Header Ads

Breaking News
recent

خاکسار تحریک کے بانی.......علامہ عنایت اللہ مشرقی


خاکسار تحریک کے بانی، ادیب، عالم دین اور ممتاز ریاضی دان علامہ عنایت اللہ مشرقی 25 اگست 1883ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے ریاضی اور طبعیات کے شعبوں میں اعلیٰ امتیازات حاصل کئے تھے۔ 1926ء میں مصرمیں موتمر اسلامی کی کانفرنس ہوئی، اس میںصاحب تذکرہ علامہ عنایت اللہ مشرقی کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس عظیم کانفرنس میں دنیا بھر کے ہوشمند اور صاحب علم مسلمان رہنمائوں نے شمولیت کی ،وہاں پر آپ کو بھی خطاب کی دعوت دی گئی۔ آپ نے اس کانفرنس میں عربی زبان میں خطاب کیا جو ’’ خطاب ِمصر‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اس خطاب میں آپ نے مسلمان راہنمائوں کو ایک قابل ِعمل پروگرام دیا۔

 اس کانفرنس کی صدارت کا اعزازبھی آپ کو حاصل ہوا۔ جامعہ الازہرکے علمانے آپ کو علامہ کے خطاب سے نوازا۔ آپ اس وقت علامہ عنایت اللہ مشرقی کے لقب سے ملقب ہوئے جبکہ آپ کی عمر صرف 38برس تھی۔ 1931ء میں علامہ مشرقی نے خاکسار تحریک کے نام سے ایک جماعت قائم کی، جس کا منشور نظم، ضبط، خدمت خلق اور اطاعت امیر تھا۔ خاکسار تحریک کے قیام کے وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی بھی مؤثر جماعت نہیں تھی اور جو تھیں وہ مسلمانوں کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کر کے دشمن کے عزائم پورے کرنے میں نادانستہ طور پرمعاون بن رہی تھیں۔

 خاکسار تحریک کا قیام غلام ہندوستان میں انگریزوں جیسی خون آشام حکومت کے دہشت ناک تسلط کے ہوتے ہوئے فی الحقیقت ایک کرشمہ سے کم نہ تھا ۔ خاکسار تحریک کے قیام کے بعد علامہ مشرقی کی آوازپرآزادی کی تڑپ رکھنے والے مسلمان نوجوان جوق در جوق خاکسار تحریک میں شامل ہو کر اصلاح نفس، اطاعت امیر، خدمت خلق اور سپاہیانہ زندگی کے حامل بنتے گئے اوردیکھتے ہی دیکھتے پشاور سے راس کماری تک مسلمان نوجوانوں کی قطاریں رواں دواں ہو گئیں اور ہندوستان کی فضاچپ راست کی آوازوں سے گونجنے لگی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے83برس بعد علامہ مشرقی کے تربیت یافتہ خاکسار انگریز حکومت کے مدِ مقابل تھے اور لاہور میں مسلح پولیس سے دست بدست جنگ میں3انگریزوں کو ہلاک کر کے انہوں نے جتا دیا تھا کہ اب ہندوستان پر انگریز کے لئے قبضہ برقرا ررکھناممکن نہیں رہا۔ انگریز اپنی چالوں اور اپنے سدھائے ہوئے ہندو اور مسلمان لیڈروں کے طرز عمل سے مطمئن تھا کہ ہندوستان میں انگریزی راج کے لئے اب کوئی خطرہ باقی نہیںرہا، اب چین ہی چین ہے، لیکن 19مارچ 1940ء کے دن لاہور میں خاکساروں سے ٹکرائو کا معرکہ اس قدر دھماکہ خیز تھا کہ اس نے انگریزی حکومت کے مضبوط ترین قلعہ میں زلزلہ برپا کر دیا۔

 اس معرکہ میں جو چندانگریز افسروں کی ہلاکت سے وائسریگل لاج دہلی سے لیکر ویسٹ منسٹر ایبے اور10ڈائوننگ سٹریٹ سے بکنگھم پیلس لندن تک سبھی کے مکینوںمیں کہرام مچ گیا۔ تاج برطانیہ کی کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی بیسیوں نوآبادیوں میں کہیں بھی کوئی انقلابی تحریک نہیں تھی، جو انگریزوں کے لئے خطرہ بنتی۔ یہ صرف ہندوستان تھا، برطانیہ کے تاج کا سب سے بڑا اور گراں قدر ہیرا، جسے مسلمانوں سے چھیننے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے260سال لگے اور ان لڑائیوں میں بے شمار انگریز ہلاک ہوئے، اس متحدہ ہندوستان میں ایک شخص عنایت اللہ مشرقی نے ایک منظم تحریک پیدا کر کے اس سب سے بڑے ہیرے کو انگریزوں سے واپس چھیننے کے لئے جانباز مجاہد تیار کئے ،جو آخر کار معرکہ لاہور کے دوران دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے اقتدار کے لئے خطرہ بن گئے۔ 1950

ء میں علامہ صاحب نے ’’انسانی مسئلہ‘‘ نامی مقالہ لکھ کر دنیا کے ہوشمند انسانوں کو چونکا دیا۔ اس مقالہ میں صاحب علم یعنی سائنس دانوں کو حکومت کرنے کا حق حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ کمیونزم اورمغربی جمہوریت کے قربِ عظیم کا پردہ چاک کیا گیا۔ طبقاتی انتخاب میں غریب کی حکومت قائم کرنے کا قابل عمل تصور دیا گیا۔ الغرض اس مقالہ سے دنیا بھر کی حکومتوں میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا اوربیرونی دبائو پر حکومت نے علامہ صاحب کو گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈال دیا ۔ دنیا کے بہت سے رہنما ،جنہوں نے اپنی اپنی قوموں کو غلامی اورا خلاقی پستی کے جہنم سے نکالنے کی مقدور بھر کوشش کی مشکلات اور مصائب کے دوران مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہوئے ۔ ان کی سوچ اور فکر میں ضعف پیدا ہوا،لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ علامہ مشرقی کی سوچ اور ارادوں میں کسی بھی لمحے کوئی کمزوری، ضعف اور لرزش پیدا نہیں ہو ئی۔آخر کار دین ِاسلام کے غلبے اور مسلمانوں کی آزادی کے لئے انتھک جدوجہد کرنے والا یہ عظیم انسان اپنی زندگی کے تمام طوفانوں سے گزر کر مطمئن نفس کے ساتھ27اگست1963ء کو لاہور میں وفات پاگیا اور اپنے گھر میںآسودۂ خاک ہے


Inayatullah Khan Mashriqi

No comments:

Powered by Blogger.