Header Ads

Breaking News
recent

سیاسی بحران کا شکار پاکستان قدرتی آفات کی زد میں........


سیاسی بحران کا شکار پاکستان اب قدرتی آفات کی زد میں آگیا ہے۔ تباہ کن بارشوں نے ملک میں ایک نیا بحران پیدا کردیا ہے۔ دھرنوں کی وجہ سے 547 ارب کا نقصان ہوگیا، قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو شامل کرنے سے کھربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، مہنگائی اوردیگر مسائل کا شکار تھا کہ سیاسی بحران نے جلتی پرتیل کا کام کیا، اور اب تباہ کن بارشوں سے ایک نیا انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ گویا ایک کے بعد ایک نئی آزمائش آرہی ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے دیگر اہم ترین اور عوام سے متعلقہ ایشوز پس پشت چلے گئے اور رہی سہی کسر بارشوں، سیلاب اور ان کے نتیجے میں ہونے والی جانی اور مالی تباہی نے نکال دی۔ چینی صدر کا مجوزہ دورۂ پاکستان ملتوی ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔ حالیہ بارشوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی۔ اب تک سینکڑوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ آزاد کشمیر کی حالت بھی انتہائی خراب رہی اور وہاں بھی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور مال کا نقصان ہو گیا۔ اس آفت سے کس قدر مالی نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ تو ابھی لگانا مشکل ہے۔ چینی صدر کے دورے کے التوا کے بھی ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

تازہ ملکی صورتِ حال کو اگر عوامی مسائل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت ملک سیلاب میں گھرا ہوا ہے۔ بھارت نے حسب عادت اطلاع دیے بغیر جس طرح پانی چھوڑا ہے اس سے آزاد کشمیر کے دریائے جہلم کے بعد پنجاب کا دریائے راوی، چناب اور اب ستلج بھی بپھر رہا ہے اور چند روز میں سیلاب کا لاکھوں کیوسک پانی دریائے سندھ کا سینہ چیرتا ہوا سمندر میں گر جائے گا۔ سمندر میں گرنے سے قبل سیلابی پانی نے آزاد کشمیر سے لے کر سیالکوٹ، نارووال، چنیوٹ، ملتان، مظفر گڑھ میں جو تباہی مچائی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔
نوازشریف حکومت قائم ہوئے سترہ ماہ ہوچکے ہیں، لیکن پچاس سے زائد ادارے سربراہوں سے خالی پڑے ہیں، ان میں قومی فلڈ کمیشن بھی شامل ہے۔ پنجاب اس سے قبل تین بار سیلاب کے بدترین نقصان کا شکار ہوچکا ہے لیکن حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ماضی کی طرح آج بھی سیلاب زدگان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ پنجاب میں کل 35 اضلاع ہیں جن میں دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج کے قریب بسنے والے 14 شہر ہر سال سیلاب کا شکار ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ساڑھے تین سال قبل 2010ء میں جنوبی پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر جسٹس منصور علی شاہ کمیشن بنایا تھا، مگر آج تک اس کی سفارشات پر عمل نہیں ہوسکا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو تین سوالات کا جواب دینا چاہیے:
  
جسٹس منصور علی شاہ کمیشن کی رپورٹ شائع کیوں نہیں کی گئی؟
  
سفارشات میں جن افراد کو نام لے کر تباہی کا ذمہ دار ٹھیرایا گیا تھا اُن کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟

 کمیشن نے جو سفارشات دی تھیں ان پر کس حد تک عمل ہوا؟ ان سوالات کا جواب واقعی ملنا چاہیے۔

