Header Ads

Breaking News
recent

سیلاب کا بحران اور طرز حکمرانی کی ناکامی........


حکومتوں کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب قوم سنگین مسائل سے دوچار ہو۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ بحرانوں کی صورت میں دو طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں: (1) ہم بحرانوں میں جو ردعمل دیتے ہیں وہ وقتی ہوتا ہے۔ ہم مسائل کی وجوہات کا تجزیہ کم اور مسائل سے وقتی طور پر نمٹنے کی حکمت عملی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ (2) ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ کسی نہ کسی واقعہ کے ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے ہمیں قبل از وقت جو ہوم ورک، منصوبہ بندی یا حکمت عملی درکار ہوتی ہے، اس کا فقدان قومی سطح کے اداروں اور حکومتی محاذ پر پایا جاتا ہے۔ یہ عمل ملک میں کمزور حکمرانی، بدعنوانی،کرپشن اور نااہلی پر مبنی نظام کی نشاندہی کرکے ہمیں حالات کی سنگینی، پیچیدگی اور بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لیکن ریاست، حکومت اور ہمارے انتظامی اداروں کے بقول ملک تیزی سے ترقی اور خوشحالی کا جانب بڑھ رہا ہے۔ 

اسی تضاد کے باعث ملک میں تیزی سے بالادست طبقات اور عام لوگوں میں اپنے اپنے سچ کے درمیان ایک واضح خلیج بڑی ’’بداعتمادی‘‘ کی صورت میں پیدا ہورہی ہے۔ اس کا ایک مظہر حالیہ سیلاب کے بحرانوں میں گھری ہوئی کمزور، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومت کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اگرچہ اس وقت حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی توجہ کا محور متاثرینِ سیلاب ہیں، لیکن یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیے کہ اس سیلاب سے بچائو کے لیے حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر قبل از وقت جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ کیوں نہیں کیے گئے؟کیا واقعی ہمارے ادارے اس طرح کی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یا عدم جوابدہی اور نگرانی کا کمزور نظام ان کی مؤثر کارکردگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؟

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کا اندازہ محض اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بقول انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر شدید ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح ایک بڑے قد کاٹھ کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بقول یہ قدرتی آفات ہیں اور خدا کی جانب سے آئی ہیں، اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں! پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود کے بقول ہم نے جو شاندار انتظامات کیے تھے انھی کی وجہ سے کئی ہزار لوگوں کی زندگیوں کو بچالیا گیا ہے۔ جہاں حکمرانی کا یہ انداز ہو، وہاں کے نظام کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ارباب اختیار اپنی ناکامی، نااہلی و بدعنوانی کو چھپانے کے لیے ’’خدا‘‘ کو ڈھال بناکر بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے اور دیگر تباہ کاریوں کا آنا فطری ہے، اور یہ واقعات مختلف وجوہات اور عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی اپنی سطح پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے کس طرزکے انتظامات کیے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انتظامات تو کرتے نہیں اور خدا کو بیچ میں لاکر خود کو بچانے کی کوشش کرکے لوگوں کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے اور دعا کیجیے۔ 

یعنی جو کام حکومتوں کا ہے اسے وہ کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دے کر کہا جاتا ہے کہ یہ جو عذاب آیا ہے خدا کی جانب سے ہے اور وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے۔ حالانکہ خدا ظالم نہیں، یہ نظام ظالمانہ ہے، اس لیے یہ سمجھنا ہوگا کہ نظام محض دعائوں سے نہیں چلتے، اس کے لیے کچھ کرکے دکھانا ہوتا ہے، جس میں ہمیں ناکامی اور نااہلی کا سامنا ہے۔
حکومتی سطح پر اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی، صوبائی اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں قائم کی گئی ہیں، لیکن وہ کوئی اچھی کارکردگی دکھانے سے قاصر ہیں۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری ان اداروں پر ہوچکی ہے ، لیکن نتیجہ نااہلی کی صورت میں سامنے ہے۔ حالت یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے پاس ان اداروں کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کا بھی وقت نہیں اور نہ ہی یہ ادارے ان کی ترجیحات کا حصہ نظر آتے ہیں۔

