Header Ads

Breaking News
recent

’’بابائے جمہوریت‘‘.......


۔ سیاست کی اس مسافر بس میں سب بک ہے اور بیچنے والے ایسے استاد ہیں کہ ریپر بدل بدل کر وہی گھٹیا آئٹمز فروخ کئے جا رہے ہیں جو جعلی ثابت ہو چکے ہیں۔ ان بیچنے والوں کی استادی اپنی جگہ مگر مجھے تو خریداروں کی سمجھ نہیں آتی ۔اب آپ ہی بتایئے اگر کچھ سیدھے سادے لوگ 67 سال بعد بھی انقلاب کے خواب بیچنے والوں کا طریقہ واردات نہیں سمجھ پائے اور عمرانی دواخانے سے تبدیلی کی پھکیاں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں یا پھر ماڈل ٹائون کے کسی نیم حکیم کی دکان سے معجون انقلاب خریدنے کو بیتاب ہوئے جاتے ہیں تو انہیں کس پاگل خانے داخل کرایا جائے؟ ہر طرف نظام بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں،سب کہہ رہے ہیں،یہ نظام فرسودہ ہو چکا، جب تک اسے بیخ و بن سے نہیں اکھاڑا جاتا ،کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ عوام ہوں یا حکام،حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار، لسانی جماعتیں ہوں یا مذہبی تنظیمیں سب کی تان یہیں آ کر ٹوٹتی ہے کہ اس نظام کو بدلا جائے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر یہ سب نظام بدلنے کے خواہاں ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ جن کے خلاف انقلاب آنا ہے وہی انقلابی بن کر گھوم رہے ہیں اور جو اس نظام کے پتھارے دار ہیں وہی تبدیلی کے دعویدار بنے ہوئے ہیں؟ اور جان کی امان پائوں تو عرض کروں، یہ نظام بدلے گا کون؟ عمران خان جو بنی گالا میں 300 کنال کے گھر میں رہتے ہیں؟ یا موجودہ حکمران جو رائیونڈ میں 500 کینال کے محل میں آباد ہیں؟ لینن، مائو،ہوچی منہہ، چی گویرا، کاسترو، مصطفی کمال، آیت اللہ خمینی سمیت کسی ایک انقلابی لیڈر کا بتا دیں جس نے محلات میں رہتے ہوئے انقلاب برپا کیا ہو؟ لینن انقلابی جدوجہد کے بعد بھی اپنے دور حکومت میں چھوٹے سے دفتر کی میز پر سوتا رہا، کام سے تھک جاتا تو چند گھنٹے لیٹ جاتا اور صبح اٹھ کر پھر کام میں لگ جاتا۔ مائوزے تنگ نے 32 سال تک ایک ہی کوٹ پہنے رکھا جو آج بھی میوزیم میں موجود ہے۔

 آیت اللہ خمینی کا مٹی اور گارے سے بنا کچا گھر آج بھی قُم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ چین کے ہمہ مقتدر وزیراعظم ،مائو کے معتمد اعلیٰ اور چوٹی کے دانشور چو این لائی کا کوٹ ہمیشہ پیوند آشنا رہا،الجزائر کے بن بیلا فرانس کے استعماری دور میں بنائے گئے شاہی محل میں رہنے کے بجائے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں اقامت پذیر ہوئے۔ اگر عمران خان نے حسب وعدہ خیبر پختونخوا سے 90 دن میں کرپشن ختم کر دی ہے، اگر وعدے کے مطابق وہاں وزیراعلیٰ ہائوس کو خالی کر کے لائبریری میں تبدیل کیا جا چکا ہے، اگر وہاں پٹواری اور تھانہ کلچر تبدیل ہو چکا، ایک نیا خیبر پختونخوا معرض وجود میں آچکا تو جی بسم اللہ آگے بڑھیں اور اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجادیں تاکہ پہلے سے موجود پاکستان کو تباہ و برباد کر کے ہم سب ایک نیا پاکستان بنا سکیں۔ اگر موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دینے کے بعد یہاں خلافت راشدہ قائم ہونے جارہی ہے تو ضرور قدم بڑھائیں وگرنہ آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے یا کنویں سے نکل کر کھائی میں گرنے کا کیا فائدہ۔