پنجاب بھر میں دریائوں کے بپھرنے اور سیلابی ریلوں سے سینکڑوں دیہات کا شہری علاقوںسے رابطہ کٹ چکا ہے‘ سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور اور امداد کے منتظر ہیں‘ ہزاروں کچے پکے مکانات منہدم ہوچکے ‘ سینکڑوں بستیاں اجڑ گئیں، ہزاروں مویشی بہہ گئے‘ کئی مقامات پر اب تک درجنوں پل گرچکے ہیں‘ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 180 سے تجاوز کرگئی۔ پنجاب اور کشمیر سمیت پاکستان بھر میںشروع ہونے والی حالیہ بارشوں کے بعد پنجاب میں ہنگامی حالات نافذ کردی گئی ہے، 200 سے زائد انسانی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ108 مساجد سمیت200عبادت گاہیں بھی شدیدمتاثر ہوئی ہیں۔ ضلع گوجرانوالہ میں زخمیوں کی تعداد31ہو گئی، ضلع سیالکوٹ میں 22 زخمی،ضلع ناوروال میں مساجد کی چھتیں گرنے سے18 افراد زخمی ہوئے جبکہ دیگر شہروںمیں بھی مساجد میں پانی آنے اور چھتیں گرنے سے درجنوں نمازی زخمی ہوئے۔ضلع نارووال کے علاقہ ظفروال، شکرگڑھ،ضلع سیالکوٹ،تحصیل گوجرانوالہ میں ہندو اور سکھوں کی عبادت گاہوں میں پانی داخل ہوا۔علاوہ ازیں پنجاب کے مختلف شہروں میںگرجا گھروں میں پانی داخل ہونے سے 18 گرجا گھرمتاثر ہوئے۔حالیہ بارشوں سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق2109 گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے لوگ گھروں سے محروم ہوئے۔بھارت کے دریائے چناب میں پانی چھوڑنے سے ہیڈ خانکی کے مقام پر گزرنے والے 9لاکھ 47ہزار کیوسک کے ریلے نے تباہی مچادی ہے۔ سیلاب کے پانی سے بچائو کے لیے سول حکومت اور فوج دونوں مل کر کام کر رہے ہیں۔ عسکری قیادت نے ریلیف سینیٹرز بھی قائم کردیئے ہیں۔ بریگیڈیئر منیر افضل اور میجر جنرل صادق علی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سیلاب کا ذکر کیا جائے تو ایک بات کا ذکر کیے بغیر آگے بات نہیں کی جاسکتی۔ اسلام آباد میں امریکی دفتر خارجہ نے سفارت خانے کے ذریعے ایک پریس نوٹ جاری کیا کہ ’’پاکستان نے ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مدد طلب نہیں کی، پاکستان میں سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اگر مدد طلب کی گئی تو ضرور کریں گے۔ پا ک بھارت وزرائے اعظم نے سیلاب کی صورت حال پر رابطہ کیا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے ہرکوشش کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان سے مدد لینی ہو تو امریکہ کہتا ہے کہ بتائو تم ہمارے ساتھ ہویا دہشت گردوں کے ساتھ؟ اور اگر اس کا کوئی مفاد نہ ہو تو کہتا ہے کہ حکومت نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں پنجاب،خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر سیلاب میں ڈوبے ہیں اور پانی سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس وقت دریائے چناب میں تریموں ہیڈورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سیلابی پانی کے دباؤ سے بھکر روڈ کے قریب حفاظتی بند میں پڑنے والا شگاف پُر نہ کیا جاسکا۔ تریموں ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 9 ہزار کیوسک، ہیڈ بلوکی پر ایک لاکھ 9ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ پنجند پر 75 ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بہاولپور ریجن میں سیلاب کے پیش نظر بہاولپور کور کے 300 جوان اور 30 کشتیاں احمد پور شرقیہ، پنجند اور ملحقہ علاقوں کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ فوج کے جوان ہنگامی صورت حال میں متاثرین سیلاب کی مدد کریں گے اور سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں گے۔ متاثرین کو خوراک،خیمے، ادویات اور دیگر اشیاء بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس وقت صورت حال یہ بنی ہوئی ہے کہ دریاؤں کی بے رحم موجوں نے پنجاب میں تباہی کی نئی داستان رقم کردی، کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے،گھر بار، مال مویشی سب کچھ لٹ گیا،ہزاروں خاندان دیکھتے ہی دیکھتے کھانے پینے کو محتاج ہوگئے۔ ٹھاٹھیں مارتا سیلابی ریلا جہاں سے گزرا اپنے پیچھے تباہی چھوڑ گیا۔ دور دور تک نظر آتے اس پانی نے کھیت کھلیانوں اور ویرانوں میں فرق مٹا دیا۔ 

