Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی میڈیا: خبریں، رائے یا تحریک......

  ٹی وی چینلز اب نیوز اور ویوز چینلز نہیں رہے یہ پروپیگینڈہ چینل بن چکے ہیں۔ جیوگروپ حکومتی مہم کا حصہ جبکہ دیگر چار پانچ بڑے چینلز حکومت مخالف مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ 

پاکستان میں صحافی تنظیموں کے سرگرم کردار اور سینیئر صحافی مظہر عباس بھی بحث مباحثے کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’مجموعی میڈیا تو نہیں لیکن میڈیا کا ایک حصہ ایسا ضرور ہے جس کی کوریج سے اس کی خواہشات کا عکس نظر آ رہا ہے اس کے علاوہ میڈیا کا ایک حصہ حکومت کے موقف کا حمایتی نظر آتا ہے جو اس مارچ کو اس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کہ شاید یہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے جا رہے ہیں۔ 
  کروڑ آبادی پر مشتمل ملک کے ایک حصہ میں جاری اس تحریک کو بعض صحافتی ادارے اور صحافی اہم سیاسی واقعہ یا مسئلہ بھی قرار دیتے ہیں جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مارچ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہے جسے نظر اندز نہیں کیا جا سکتا۔

 مجموعی میڈیا تو نہیں لیکن میڈیا کا ایک حصہ ایسا ضرور ہے جس کی کوریج سے اس کی خواہشات کا عکس نظر آ رہا ہے اس کے علاوہ میڈیا کا ایک حصہ حکومت کے موقف کا حمایتی نظر آتا ہے جو اس مارچ کو اس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کہ شاید یہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے جا رہے ہیں۔ 
اس مارچ سے قبل نیوز چینلز پر حکومت کی اشتہاری مہم بھی سامنے آ گئی لیکن ماضی کے برعکس تحریکِ انصاف اور طاہر القادری کی اشتہاری مہم کہیں موجود نہیں۔

سینیئر صحافی ضیاالدین احمد کہتے ہیں  یہ چینلز کسی نہ کسی سے تو پیسے لے رہے ہیں کیونکہ راؤنڈ دی کلاک یعنی چوبیس گھنٹے نشریات وہ بھی بغیر کمرشل بریک۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں کوئی نہ کوئی پیسے دے رہا ہے کیونکہ یہ نقصان اٹھانے والوں میں سے تو نہیں یہ بزنس مائینڈ لوگ ہیں۔‘
وفاقی اردو یونروسٹی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کے صدر ڈاکٹر توصیف احمد کا خیال ہے کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے فوج میڈیا کے پیغام کو کنٹرول کر رہی ہے اور ایک مخصوص قسم کا پیغام دیا جا رہا ہے جو جمہوری نظام کے خلاف ہے۔
 پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں میڈیا کے پیغام کو کنٹرول کرنے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی جتنی اس کے بعد کی جا رہی ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو میمو سکینڈل، ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آْباد آپریشن یا سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے وقت اس میڈیا کنٹرول پالیسی میں شدت آئی جو حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی جاری ہے۔ 

  یہ چینلز کسی نہ کسی سے تو پیسے لے رہے ہیں کیونکہ راؤنڈ دی کلاک نشریات وہ بھی بغیر کمرشل بریک۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں کوئی نہ کوئی پیسے دے رہا ہے کیونکہ یہ نقصان اٹھانے والوں میں سے تو نہیں یہ بزنس مائینڈ لوگ ہیں۔ 
 
ڈاکٹر توصیف کا کہنا ہے کہ اس کنٹرولڈ پالیسی کا مقصد یہ ہی ہے کہ رائے عامہ کو یہ تاثر دیا جائے کہ جمہوری نظام کمزور ہے اور سیاسی حکومتیں مسائل حل نہیں کر پا رہی ہیں اور صرف فوج ہی یہ مسئلے حل کر سکتی ہے اسی وجہ سے ہی ایک خصوصی پیغام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی مظہر عباس کا موقف ڈاکٹر توصیف سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا سکتا کہ میڈیا کنٹرولڈ ہے لیکن اس پر میڈیا ہاؤسز کے مفادات کا عکس ضرور نظر آتا ہے اس لحاظ سے تو کہہ سکتے ہیں کہ انتظامی کنٹرول ہے نہ کہ ادارتی کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کو ادارتی آزادی حاصل نہیں جس طرح دیگر ممالک میں ہے۔

پاکستان میں جو نیوز چینلز نظر آتے ہیں یہ دراصل انفوٹینمنٹ چینلز ہیں۔
سینیئر صحافی ضیالدین احمد جو ملک کے نامور انگریزی اخبارات کے مدیر رہے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ اب نیوز اور ویوز کی پالیسی مالکان کے ہاتھ میں ہے۔ یہ مالکان جن کا اس پیشے سے کوئی تعلق نہیں وہ مہم کو ڈکٹیٹ کر رہے ہیں۔
 پیشہ ور صحافی آج کل نوکریاں کر رہے ہیں کیونکہ آج کل نوکریاں ملنا مشکل ہوتا ہے اور اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لینے کے بعد اگر کوئی مستعفی ہو کر گھر چلا جائے تو بہت بڑا مسئلہ ہو جاتا ہے اسی لیے شاید پیشہ ور صحافیوں نے 
بھی سمجھوتے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ 

ریاض سہیل 

No comments:

Powered by Blogger.