تکلف برطرف آپ کا کیا خیال ہے اس ملک میں شیخ رشید انقلاب لائیں گے جو انقلاب کے ہر سرچشمے سے سیراب ہو چکے ؟ کیا اس ملک میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین ، شفقت محمود اور پرویز خٹک نظام تبدیل کریں گے جو اسٹیٹس کو کا حصہ ہیں؟ کیا اس ملک میں چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی انقلاب لائیں گے جنھوں نے پرویز مشرف کو 100 بار باوردی صدر منتخب کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ کیا اب انقلاب کی اصطلاح پر ایسا برا وقت آن پہنچا ہے کہ طاہرالقادری انقلابی قرار پائیں گے جن کی تضاد بیانیوں سے ایک زمانہ واقف ہے؟
پاکستان میں انقلاب کی اصطلاح کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو نظریہ ضرورت، ملکی دفاع و سلامتی اور وسیع تر قومی مفاد کی اصطلاح کے ساتھ ہوا ۔ معجون انقلاب بیچنے والوں کا خیال ہے کہ انتخابی دھاندلی کو لوڈشیڈنگ کے ساتھ ملا کر غم وغصے کے پانی میں مایوسی کی تیز آنچ پر پکایا جائے اور پھر آخر میں خون خرابے کا تڑکا لگا دیا جائے تو انقلاب کی ایسی ڈش تیار ہو جاتی ہے جسے کھانے والوں کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ مگر عوام نے ایسے کئی پکوان ادھ جلے اترتے دیکھے ہیں کیونکہ اس ہنڈیا کو پکانے کیلئے سب سے اہم ضرورت وہ چولہا ہے جو ہمارے ہاں مقتدر حلقوں کے پاس پایا جاتا ہے۔
انقلابی پکوان کو وہ چولہا دستیاب ہو جائے تو انقلاب کے خواب لاہور سے نکلتے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔ چند ماہ ہوتے ہیں لاہور کے ایم ایم عالم روڈ پرایستادہ ایک کافی شاپ پر پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان قاضی فیض سے گفتگو ہو رہی تھی،انقلاب کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا،ہم اسلام آباد میں چالیس لاکھ افراد جمع کریں گے۔ یہ سن کر کچھ کی تو ہنسی چھوٹ گئی ، ایک سینئر صحافی نصراللہ ملک نے کہا، اگر آپ چالیس لاکھ افراد جمع کر لیں تو نواز شریف کی کیا مجال، اوباما بھی حکومت چھوڑ کر بھاگ جائے۔ میں نے مگر سنجیدگی کا دامن نہ چھوڑا ، اور ان سے استفسار کیا کہ بالفرض محال آپ اپنے کارکنوں کے ساتھ انقلاب مارچ لے کر اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟ بقول آپ کے یہ انقلاب پر امن ہو گا ،کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟ انتخابات اور جمہوریت پر آپ یقین نہیں رکھتے تو کیسے اقتدار میں آئیں گے اور اپنا ایجنڈا نافذ کریں گے؟

 کچھ نہ بن پڑی تو کہنے لگے،اس سوال کا جواب تو قائد انقلاب کے پاس ہی ہے اور حکمت عملی وہی بیان کریں گے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا،حضور ! کیوں شرما رہے ہیں،اعتراف کر لیں کہ آپ اسی گھاٹ سے پیاس بجھانا چاہتے ہیں جس سے سب سیراب ہوتے چلے آئے ہیں۔ اس ملک میں انقلاب کا سرچشمہ تو ایک ہی ہے اور وہ کہاں ہے،یہ بات سب کو معلوم ہے۔
جمہوریت بیچاری تو ہر دور میں کنٹینروں پر انحصار کرتی رہی ہے مگر اس بار لگتا ہے جمہوریت کی گاڑی چلانے والے اناڑی ڈرائیور خود ہی کسی حادثے کو دعوت دے رہے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے سے پورے ملک میں پیٹرول کی سپلائی روک کر اور پکڑ دھکڑ کر سلسلہ شروع کر کے دعوت دی جا رہی ہے کہ آبیل مجھے مار۔ انقلاب کی معجون بیچنے والوں کے بیچ بیشتر سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی دکھائی دیتی ہیں اور سب کو اپنی سیاست چمکانے کی فکر لاحق ہے۔ایسے میں واحد استثنیٰ ہے تو جماعت اسلامی جسے ہر دور میں فوج کی بی ٹیم کا طعنہ سہنا پڑا ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی فہم و فراست کو داد نہ دینا بددیانتی ہو گی جو ملک کو تصادم سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی انقلابی جماعت ہے تو اس کا نام جماعت اسلامی ہے۔عمران خان کو پارٹی الیکشن کرانے پر بہت ناز ہے لیکن تحریک انصاف میں بھی یہ ممکن نہیں کہ عمران خان کی جگہ کسی اور شخص کو چیئرمین منتخب کیا جا سکے لیکن جماعت اسلامی جیسی جمہوری جماعت میں ہی یہ ممکن ہے کہ ایک غریب گھرانے اور غیر سیاسی پس منظر کا حامل سراج الحق مرکزی امیر منتخب ہو گیا اور اب بابائے جمہوریت کے روپ میں سامنے آیا ہے۔

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.