کتنے لوگوں کے پاس گھر رہا، نہ در، اور کتنے ہی خاک بسر ہوگئے۔ جدھر دیکھو چہروں پر غم ہی غم دکھائی دیتا ہے۔ کسی کو فصل کھو دینے کا غم ہے،اور کوئی مال مویشی بہہ جانے سے پریشان ہے۔ بارش میں کھیلنے کی ضد کرنے والے بچے بھی پانی کا غضب دیکھ کر سہم گئے۔ گھر کی چھت کھودینے والے لٹے پٹے لوگ کھلے آسمان تلے خیمہ زن ہوگئے۔چار روز سے کھانے پینے کو کچھ نہیں ملا۔ دریائے چناب کی منہ زور لہریں مسلسل بستیاں اجاڑ رہی ہیں۔سیلابی ریلے سے وزیر آباد،سودھرا،حافظ آباد اور منڈی بہاء الدین کے دیہات متاثر ہیں۔ہیڈ خانکی کے مقام پر فلڈ کنٹرول سینٹر،نہروں کے بند،30دیہات اور سڑکیں متاثر ہوئی ہیں،جبکہ نئے تعمیر ہونے والے بیراج کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔گوجرانوالہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہیڈ خانکی کے حفاظتی بند توڑ کرگوجرانوالہ اور گجرات شہر کو بچایاگیاہے۔پھالیہ کے مقام پر 50سے زائد دیہات متاثر ہیں اور لوگ گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں، الخدمت اور دیگر رضاکار کشتیوں کے ذریعہ لوگوں کو کھانا اور پانی پہنچا رہے ہیں۔ ہیڈ قادر آباد میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔سیلابی ریلے سے چنیوٹ کے 23 دیہاتوںمیں پانی داخل ہوگیا ہے۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے سیلابی پانی کے باعث خوشاب کے سو،اورسرگودھا کے دوسو بیس سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن میں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔حافظ آباد سمیت ہر سیلابی شہر میں الخدمت اور دیگر تنظیموں کے رضاکار کام کر رہے ہیںفلڈ کنٹرول سینیٹر کے مطابق پانی کی آمد 8لاکھ 91 ہزار کیوسک اور اخراج 8لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں دریائے جہلم میں ہیڈ رسول کے مقام پر پانی کا بہاو کم ہوگیا ہے۔دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوکر 3لاکھ 91ہزار ہوگئی ہے۔نالہ ایک میں پانی کی سطح 65ہزار سے کم ہو کر 35ہزار کیوسک ہے۔نالہ ڈیک میں پانی کی سطح کم ہونے کے باجود قلعہ احمد آباد کا علاقہ شدید متاثر ہے جس کی وجہ سے نارووال اور سیالکوٹ کا زمینی رابطہ ایک دوسرے سے منقطع ہوگیا ہے۔ سیالکوٹ، حافظ آباد، ونیکے اور جہلم کے متاثرہ دیہاتوں و علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، الخدمت اورفلاح انسانیت کی ایمبولینسیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں اسی طرح پسرور، چنیوٹ، جھنگ اور منڈی بہاء الدین کے سینکڑوں دیہاتوںکا رابطہ قریبی شہروں سے تاحال منقطع ہے۔ لوگ کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ نارووال کے چھوٹے بڑے ندی نالوں میں طغیانی سے 25 کے قریب دیہات ڈوبے ہوئے ہیں۔اس وقت اندازہ یہ ہے کہ پچاس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاںجاری ہیں،300 کشتیاں اور پانچ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ جن علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ان میں سیالکوٹ‘ وزیر آباد‘ گوجرانوالہ‘ بجوات‘ منڈی بہائو الدین اور وزیرآباد شامل ہیں۔ اتوار کو آزاد کشمیر انتظامیہ کی طرف سے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے گئے جن میں بتایا گیا ہے کہ اب تک حالیہ بارشوں اور سیلاب سے آزاد کشمیر میں 62افراد جاں بحق جبکہ 88 زخمی ہوئے۔ سیلاب سے 1693 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 3494 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ مظفرآباد سے وادی نیلم جانے والی شاہراہ نیلم کو تودے گرنے کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دیا گیاجس کے بعد مظفرآباد سے وادی نیلم کا زمینی راستہ بحال ہوگیا شہباز شریف نے 10گھنٹے تک جھنگ،چنیوٹ،وزیرآباداور سرگودھا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

سیلاب کی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دوروں کے موقع پر اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کوریلیف آپریشن کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ پنجاب کو 1972ء کے بعد تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔غیر معمولی سیلاب کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، ایک ایک زندگی عزیز ہے اوراسے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ نے بیلوں اور دریائوں کے نزدیک رہنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ہیڈ تریموں سے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف چنیوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقے بھوانہ پہنچے اور کشتی میں امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء لے کر بھوانہ کے سیلاب زدہ گائوں ڈالی منگینی اور دیگر دیہاتوں میں گئے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کشتی کے ذریعے سیلاب میں گھرے بھوانہ کے دور دراز دیہات بیروالا، راموں کے ٹھٹھہ، نوشہرہ، ابیاں اور ٹھٹھہ عصمت کا دورہ کیا۔سیلاب کی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء اور کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا۔انہوں نے سیلاب میں گھرے اوڑھ بستی کے افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی اشیاء بھجوانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بستی کی ایک ایک ضرورت پوری کریں گے اورمتاثرین کو اشیائے ضروریہ ترجیحی بنیادوں پر پہنچائیں گے سیلاب کے پانیوں میں گھرے افراد کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اوران کی مدد کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اگر کہیں کوئی فرد پانی میں محصور رہ گیا تو اس ضلع کے ڈی سی او کی خیر نہیں ہوگی۔ لوگوں کے محفوظ انخلاء کے حوالے سے کوئی عذر قبول نہیں کروں گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ لوگوں کو خطرے والے علاقوں سے نکالنے کے لیے ہر مناسب طریقہ اختیار کیا جائے 1972ء کے بعد اتنا بڑا ریلا کبھی نہیں آیا۔پوری تندہی،اخلاص اورمحنت سے صورت حال کا مقابلہ کررہے ہیں۔

میاں منیر احمد

Floods and Moonsoon Rains in Pakistan and Kashmir

No comments:

Powered by Blogger.