٹھے تھے ان کے لیے اس خط نے اعتماد کی بحالی کا کام کیا ہے اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ راہول کے طرز عمل کے برعکس اس کی والدہ کے خط میں بہت ہمدردانہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس سے اس مشکل و قت میں ان کو حوصلہ ملا ہے لیکن ان کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر راہول اپنے انھی مشیروں پر کیوں انحصار کر رہا ہے جنہوں نے گزشتہ دو برس میں اس کو بار بار انتخابی ہزیمت سے دوچار کیا ہے۔
سادہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس والوں کے لیے گاندھی خاندان کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ آزادی کے بعد سے یہی خاندان پارٹی چلاتا رہا ہے۔ جواہر لعل نہرو کو برگد کے اس درخت کی مثال تصور کیا جاتا ہے جس کی گھنیری چھاؤں کے نیچے اور کوئی پیڑ پودا پنپ ہی نہیں سکتا۔ کانگریس انھی پر انحصار کرتی تھی اور ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ لینے والا اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ ان کی بیٹی اندرا گاندھی جس کی خود نہرو نے پرورش کی تھی ابتدا میں پارٹی والوں کے نزدیک قابل قبول نہیں تھی۔ تاہم رفتہ رفتہ اس نے چوٹی کا مقام حاصل کر لیا۔

کانگریس کا خاتمہ ممکن ہے ملک کے لیے اچھا نہ ہو کیونکہ اس نے سیکولرازم کے فلسفے کے تحت ملک کو ایک نظریاتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کانگریس کا خلاء جو عناصر پُر کر رہے ہیں وہ ملک کی یکجہتی کے منافی ہیں۔ وہ ملک کو فرقہ بندی میں تبدیل کر رہے ہیں۔ منی پور اور دہلی کے عوام پر حملے ایک تازہ مثال ہیں۔ بدقسمتی سے مودی کو آر ایس ایس کی آشیر باد حاصل ہے جو کہ حکومتی امور میں بھی مداخلت کرتی ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کا بھارت کے سرکاری ٹی وی دور درشن پر نمودار ہو کر آر ایس ایس کے فلسفے پر روشنی ڈالنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ ان کی پالیسی حکومت کا لازمی جزو ہے افسوسناک ہے۔ فی الوقت مودی تعمیر و ترقی کی بات کر رہے ہیں اور آر ایس ایس کے فلسفے کو بڑھاوا دینے کی کوشش نہیں کر رہے۔ لیکن ان کے لیے آر ایس ایس سے فاصلہ بڑھانا ناگزیر ہے کیونکہ اس میں ان کی ساکھ برقرار رہ سکتی ہے۔ مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں حالانکہ وہ بھی اتنے ہی اچھے ہندوستانی ہیں جتنے کہ ہندو ہیں۔ مسلمانوں کو اعتماد دیا جانا چاہیے لیکن مودی یہ کس طرح کرتے ہیں یہ ان کا مسئلہ ہے۔ مگر یہ کام ضرور کیا جانا چاہیے۔

کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.