Header Ads

Breaking News
recent

مقبرہ مہابت خان.......TOMB OF MAHABAT KHAN

 

گلابی باغ سے شالا مار جاتے ہوئے تھوڑی دور دائیں ہاتھ ایک پٹرول پمپ کے نیچے گنجان آبادی کے درمیان مہابت خان کا مقبرہ ہے کسی زمانے میں یہ مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ کے وسط میں واقع تھا جو کہ باغ مہابت خان کہلاتا تھا۔ مہابت خان کا اصلی نام زمانہ بیگ تھا وہ کابل کا باشندہ تھا اس نے نوعمری میں ہی شاہی ملازمت اختیار کرلی اور ترقی کرتے کرتے ہفت ہزاروی بن گیا۔ مہابت خان کا شمار عہد جہانگیر کے نامور جرنیلوں میں ہوتا ہے مہابت خان نے جہانگیر کے عہد حکومت میں سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا اس نے نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان وزیراعظم کی چالوں سے تنگ آ کر جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی 1621ء میں جب جہانگیر نے کشمیر جاتے ہوئے دریائے جہلم عبور کیا تو مہابت خان نے جو موقع کی تاک میں تھا اپنے جان نثار سپاہیوں کی مدد سے جہانگیر کو حراست میں لے لیا۔

 نور جہاں اور آصف خاں ابھی فوج کے ساتھ دریا کے دوسرے پار ہی تھے کہ انہیں اس واقع کی اطلاع ملی۔ نور جہاں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا اور چند ہی روز میں ایسی چال چلی کہ مہابت خاں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ جہانگیرو نور جہاں کو رہا کرکے خود دکن کی طرف بھاگ گیا اور وہاں شہزاد خرم سے مل گیا۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد ہی جہانگیر کا انتقال ہوگیا۔ آصف خاں کی تدبیر سے نور جہاں اور اس سیاسی مہرے شہزادہ شہریار کو شکست ہوئی اس طرح شاہ جہاں کی تخت نشینی کے لیے میدان صاف ہوگیا شاہ جہاں نے تخت نشینی کے بعد مہابت خاں کی عزت افزائی کی۔ مہابت خان نے اپنی زندگی میں ہی لاہور میں شالا مار باغ کے قریب ایک باغ لگایا اور اس میں اپنا مقبرہ تعمیر کروایا۔

 مہابت خان نے 1635ء میں وفات پائی اور اپنی وصیت کے مطابق اپنے تعمیر کردہ مقبرے میں دفن ہوا۔ باغ تباہ و برباد ہوگیا گزشتہ صدی کے نصف آخر میں ایک پارسی سوداگر نے نو سو روپے کے عوض اسے خرید لیا اور وہ مزار کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد باغ سے احاطے میں مکانات بننے لگے دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزار آبادی میں گھر کر رہ گیا اس مزار و مقبرے کے چار محرابی دروازے ہیں ان پر محرابی چھت ہے مزار پر اب بھی پرانی مصوری کہیں کہیں سے نظر آ جاتی ہے۔

 (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ)

TOMB OF MAHABAT KHAN

No comments:

Powered by Blogger.