Header Ads

Breaking News
recent

صحافیانہ ذمہ داری اورخطرات.....



ایک ٹی وی رپورٹرسیلاب کے پانی میں کھڑا ہوا تھا اور چیخ چیخ کر ان تمام تباہ کاریوں کے لیے جمہوریت کو برا بھلا کہہ رہا تھا، جو بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ اس کے بار بار چیخنے چلانے اور ملامت کرنے سے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اس کے پاس رپورٹ کرنے کو کچھ تھا نہیں یا اسے رپورٹنگ میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس طرح کے مناظر پاکستان میں ٹی وی اسکرینوں پر اکثر نظر آتے ہیں، اور ناظرین بھی اب ان کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔

لیکن اس قسم کےمناظر اورایسی رپورٹیں آخر کیا ظاہرکرتی ہیں؟ کیا وہ چینلوں کے درمیان ریٹنگ کی دوڑ کا حصہ ہیں یا ان کا مقصد کسی میڈیا گروپ یا کسی مخصوص شخصیت کے مستعار لیے ہوئے ایجنڈے کی تشہیر کرنا ہے؟ ٹی وی کا ایک باشعور ناظر جب بھی ایسی جانبدارانہ رپورٹنگ دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایسے سوال اکثر اٹھتے ہیں۔

تباہیوں، بحران یا تنازعات کی صورت حال کی رپورٹنگ کرنا ایک صحافی کے لیے ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے، اور یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے ٹی وی رپورٹروں کی ایک بڑی تعداد عام واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت بھی غیر پیشہ وارانہ اور سنسنی خیز نقطۂ نظر اپناتی ہے۔ میڈیا کے کچھ ماہرین کی نظر میں یہ بات پروفیشنل اور بامقصد رپورٹنگ کے قتل عام کے جیسی ہے۔ یقیناً، پاکستان کا پورا میڈیا ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ایک مخصوص رپورٹنگ کی وجہ سے پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ دیانت داری مشکوک سمجھی جائے گی۔
اس تناظر میں اسلام آباد کے ایک ریسرچ گروپ کی تحقیق "پاکستان میں میڈیا کو حاصل تحفظ"، جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں کے شکار اور مارے جانے والے صحافیوں کی کیس ہسٹریوں پر مبنی ہے، میں یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحافی اس پیشے کو اپنی سماجی ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے اپناتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سماجی ذمہ داری ان صحافیوں کے لیے صحافیانہ فرائض کا ایک اہم عنصر ہے، جو سماجی کاموں میں کسی بھی سطح پر سرگرم ہیں۔

یہ چیز ان کی تعلیمی اسناد سے بھی ثابت ہوتی ہیں جو اکثرسماجی ذمہ داری کی وجہ سے اس پیشہ کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ معاشرے میں کچھ تبدیلی لائی جاسکے۔ درحقیقت، یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ اکثرخصوصی کہانیوں کی کھوج کرکے ان کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

صحافیوں میں اس مخصوص قسم کے رویے کی وجہ بھی یہی عنصر ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں اکثر نا صرف مشکل راستوں کو ترجیح دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات بنیادی پیشہ وارانہ ضابطوں سے سمجھوتہ کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ مختلف تجزیوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحافیوں کی سیاسی، نظریاتی اور مذہبی وابستگیاں ان کے کام اورپیشے کے حوالے سے اہم معاملات جیسے کہ واقعات کی رپورٹنگ کا انداز، ان کا اپنا ردعمل اور خطرات کے بارے میں ان کی سوچ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

پاکستان کے وہ صحافی جن کا تعلق چھوٹے اور مقامی میڈیا ہاؤسز سے ہے، زیادہ خطرے میں نظر آتے ہیں۔ ریاستی اور غیر ریاستی، دونوں عناصر مقامی سطح پر اس خطرے کی وجہ ہوتے ہیں۔ چھوٹے شہروں یا قبائلی علاقوں میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد کم سرکولیشن اور پہنچ رکھنے والے چینلوں اور اخبارات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو مسلسل دھمکاتے رہتے ہیں۔ اگر صحافیوں، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں رہنے والے صحافیوں کا تعلق بڑے میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ہو، تو کچھ تحفظ ضرور ملتا ہے، اورمیڈیا کی رپورٹنگ سے ناراض عناصر کا ردعمل اس حد تک نہیں ہوتا ہے کہ صحافیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث ہو۔

