Header Ads

Breaking News
recent

غزہ میں جنگ بندی......


اگست بروز پیرکو سات ہفتوں سے جاری حماس اور اسرائیل کی جنگ قاہرہ میں مصر کے توسط سے بند ہو گئی اور متحاربین توقع کر رہے ہیں کہ اِس بار جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں ہو گی کیونکہ اس معاہدے کی اب تک جو تفصیلات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق صہیونی ریاست غزہ کی ناکہ بندی میں اتنی نرمی پر بادل نخواستہ راضی ہو گئی ہے کہ وہ جنگ سے متاثرہ علاقے (غزہ) میں باہر سے لائے جانے والے امدادی سامان بالخصوص تعمیری سامان کی اجازت دے دے، کیونکہ اسرائیلی بمباری سے شہر اور قصبات کھنڈر بن گئے ہیں۔ علاوہ ازیں غزہ کے ماہی گیروں پر سمندری علاقوں میں مچھلیاں پکڑنے پر عائد اسرائیلی پابندی اٹھالی جائے گی، جبکہ غزہ پر آٹھ سال سے عائد مکمل ناکہ بندی اور قیدیوں کی رہائی جیسے امور پر متحاربین میں مذاکرات ہوں گے۔ آئندہ ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل حماس سے ہتھیار ڈالنے پر اصرار کرے گا۔ آل انڈیا ریڈیو، اردو سروس بی بی سی۔
  
اگست 2014ء اس جنگ بندی پر غزہ کے لوگ بظاہر خوش ہیں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ یہ ان کی جیت اور صہیونی حملہ آوروں کی شکست ہے اور اس کا مظاہرہ وہ ہوائی گولیاں چلا کر کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے حوصلے بلند ہیں کیونکہ اگر انہیں شکست ہوئی ہوتی تو قاہرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات اتنا طول نہ پکڑتے اور اسرائیل ناکہ بندی میں کسی نرمی پر ہرگز آمادہ نہ ہوتا۔ یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ جب جب اسرائیل اور عرب ریاستوں میں جنگ ہوئی تو وہ بہت جلد ختم ہو گئی، خاص کر جون 1967ء کی جنگ جس میں مصر، اردن اور شام صہیونی حملے کا 6 دن بھی مقابلہ نہ کر سکے اور مغربی کنارہ اور جولان کی پہاڑیاں ان کے ہاتھ سے نکل گئیں جنہیں وہ آج تک واپس نہ لے سکے۔ صہیونی ریاست نے 1982ء میں لبنان پر حملہ کرکے پی ایل او (محمود عباس کی تنظیم جو مغربی کنارے پر حکومت کر رہی ہے) کو بیروت سے نکال باہر کیا 

جبکہ اس کے سربراہ یاسر عرفات اور تنظیم کی اعلیٰ قیادت امریکی بحریہ کے پہرے میں تیونس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی، لیکن اس کے برعکس حماس کی قیادت غزہ میں ڈٹی رہی اور اس کے کئی اہم کمانڈر شہید ہوئے لیکن ان کے جانشینوں نے صہیونی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور اسرائیل کے 67 فوجی ہلاک، ایک ٹینک، ایک لڑاکا طیارہ اور بکتر بند گاڑی تباہ کر دی اور سرحد پر اسرائیل پر راکٹ باری کرکے اس کے ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازیں بند کرا دیں۔ اس سے صہیونی ریاست کی معیشت اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ غزہ میں صہیونی حملہ آوروں کی پسپائی پر امریکی صدر اوباما نے ان کی کمک کے لیے دو ہزار امریکی فوجی بھیجنے کے احکامات صادر کردیے، جبکہ دورانِ جنگ پینٹاگون نے اسرائیل کو بھاری فوجی سازو سامان پہنچایا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو اس حرکت پر امریکہ کی سرزنش کرنی چاہیے تھی لیکن وہ بیچارہ حماس کی راکٹ باری کا رونا روتا رہا۔

