Header Ads

Breaking News
recent

نثار علی کی نثاریاں.......


جس زمانے میں ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریکِ بحالیِ جمہوریت عروج پر تھی تو اسٹیبلبشمنٹ نے احتجاجی جلوسوں کا زور توڑنے کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا کہ چلتے جلوس میں کچھ سادہ لباس سیاسی ورکر ٹائپ چہرے شامل کروا دیے جاتے۔

یہ ورکر جمہوریت زندہ باد، ضیا الحق مردہ باد کے نعرے لگواتے لگواتے جلوس کو مقررہ راستے سے بھٹکا کر اس جانب لے جاتے جہاں پولیس کی قیدی گاڑیاں کھڑی ہوتیں اور پھر مظاہرین کی پکڑ دھکڑ میں حکومت مخالف نعرے لگوانے والے یہ سادے بھی شامل ہو جاتے۔
 
جانے کیوں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کو دیکھ کر ایم آر ڈی کے جلوس کو بھٹکانے کی ڈیوٹی پر مامور وہ سادہ لباس نعرہ باز یاد آجاتا ہے۔
منگل سے جاری اچھا بھلا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جب یہ تاثر دینے لگا کہ جمہوری نظام کو لپیٹنے کی بالائے آئین سازشوں کے خلاف 99 فیصد سیاسی جماعتیں اپنے نظریات و شکایات سے بالاتر ہو کر دیوار کی صورت کھڑی ہیں اور ان کی ساری توجہ دھرنے کی غیر پارلیمانی سیاست ختم کرانے پر ہے۔ عین اس وقت ملک میں امن و امان کے قیام کے ذمہ دار وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی رگِ پراسراریت پھڑکی۔

انہوں نے اپنے کولھے سے لگی گن سیدھی کر کے سینیٹ کے قائدِ حزبِ اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن پر داغ دی اور ان پر لینڈ مافیا کے مقدمے لڑنے اور ایل پی جی گیس کا ناجائز کوٹا لینے کے الزامات لگا دیے۔
بندہ پوچھے کہ ان الزامات کی صحت سے قطع نظر ان کا ملک اور حکومت کو درپیش حالیہ بحران سے کیا براہ راست تعلق بن رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت جب پارلیمنٹ اور حکومت سڑک پر معاملات طے کرنے والوں کے محاصرے میں ہے۔

یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جس وزیرِ اعظم کا وزیرِ داخلہ اس کے کنٹرول میں نہیں تو پھر کس کے کنٹرول میں ہے
نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ کا چوتھا دن وزیرِ اعظم کی جانب سے معافی تلافی اور اعتزاز احسن کی دھواں دار جارحانہ صفائی کی نذر ہوگیا اور یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ جمہوریت اور آئین پسندوں کا اتحاد کیسے پل صراط پر کھڑا ہے۔
کچھ اور ہو نہ ہو اس پارلیمانی تماشے سے باہر کھڑے کنٹینری مقررین کے ہاتھ میں نیا ایمونیشن آگیا اور ٹی وی چینلوں کے اونگھتے ٹاک شوز میں ایک بار پھر زندگی پڑ گئی۔

اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جس وزیرِ اعظم کا وزیرِ داخلہ اس کے کنٹرول میں نہیں تو پھر کس کے کنٹرول میں ہے۔
انھی وزیرِ داخلہ نے اگست کے شروع میں کہا تھا کہ لاہور سے آنے والا لانگ مارچ اسلام آباد میں نہیں گھسنے دیا جائے گا۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ مارچ کو آبپارہ سے آگے کسی صورت نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریڈ زون کی لکیر کسی صورت عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریڈ زون سے آگے کسی صورت نہیں جانے دیا جائے گا۔