ان اداروں کا آخری سربراہی اجلاس 2012ء میں ہوا تھا۔ اسی طرح 2010ء میں جو بڑا سیلاب آیا اُس سے نمٹنے میں ناکامی، خامیوں یا غلطیوں سے بھی ہماری حکومتوںنے کچھ نہیں سیکھا۔ 2010ء میں پنجاب فلڈ کمیشن رپورٹ میں جن بے ضابطگیوں، خامیوں سمیت مستقبل میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے جن اقدامات کی نشاندہی کی گئی، اس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کچھ نہ کرسکے۔ جسٹس منصور کی سربراہی میں اس کمیشن نے اُن تمام افراد کی نشاندہی کی تھی جو اس سیلاب میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ پر کچھ نہیں کیا، اور جو لوگ اس سیلاب میں تباہی کے ذمہ دار تھے اُن کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انھیں باقاعدہ ترقیاں دی گئیں۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس رپورٹ پر عملدرآمد نہ کرکے پنجاب کے وزیراعلیٰ نے مجرمانہ کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔ سیلاب کی آمد پر حکومت کا مؤقف تھا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ سیلاب آنے والا ہے، اور یہ محض ایک حادثہ تھا… لیکن چیف میٹیرلوجسٹ کے بقول ہم نے جولائی میں ہی صوبائی حکومت کو شدید بارشوں کی نشاندہی کردی تھی، لیکن حکومتی سطح پر ہماری دی گئی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سچ بول رہے ہیں یا چیف میٹیریالوجسٹ؟

یہ بات ذہن نشین رہے کہ پنجاب میں پچھلے چھ سال سے میاں شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن)کی حکومت ہے۔ یہ سوال تو پنجاب کے وزیراعلیٰ سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیوں وہ 2010ء میں فلڈ کمیشن رپورٹ پر خاموش رہے؟ اورکن سیاسی وجوہات یا اقربا پروری کی بنیاد پر ذمہ داروں کو حکومتی تحفظ دے کر بچایا گیا؟ ہمارے بعض دوستوں کے بقول پنجاب کے وزیراعلیٰ بڑے فعال ہیں اور حکمرانی کا مضبوط نظام رکھتے ہیں۔ لیکن جب مسائل ابھر کر سامنے آتے ہیں تو ان کے یہ دعوے محض دعوے ہی رہ جاتے ہیں، کیونکہ اصل مسئلہ نظام اور اداروں کو مؤثر بنانے کا ہوتا ہے، لیکن ہمارے حکومتوں کا مسئلہ فوٹو سیشن ہے ۔ شہبازشریف کی نیک نیتی اپنی جگہ، لیکن جس طرح سے انھوں نے پورے نظام کو محض اپنی ذات کے گرد رکھا ہوا ہے، اس سے ان کی حکمرانی کا نظام متاثرہواہے۔ سیلاب کے بعد حکومتی اداروں اور ان کے ماتحت ادارہ جاتی نظام کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے آگئی ہے۔

 اب ایسی صورت حال میں لوگ اچھی حکومت کے ان دعووں کا کیا کریں جو حکومت کرتی ہے! لوگوں کو تو گلہ ہے کہ اس مشکل وقت میں حکومت وہ کچھ نہ کرسکی جس کی وہ ہمیشہ سے تسلیاں دیا کرتی تھی کہ ہم نے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ جب وقت آتا ہے تو ہماری حکومت اپنی بے بسی کا اظہار کردیتی ہے۔

جہاں تک سیلاب متاثرین کی امداد کا تعلق ہے اس کی تقسیم اور ترسیل کا نظام بھی بڑا غیر مؤثر اور غیر مہذب ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے حکمرانی کے نظام پر اس سے زیادہ کیا ماتم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس امدادی سامان بالخصوص خوراک کی تقسیم کا مہذب اور شفاف نظام جو لوگوں کی عزتِ نفس کو برقرار رکھ سکے، نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکمران طبقات کی جانب سے مسلسل مقامی حکومتوں کے نظام اور مقامی طرز حکمرانی کے نظام کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب مقامی ادارے فعال ہی نہ ہوں اور یہ سمجھا جائے کہ ہم مقامی حکمرانی کا نظام مرکزی نظام کے تحت چلا کر اچھی حکمرانی کا نظام قائم کرسکیں گے، محض خوش فہمی ہی کہی جاسکتی ہے۔ جس انداز سے لوگوں کی مدد کی جارہی ہے اس سے ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جارہا ہے، لگتا ہے یہ متاثرین کی نہیں بلکہ بھکاریوں کی ایک لمبی قطار ہے جن میں بڑی بے دردی سے اشیاء تقسیم کی جارہی ہیں۔ ہماری بیوروکریسی یا انتظامیہ کا نظام بھی اس قدر ناقص ہے کہ اس پر دکھ ہوتا ہے۔ ہماری سرکاری مشینری کی جو حالت ہے اس میں وہ کیسے ایک مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے! اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اداروں کے درمیان نگرانی کا نظام بھی کمزور ہے ۔ ایک ایسا نظام جو اپنی ساکھ مجروح کرچکا ہے، ہم اس سے کیوں امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ قومی اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے!

