Header Ads

Breaking News
recent

خونخوار اسرائیل مشکل میں....


اسرائیل نے اس بار جب غزہ پر چڑھائی کی تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے یہاں زمینی فوجی دستے داخل کرنے کے نتیجے میں پہلی بار بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرناپڑے گا۔ اس سے پہلے ہمیشہ ایسا ہوتا آیاہے کہ اسرائیلی فضائیہ بمباری کرکے فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان سے دوچارکرتی تھی تاہم اس بار نیتن یاہو حکومت نے اس خیال کے تحت زمینی فوج کو بھی فلسطینی میں داخل ہونے کا حکم دیا کہ جب تک حماس کی سرنگوں کو تباہ نہ کیاجائے، تحریک مزاحمت کی کمر توڑی نہیں جاسکے گی۔ لیکن اسرائیل کی یہ چال الٹی پڑ گئی۔ اس بار اسرائیل کو پہلی بارشدیدجانی ومالی نقصان کا سامنا کرناپڑا۔
بالخصوص اسرائیلی جارحیت کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں سے اسرائیلی معیشت اور صنعت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو نے حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایاہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں صہیونی صنعت کے شعبے کو 875 ملین سرائیل کے عبرانی ریڈیو نے رپورٹ میں غزہ کی پٹی پر حملے کے نتائج اور ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے زیادہ تر کارخانے وسطی اور جنوبی غزہ کے قریب مقبوضہ فلسطینی شہروں میں واقع ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کے جنگ کے پہلے روز سے ہونے والے حملوں میں صنعت کے شعبے کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔ صنعتی شعبے میں سب سے زیادہ منفی اثرات ملٹری صنعت پر پڑ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حکومت اور فوج سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
اسی طرح مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں نے اسرائیلی ائیرپورٹ ویران کردئیے، امریکہ سمیت پوری دنیا نے اپنی فضائی کمپنیوں کو اسرائیل کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ اسرائیل کو سیاحت کے شعبے میں غیرمعمولی نقصان کا سامناکرناپڑا۔ اس شدید نقصان کے سبب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی حکام سے باربار رابطہ کرکے جنگ بندی کرانے کی دہائی دیتے رہے۔گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ نیتن یاہو سے دن میں پانچ بار فون پر بات کرتے ہیں اور انہوں نے ان فون کالز میں ہی ان (کیری) سے جنگ بندی کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔ یادرہے کہ اسرائیل ایسی جنگ بندی چاہتاہے جس میں صرف حماس کے ہاتھ باندھ دئیے جائیں، صہیونی قیادت جو چاہے کرتی رہے۔
حماس ایسی جنگ بندی کو مسلسل مسترد کر رہی ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت کا کہنا ہے کہ حماس صرف انہی معاہدوں پر متفق ہو گی جن کی اسرائیل پابندی کرے گا۔ حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ’’اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں ہماری نئی نسل جانیں گنوا رہی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کو توڑنے کا مقصد ہماری زمین اور معصوم لوگوں کے نشانہ بنانا ہے۔‘‘
اسرائیلی وزیرانصاف اور سینئرصہیونی خاتون سیاست دان زیپی لیونی نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملے کے بعد اسرائیل مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک بیان میں مسز لیونی کا کہنا تھا کہ موجودہ سنگین حالات میں ہمیں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیر سیاحت عوزی لانڈو نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ان کے بقول:’’ ہم نے غزہ کی پٹی میں ایک اسٹرٹیجک معرکہ کھو دیا ہے‘‘۔ عبرانی اخبار میں شائع ہونے والے لانڈو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی مدمقابل کو ڈرانے کی صلاحیت میں ڈرامائی طور پر تبدیلی آئی ہے، اسرائیل نے غزہ پر زمینی، فضائی اور بحری حملے کئے لیکن وہ حماس کو مفلوج کرنے
میں کامیاب نہیں ہو سکا۔شیکل یعنی 250 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

عبید اللہ عابد

No comments:

Powered by Blogger.