اور پھر یہ ہوا کہ مظاہرین نے کپڑے دھو کر سپریم کورٹ کے جنگلے سے لٹکا دیے۔ پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں صابن مل کے نہانا شروع کر دیا ، پی ٹی وی کی تاریں کاٹنے کے بعد کینٹین میں کھانا بھی اڑایا اور وزیرِ داخلہ ’اِب کے مار، اِب کے مار‘ ہی کرتے رہ گئے۔

آج وزیرِ اعظم پارلیمنٹ میں سر جھکا کے ہر تقریر سن رہے ہیں مگر وزیرِ داخلہ کا تنتنا کسی جنرل رومیل سے کم نہیں۔
کیا یہ وہی نثار علی خاں تو نہیں جنھوں نے اپنے بڑے بھائی اور سیکریٹری دفاع جنرل (ریٹائرڈ) چوہدری افتخار علی خاں مرحوم کے ساتھ مل کے منگلا کے کور کمانڈر جنرل پرویز مشرف کا نام بطور چیف آف آرمی سٹاف وزیرِاعظم کے سامنے رکھا تھا کہ ’اینہوں بنا لئو، سدھا سادھا اردو سپیکنگ بندہ لگدا جے۔‘
پُل ہیں یا ’پش اینڈ پل‘

لوگ کہتے ہیں چوہدری نثار کو ساتھ رکھنا میاں برادران کی مجبوری ہے بھلے اس کی قیمت جاوید ہاشمی جیسوں کی قیمت دے کر ہی کیوں نہ چکانی پڑے اور یہ کہ فوج اور میاں برادرز کے درمیان چوہدری نثار علی ہی ایک مضبوط پل ہیں مگر یہ کون طے کرے کہ یہ واقعی پل ہیں یا پش اینڈ پل ہیں اور یہ کہ اس پل کے کھلنے بند ہونے کی چابیاں کس کے پاس ہیں؟
کیا یہ وہی چوہدری صاحب تو نہیں جنھوں نے اسی جنرل پرویز مشرف پر عین اس روز آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمۂ بغاوت چلانے کا اعلان کیا جس دن راولپنڈی شیعہ سنی فساد سے جل رہا تھا تاکہ میڈیا کو کھیلنے کے لیے دوسری گیند مل جائے۔

اور کیا یہ وہی چوہدری صاحب تو نہیں جو بعد میں اس بات کے حامی ہو گئے کہ بغاوت کی فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مشرف صاحب کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی جائے اور جب وزیرِ اعظم نے بات نہیں مانی تو چوہدری صاحب ایسے روٹھ گئے کہ کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بھی ان کا فون ساری رات بند رہا۔

یہ کیسے وزیرِ داخلہ ہیں جنھوں نے اب سے ہفتہ بھر پہلے دھرنا بحران میں فوج کی ثالثی کی خبر دی مگر انھی کے وزیرِ اعظم نے بھری پارلیمان میں اس مبینہ کردار کی تردید کر دی اور پھر فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو ایک علیحدہ بیان جاری کرنا پڑ گیا۔

ان پے در پے ’ایفی شنسیوں‘ کے بعد مہذب یا غیر مہذب کی بحث سے قطع نظر کوئی اور ملک ہوتا تو اس کا وزیرِ داخلہ خود ہی استعفیٰ دے کر کنسلٹینسی سے پیسے کمانے شروع کر دیتا مگر پاکستان ’کوئی اور ملک‘ تو نہیں ہے۔
لوگ کہتے ہیں چوہدری نثار کو ساتھ رکھنا میاں برادران کی مجبوری ہے بھلے اس کی قیمت جاوید ہاشمی جیسوں کی قیمت دے کر ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔
اور یہ کہ فوج اور میاں برادران کے درمیان چوہدری نثار علی ہی ایک مضبوط پل ہیں۔ مگر یہ کون طے کرے کہ یہ واقعی پل ہیں یا پش اینڈ پل ہیں اور یہ کہ اس پل کے کھلنے بند ہونے کی چابیاں کس کے پاس ہیں؟


آدمی اپنی زبان کے نیچے ہے  - حضرت علی 

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.