وہ تو بھلا ہو مقامی تنظیموں اور خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کا جو حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت آگے آتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی حمایت سے چلنے والی الخدمت فائونڈیشن بھی اسی محاذ پر سرگرم ہے۔ الخدمت فائونڈیشن بہت عرصہ سے پاکستان میں آنے والے ہنگامی حالات یا آفات میں اپنی خدمت کے ساتھ میدان میں موجود رہتی ہے۔ اس کے کارکن واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں جو اس تباہ کاری میں رضاکارانہ بنیاد پر وہ کام کرتے ہیں جو بنیادی طور پر ریاست یا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن ہماری ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہوتی ہے۔ الخدمت فائونڈیشن کے ترجمان شعیب ہاشمی کے بقول ان کے ادارے نے فوری طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کیے ہیں اور 35میڈیکل کیمپ، 15موبائل میڈیکل کیمپ، 5فیلڈ ہسپتال، 300 ٹینٹ اور 1000ترپال کی مدد سے اب تک 43,800 سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کے لیے اپنے مقامی الخدمت کے دفتر سے رجوع کریں، تاکہ آپ کی امداد متاثرین کے دکھوں اور محرومیوں کا فوری طور پر ایسا مداوا کرسکے کہ وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں آسکیں۔

پچھلی بار بھی اور اِس بار بھی ہم نے سیلاب میں مقامی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی طاقت ور لوگوں کی انتظامی امور میں مداخلت کے مناظر دیکھے ہیں۔ افراد اپنی زمینوں اورعلاقوں کو بچانے کے لیے اپنے سیاسی اثرو نفوذ کی بنیاد پر مقامی سطح پر شفاف اور منصفانہ فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس طرز کے فیصلوں کے لیے انتظامی اور پروفیشنل ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ لوگ ان ہنگامی حالات میں بھی اداروں پر اختیار کو بالادست کرکے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔ 2010ء کی فلڈ کمیشن رپورٹ میں بھی ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی دبائو اور تعلقات کے باعث نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقامی طاقت ور سیاسی لوگوں میں احتساب کا ڈر ختم ہوجائے تو وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی جھنگ شہر اور اٹھارہ ہزاروی کے بند توڑنے کے معاملے پر ایک مقامی حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے کے درمیان جو توتکار ہوئی تھی، وہ بھی میڈیا میں آئی ہے جس سے ظہار ہوگیاکہ سیاسی لوگ کیسے محض اپنے مفادات کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں، جس کا نقصان قومی سطح پر ہوتا ہے۔

اسی طرح ہماری سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور جمہوری ڈھانچہ سب کو بے نقاب کردیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کسی نے بھی حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا رونا نہیں رویا اور نہ ہی ایسی کوئی حکمت عملی ترتیب دی جس سے اس بحران سے مقامی سطح پر نمٹا جاسکے۔ جب ہم مقامی سطح پر ایسے کوئی ڈھانچے ہی نہیں بنائیں گے ۔ہمارے ادارے فعال نہیں اس کی وجہ ہماری قومی سیاست کی خرابیاں ہیں۔
یہ مسئلہ محض سیلاب کی تباہ کاری تک محدود نہیں، بلکہ ہمارا حکمرانی کا پورا نظام سب کے لیے وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ لوگ بری حکمرانی سے نجات چاہتے ہیں، لیکن کیسے؟ یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔ کیونکہ جو سیاسی قوتیں اس فرسودہ نظام سے ہمیں باہر نکال سکتی ہیں، وہ خود اس فرسودہ نظام کا حصہ بن کر اقتدار کی سیاست کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں لوگوں میں حکومتوں پر غصہ ہے، وہیں قومی سیاسی قیادت پر بھی ہے جو جمہوریت کو بنیاد بناکر عوام دشمن استحصالی نظام کو طاقت فراہم کررہی ہے۔ اس سیلاب میں بھی ماسوائے چند مذہبی جماعتوں کے باقی سب جماعتیں محض زبانی جمع خرچ کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ جب تک ہم اپنے حکمرانی کے نظام کو چیلنج نہیں کریں گے، اور اس میں ہنگامی اور ایمرجنسی بنیادوں پر جزوقتی اور کل وقتی منصوبہ بندی کرکے اداروں میں جوابدہی کے تصور، نگرانی کے مؤثر نظام، درست ترجیحات سمیت عوام کی شمولیت کے عمل کو یقینی نہیں بنائیں گے، مؤثر حکمرانی کا نظام نہیں چلاسکیں گے۔ جس حکمرانی کے جو نظام میں میرٹ سے زیادہ تعلقات کارفرما ہوتے ہیں، وہ لوگوں میں کبھی بھی اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس وقت بھی ہمارا حکمرانی کا نظام اپنی سیاسی، اخلاقی اور انتظامی ساکھ کے بحران کا شکار ہے، لیکن حکمران ابھی بھی اسی طرح کی غفلت کا شکار ہیں، جیسے ماضی میں رہے ہیں۔

سلمان عابد

No comments:

Powered by Blogger.