لیکن بہرحال، بڑے میڈیا ہاؤسز سے متعلّق صحافی اگر ریاستی یا غیرریاستی عناصر کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ان کے لیے زیادہ خطرہ ہے۔ وہ صحافی جن کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ نظریہ ساز ہیں یا کسی اہم مسئلے کے بارے میں خیالات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو زیادہ خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں، پارٹ ٹائم صحافی ہونا ان کو خطروں سے نہیں بچاسکتا۔ لیکن تحقیق کے مطابق ضروری نہیں کہ ایسے صحافیوں کی مذہبی اور سیاسی وابستگیوں کا ان خطروں سے کوئی تعلق ہو۔

مارے جانے والے صحافیوں کے بارے میں اس تحقیق سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ جس میڈیا گروپ سے ان کا تعلق تھا، کیا وہ ان سے اس خصوصی رپورٹنگ کا مطالبہ کرتے تھے یا نہیں۔ اور اس ثبوت کی عدم موجودگی میں یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ رپورٹر اکثر اپنی ذمہ داری پر ایسے خطرات مول لیتے تھے۔
اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی یہ، کہ وہ پیشہ وارانہ برتری یا مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سماجی، سیاسی اور نظریاتی مجبوری؛ اگر ان کی کوئی سیاسی وابستگیاں نا بھی ہوں تو بھی سیاسی صورت حال سے باخبر ہونے کے علاوہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں اورملک کے دوسرے حصوں میں مذہبی-سیاسی منظرنامے پر پیدا ہو رہے حالات کی آگہی رکھتے ہیں۔

یہ جائزہ یہ بھی بتاتا ہے کہ زیادہ خطرہ مول لینے والے صحافی ان متنازعہ علاقوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور انہیں خطروں کی سنگینی کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ یہ ان صحافیوں سے مختلف ہے جن کا تعلق خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے متنازعہ علاقوں سے ہے اور خصوصی رپورٹنگ سے ان کا تعلق نہیں ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی معمول کی رپورٹنگ میں کافی مواد ہو۔ دوسرا یہ کہ خطروں کی نوعیت، ان کی اثرپذیری اوردوستوں اور خاندان کا دباؤ ان علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کو خطروں کا غیرضروری رسک لینے سے دور رکھتا ہے۔

خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے بارے میں ان جائزوں سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ وہاں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو غیرریاستی عناصر سے خطرات ہیں۔ ان غیر ریاستی عناصر کو اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ میڈیا ان کو وہ توجہ نہیں دیتا جو ان کا حق ہے، اوریہ کہ ان کے نقطۂ نظر کو مسخ کیا جارہا ہے۔
حکومت اور میڈیا دونوں مل کر صحافیوں کو درپیش خطرات کو کم کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ صحافیوں کو خود بھی ان طاقتور عناصرسے متعلق خبروں کی اشاعت کے بارے میں زیادہ ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا جائے جو بہت جلدی ناراض ہوسکتے ہیں۔ مقامی صحافیوں کو اپنے میڈیا ہاؤسز سے مشورہ کرکے اس کا حل نکالنا چاہیے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی مسئلے کی اشاعت خطرات کے بغیر کیسے کی جاسکتی ہے۔

اس کے لیے کبھی کبھی حساس معاملات کی خبر میں رپورٹنگ کے مقام (Dateline) میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، یا میڈیا ہاؤس سے درخواست کی جاسکتی ہے کہ صحافی کوخطرناک مقام سے کہیں اور بھیج کراس مخصوص مسئلے کے بارے میں خبر شائع کی جائے۔

میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر رپورٹرز کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے پیشے کے قواعد وضوابط اور معیارکا خیال رکھیں، کیونکہ یہ بھی ایک سماجی ذمہ داری ہے۔ بامقصد رپورٹنگ معاشرے میں ان کی خواہش کے مطابق تبدیلی لاسکتی ہے۔ بلکہ حقیقت میں مقصدیت ہی معاشرے میں انصاف اور میرٹ کی ضامن ہوتی ہے۔

محمد عامر رانا
 
ترجمہ: علی مظفر جعفری
لکھاری سیکیورٹی ماہر ہیں۔

Journalism in Pakistan

 

No comments:

Powered by Blogger.