اُس نے حماس کو مورد الزام ٹھہرایا جبکہ اسرائیل اس پر حملہ آور ہوا تھا۔ لیکن جب اقوام متحدہ کی پناہ گاہ اور معذوروں کے مرکز پر اسرائیل کی گولہ باری پر دنیا کے شہروں میں صدائے احتجاج بلند ہونے لگی جو تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی تو اسے بالآخر اسرائیل کے اس مجرمانہ حملے کی مذمت کرنا پڑی، جبکہ اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش کا حکم دے دیا۔ شرم کی بات ہے کہ امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور یورپی ریاستوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، جبکہ ان ریاستوں کے عوام سڑکوں پر اسرائیل کی سفاکیت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ ریاستیں اسرائیل کی حلیف ہیں تو چار رکنی ادارے میں تنازع فلسطین کو کس طرح حل کر سکیں گی؟ یاد رہے یہ ادارہ 1991ء میں میڈرڈ میں یاسر عرفات اور اسحق رابن میں مذاکرات کے دوران روس اور امریکہ کی مشترکہ تجویز کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا اور اس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اراکین شامل تھے، لیکن سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس اندرونی بحران میں اتنا الجھ گیا تھا کہ اُس نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، جبکہ گورباچوف نے تو عرب اسرائیل تنازعے کو امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

 جہاں تک یورپی یونین کا تعلق ہے تو وہ تو نیٹو کی رکنیت کی وجہ سے امریکہ کی حلیف ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رکنیت محض زیب داستان کے لیے رکھی گئی ہے، کیونکہ اس پر امریکہ چھایا ہوا ہے۔ البتہ عوامی جمہوریہ چین سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی Quartet میں مؤثر کردار ادا کر سکتا تھا لیکن امریکہ سے منافع بخش تجارت کے لالچ میں وہ خود کو تنازع فلسطین سے علیحدہ رکھنا چاہتا ہے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو شمالی اور جنوبی بحر الکاہل پر مرکوز کیے ہوئے ہے جہاں اسے علاقائی ریاستوں اور امریکہ کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ یہ ایک اور وجہ ہے جو چین مشرق وسطیٰ کے مسئلے میں امریکہ سے محاذ آرائی سے گریزاں نظر آتا ہے۔ 

یوں غزہ میں جنگ بند ہوگئی ہے اور حماس کی اشک شوئی کے لیے عارضی طور پر غزہ کی ناکہ بندی جزوی طور پر اٹھالی گئی ہے، جبکہ جنیوا کنونشن چہارم کی رو سے یہ ناکہ بندی سرے سے غیرقانونی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ناکہ بندی کے خاتمے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مسئلے پر ہونے والے مذاکرات 21 سال پہلے اوسلو میں کیے گئے مذاکرات سے کچھ مختلف ہوں گے۔ لہٰذا غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ بحال رہے گا۔ محمود عباس فلسطینی ریاست کے قیام (اگر ایسا ہوا) کے بعد پانچ سال تک صہیونی فوج کا قبضہ بحال رکھنے کے حق میں ہیں۔ 

پھر بھلا اسرائیل جو محمود عباس کو ہی فلسطین کا جائز سربراہ سمجھتا ہے، غزہ کی ناکہ بندی کیوں ختم کرے گا؟ اور محمود عباس کس منہ سے غزہ کے محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کر سکیں گے؟ لہٰذا یا تو حماس محمود عباس کی بات مانتے ہوئے ان کی شرائط پر اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوجائے یا اپنا راستہ الگ کر لے، یعنی فلسطین دو ریاستوں میں تقسیم ہو جائے۔ لہٰذا حماس اور اسرائیل میں تصادم ناگزیر ہو گیا ہے اور اسے اپنے وطن کی آزادی کی جنگ تنہا لڑنی پڑے گی۔ حماس نے اب تک جس طرح کئی بار صہیونی قبضے سے غزہ کو آزاد کرانے کی جنگ کی ہے وہ جاری رہے گی، حتیٰ کہ اسرائیل اس جنگ سے تھک کر علیحدہ ہو جائے جیسے 2000ء میں اسے جنوبی لبنان سے فرار ہونا پڑا تھا۔

پروفیسر شمیم اختر
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

No comments:

Powered by Blogger.