Header Ads

Breaking News
recent

تبدیلی آگئی مگر کیا وہ برقرار رہے گی؟....


منگل دو ستمبر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، جس میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے دوستوں کو جمہوریت کے نام پر ان کے دشمنوں سے دفاع کرتے دیکھنا کافی دلچسپ ہے، جو پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے انصاف اور انقلاب کے نام پر ن لیگ کے قائد کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

گزشتہ تین ہفتوں سے دونوں فریقین ایک دوسرے سے سینگ الجھائے ہوئے ہیں تاہم متعدد افراد نے اس تھکادینے والے سیاسی معرکے میں جو اچھی چیز دیکھی ہے وہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی مسلسل موجودگی ہے۔
اس بحران سے قبل وہ کبھی کبھار ہی قومی اسمبلی میں نظر آتے تھے جبکہ سینیٹ میں ان کی آمد صرف ایک بار ہوئی۔

وزارت عظمیٰ ملنے کے بعد پہلے سال میں وزیراعظم نواز شریف کو حزب اختلاف کے بینچز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جاتا تھا کہ قومی اسمبلی آنے کی بجائے ان کی زیادہ دلچسپی غیرملکی دورے کرنے پر مرکوز ہے۔
نواز شریف نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم منتخب ہونے کے انہوں نے سابق فوجی سربراہ اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل اور پھر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے یادگار اعلانات کیے، اس کے علاوہ بجٹ سیشنز بھی وہ مواقع ہیں جب وہ ایوان میں نظر آئے۔

اب چونکہ انہیں تمام جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے خصوصاً مخالف سیاسی جماعتوں کی، تاکہ متزلزل جمہوری نظام کو بچایا جاسکے، یہی وجہ ہے کہ وہ اب پارلیمنٹ میں اس لمحے میں داخل ہوتے ہین جب اسپیکر ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہیں اور آخری تقریر کے ختم تک موجود رہتے ہیں۔
ایک صحافی نے طنز کرتے ہوئے کہا" ایسا نظر آتا ہے کہ اگر ایوان کی کارروائی طویل ہوئی تو وزیراعظم رات بھر بھی یہاں رہنے کے لیے تیار ہوجائیں گے، یہ مسلم لیگ ن کی عادت ہے کہ وہ حالات کو دیکھنے کے بعد بہت تاخیر سے ردعمل کا اظہار کرتی ہے"۔

کئی دہائیوں سے قومی اسمبلی کی کارروائی کو کور کرنے والے صحافی نے کہا" توقع کی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم اس بحران سے سبق سکھیں گے، ورنہ تو پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے انہوں نے اپنے دفاع میں شگاف ڈالا ہے، وزیراعظم اور ان کی جماعت نے اپنی حکومت کو گرانے کے لیے ہرممکن اقدام کیے ہیں"۔
میاں نواز شریف میں آنے والی اس اچانک تبدیلی کا اثر ان کی جماعت کے اراکین پر بھی ہوا ہے، ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ، جو اسی وقت ایوان میں نظر آتے تھے جب ان کے قائد کبھی کبھار وہاں آجاتے تھے، اب موجودہ سیشن میں باقاعدگی سے نظر آرہے ہیں۔

وہ اسے اپنے قائد سے بات چیت کرنے کا موقع کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔
پہلے وزیراعظم نواز شریف سے تو بات چیت تو دور کی بات ہے مصافحہ بھی صرف ان اراکین کے لیے مخصوص تھا جو ان کی 'کچن کابینہ' میں شامل ہیں۔
یہ امر ہر ایک کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا ہے کہ الگ تھلگ رہنے والے وزیراعظم اب کھلے بازوﺅں کے ساتھ اپنے ملنے والوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں اور درخواستیں وصول کرتے ہیں۔

ایک موقع پر تو پریس گیلری میں موجود افراد نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وزیراعظم آفیشل انکلیوزر میں بیٹھے اپنے عملے کو ہدایات دیں کہ انہیں دی جانے والی درخواستوں پر فوری کارروائی کریں۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے ایک رکن اسمبلی نے کہا" گلیوں میں احتجاج کرنے والے صحیح ہے یا درست، اس سے قطع نظر میں یہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے حکومت مخالف مظاہرے ہماری قیادت میں بڑی تبدیلی لائے ہیں، اب نہ وہ صرف قابل رسائی ہوگئے ہیں بلکہ وہ ہماری درخواستوں کو سن بھی رہے ہیں"۔

یہ رکن اسمبلی ماضی میں نجی بات چیت میں وفاقی کابینہ پر بہت زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں۔
مسلم لیگ نواز کے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور ایم این اے سے جب رائے لی گئی تو اس نے قہقہہ لگایا" ہم بس توقع ہی کرسکتے ہیں کہ یہ بحران پرامن طریقے سے حل ہوجائے تو ہمارے وزیراعظم اسی طرح پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کو اپنا معمول بنائے رکھیں"۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے جاری مشترکہ اجلاس کے دوران حکومتی و اپوزیشن دونوں بینچز کی جانب سے بلند آواز یا خاموشی سے وزیراعظم کی ایوان سے غیرحاضری اور ان کی کابینہ اراکین کے تکبر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
جمعرات کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی نے وزیراعظم کو انتباہ کیا کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں نہ آئے تو"جمہوریت کے خلاف سازشیں جاری رہیں گی"۔
اس سے قبل ان کی جماعت کے رہنماءاعتزاز احسن نے میاں نواز شریف کو خبردار کیا تھا کہ توقع ہے کہ وہ موجودہ بحران سے نکل جائیں گے مگر وہ اپنی پرانی عادات کی جانب واپس لوٹے تو انہیں اس سے بھی زیادہ بدترین حالات کا سامنا ہوگا۔

خاور گھمن

No comments:

Powered by Blogger.