Header Ads

Breaking News
recent

فوج سے ثالثی کا مطالبہ......


پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردارکو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری ریاست میں سیاست اب بھی ایک کمزور فریق کے طور پر موجود ہے ۔ اگرچہ ہم دعویٰ تو بہت کرتے ہیں کہ ہماری جمہوریت اور جمہوری ادارے ماضی کے مقابلے میں کافی مضبوط ہوگئے ہیں لیکن عملاً اس میں حقیقت کم اور خواہشات کی عکاسی زیادہ بالادست نظر آتی ہے ۔

سیاست میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کو دیکھنے یا پرکھنے کے لیے اہم پہلو سیاسی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔سیاست میں آسان یا مشکل مراحل کا سامنے آنا فطری امر ہوتا ہے ۔ یہ ہی وہ موقع ہوتا ہے جہاں سیاسی و جمہوری قیادتوں کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پیش آنے والے واقعات یا مسائل کو کیسے پرامن اور جمہوری طریقے سے نمٹ کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت ان معاملات میں ایک وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود بدستور ناکامیوں سے دوچار ہے ۔

یہ بحث کہ پاکستان کی جمہوری اور سیاسی ناکامی کی پہلی اور آخری وجہ فوج کی سیاسی معاملات میں حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی مداخلت ہے ، مکمل سچ نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج کی بار بار مداخلت سے پاکستان کی جمہوری سیاست کے تسلسل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں ، لیکن اس میں خود سیاسی قوتوں کا اپنا بھی کردار ہے ۔ کیونکہ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اقتدار کے حصول ، کسی کی حکومت کو بنانے یا توڑنے ،سیاسی لین دین، سمجھوتوں سمیت اقتدار کی مضبوطی کے لیے فوج ہی کی طرف دیکھتی ہیں ۔

بعض سیاسی جماعتیں تو اپنی سیاسی حکمت عملیوں کو فوج کی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیتی ہیں ۔ سیاسی قوتیں اپنی جماعتوں کو مضبوط کرنے کی بجائے انھیں خاندانی اور آمرانہ سیاست کا حصہ بناکر خود جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں ۔ جہاں بھی سیاسی قوتیں مضبوط ہونگی اور بحرانوں میں کسی سہارے کی تلاش کی بجائے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت دکھائیں گی ، وہاں فوج کا سیاسی کردار خود بخود محدود ہوجاتا ہے ۔

حالیہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کا حل بھی سیاسی جماعتوں سمیت پارلیمنٹ بھی تلاش نہیں کرسکی ہیں یہاں تک کہ مذاکرات سے حکومت سمیت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی ابتدائی طور پر انکاری کا پہلو بھی فوجی مداخلت یا مشورہ کی وجہ سے آگے بڑھا۔فوج کی جانب سے سیاسی قوتوں کو جاری کردہ پیغام کہ معاملات سیاسی اور پرامن طور پر حل کرنے اور بامعنی اور بامقصد مذاکرات کے مشورہ نے ہی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔مسلم لیگ )ن( اور وزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت میں اب وزیراعظم سب سے بڑے مخالف ہیں لیکن پچھلے 15 دنوں میں وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کی فوجی قیادت سے تواتر سے ملاقاتوں کی کہانی کچھ اور صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
اگرچہ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ کی فوجی قیادت سے ملاقاتوں کا مقصد محض سیکیورٹی کے معاملات ہیں حالانکہ ان ملاقاتوںمیں براہ راست ’’دھرنوں کی سیاست ‘‘ بھی زیر بحث رہی ، اس موضوع میں مسئلہ محض سیکیورٹی کا ہی نہیں بلکہ سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اگرمسئلہ سیکیورٹی کا تھا تو اس کے لیے تو محض وزیر داخلہ ہی کافی تھے ۔ فوج کی قیادت نے ان ملاقاتوں پر اسی نقطہ پر زور دیا کہ ان کا کردار محض سیکیورٹی تک محدود ہے، سیاسی معاملات کو حکومت خود سیاسی طریقے سے نمٹنے کی کوشش کرے۔

یہ بات راقم نے تواتر سے لکھی تھی کہ اگر دھرنوں کی سیاست پر سیاسی قیادتیں اور حکومت کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچیں ، تو ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے عمل کو نہیں روک سکیں گے لیکن اب جو سیاسی بحران کی صورت میں ہمیں مسائل درپیش ہیں اس نے اس حقیقت کو عیاں کردیا کہ معاملات اسلام آباد میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں طے ہونگے۔ ایک سیاسی بحران وزیر اعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی آخری ملاقات کی صورت میں سامنے آیا ۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف نے براہ راست فوج سے دھرنوں کی سیاست کے خاتمہ اور فریقین میں اتفاق رائے کے لیے فوج کی ثالثی کی درخواست کردی ۔

یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وزیر اعظم کو وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مشورہ دیا کہ فوج کی مدد حاصل کیے بغیر اسلام آباد کا بحران حل نہیں ہوسکے گا حکومت کی اس درخواست پر فوج کا براہ راست عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ، فوجی قیادت سے ملاقات کا عمل بھی سامنے آیا ۔ امید تھی کہ اب فوج کے ثالثی کے کردار سے فریقین میں اتفاق رائے سامنے آجائے گا ۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے فوجی مدد پر ان کے خلاف جو سیاسی بھونچال آیا، اس نے وزیر اعظم کو مجبورکردیا کہ و ہ اپنے بیان سے انحراف کرجائیں ، تاکہ سیاسی نقصان سے بچ سکیں ۔

اسی تناظر میں وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی واضح تردید کردی کہ انھوں نے خود فوج سے سیاسی مدد مانگی بلکہ ان کے بقول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی خواہش پر آرمی چیف نے مجھ سے اجازت لے کر ملاقات کی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی گواہی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کو بھی گواہ بنایا، ان کے بقول ایک نہیں دس حکومتیں بھی قربان کرسکتا ہوں لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

وزیر اعظم کو یہ بھی کہنا پڑا کہ عمران خان اور ڈاکٹرطاہر القادری نے فوج کو بطور ادارہ متنازعہ بنایا لیکن آئی ایس پی آر یا فوجی ترجمان کی جانب سے وضاحت کے بعد حکومت کو سیاسی محاذ پر شدید سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجی ترجمان کے بقول وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں حکومت نے فوج کے سربراہ سے سیاسی بحران کے حل کے لیے براہ راست سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی ، اسی بنا پر فوج کے سربراہ نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی تھی ۔
اگر حکومتی موقف درست تھا کہ وزیر اعظم نے ایسا کوئی مطالبہ فوجی قیادت سے نہیں کیا تھا، تو اس کی وضاحت کے لیے 12گھنٹے کیوں انتظار کیا گیا۔ دراصل وزیر اعظم شدید دباؤ میں ہیں اور فوج سے مدد مانگنے پر ان کی حمائتی جماعتوں نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے بیانات کے تضادات کو بھی اسی تناظر میں دیکھاجانا چاہیے ۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس حالیہ سیاسی بحران میں فوج کو خود حکومت نے سیاسی معاملات میں ڈالا ہے ، اس سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی کے نام پر فوج کو طلب کرنے پر بھی بیشتر سیاسی جماعتوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس لیے اب حکومت کچھ بھی کہے اس نے فوج سے ثالثی کا مطالبہ کیا ہے ۔

وزیر داخلہ کا بیان کہ فوجی ترجمان کا بیان ہماری منظوری سے سامنے آیا، حکومتی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے ، وزیر اعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کی نفی کرتا ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پہلے خود فوج سے سیاسی مدد مانگتے ہیں ، پھر اپنی سیاسی بقا کے لیے اس کی نفی کرکے خود اداروں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ فوج سے سیاسی ناکامی کی صورت میں مدد مانگی گئی ، لیکن اس پر حکومتی یو ٹرن پر فوجی ترجمان کی وضاحت حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ، کیونکہ اس سے حکومت اور فوج میں بداعتمادی پیدا ہوئی اور وزیر داخلہ کا بیان بھی عذر گناہ از بدتر گناہ کے مترادف تھا، جو اچھی علامت نہیں۔
یہ بات ماننی ہوگی کہ حکومت، عمران خان ، ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے میں بنیادی مسئلہ ’’ بداعتمادی ‘‘ کا ہے۔ کوئی کسی کو سیاسی قوت تسلیم نہیں کرتا، کوئی کسی کے مطالبہ کو غیر آئینی سمجھتا ہے اورکوئی حکومت پر اعتبار کے لیے تیار نہیں ۔ ایسی صورت میں فوج کی سیاسی مدد کا حصول حکومت کی سیاسی مجبوری بھی بن گیا تھا اگرچہ سیاسی معاملات میں فوج کی ثالثی کوئی اچھی علامت نہیں لیکن جب حالات سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کے کنٹرول سے باہر نکل جائیں اور سب ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہوکر ڈیڈ لاک پیدا کردیں ، تو یہ ہی کچھ ہوگا، جو اس وقت قومی سیاست پر غالب ہے ۔

اب بھی جو معاملات طے ہونگے اس میں فوج ہی کا کردار ہوگا کیونکہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے نہیں بلکہ حکومت نے بطور سہولت کار ازخود گیند فوج کے کورٹ میں ڈالی ہے اور اس کا اعتراف حکومت کو کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی محاذ پر ناکام ہوکر مسئلہ کے حل کے لیے فوج کی مدد چاہتی ہے لیکن وزیر اعظم کے طرز عمل کے باعث اس مصالحت کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے ۔

سلمان عابد

No comments:

Powered by Blogger.