Header Ads

Breaking News
recent

14 اگست اور نواز لیگ ........


دوران خطاب ایک حالیہ جملے میں وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے روایتی معصومانہ انداز میں سوال پوچھا؟” ہمیں یہ تو بتائیں ہمارا قصور کیا ہے؟” اس خطیبانہ انداز میں پوچھے گئے سوال کا تناظر عمران خان کی طرف سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات تھے۔ وزیر اعظم یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ان کے ہاتھ اور دامن صاف ہیں اور تحریک انصاف کے چیئرمین کی طرف سے چلا ئی گئی مہم کے پیچھے بدنیتی کے سوا کوئی اور محرک کارفرما نہیں ہے۔

ایسے موقعے پر کہ جب عمران خان اپنی طرف سے تنی ہوئی منجنیق کا سب سے بھاری پتھر سوموار کی پریس کانفرنس کی صورت میں پھینک رہے تھے اور وزیر اعظم کی جانب سے تقریر بھی کی جا چکی ہے اس نکتے کو واضح کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب ووٹ لینے والی جماعت جو ملک کے سب بڑے انتظامی یونٹ یعنی پنجاب کو عملاً بغیر کسی سیاسی رکاوٹ اور مزاحمت کے اپنی مرضی سے چلا رہی ہے اور جس کے اپنے دعویٰ کے مطابق ایک بے نظیر تدبر و زیرک پن سے مالامال ہے‘ انتخابات کے سوا سال بعد دلدل میں کیوں پھنسی ہاتھ پائوں مار رہی ہے؟

ایسا کیا ماجرا ہو گیا کہ ہرا بھرا باغ خشک سالی کا منظر پیش کرنے لگ گیا۔ نواز لیگ کی 6 بڑی کوتاہیاں اس کی موجودہ سیاسی کیفیت کو عمران خان کے الزامات کی صورت میں پیدا ہونے والے نتائج سے بھی بہتر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ نواز لیگ کے لیے عمران خان معمولی درد سر بھی نہ ہوتے اگر جماعت کی قیادت نے اپنے ہاتھ سے خود کو گڑھوں میں پھنسایا نہ ہوتا۔ پہلی غلطی یہ مفروضہ تھا کہ عمران خان انتخابات ہارنے کے بعد دھاندلی کے واویلے کو بڑی تحریک میں تبدیل نہیں کریں گے۔

اس مفروضے کے پیچھے یہ غیر ضروری اعتماد تھا کہ 2013 کے انتخابات اب تاریخ کا وہ باب بن گیا ہے جس کو دوبارہ پڑھنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا وقت کسی کے پاس نہیں۔ لہٰذا عمران خان کی جانب سے 4 حلقوں کو’’ کھولنے‘‘کے معاملے کو غیر سنجیدہ انداز میں ٹیلی ویژن کی اسکرین اور پریس کانفرنسز میں چٹیکوں میں اڑا دیا گیا۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان چار حلقوں کے معاملے کو اگر یہاں پر ہی ٹھپ کر دیا جائے تو بعد میں کنویں میں سے 40 ڈول پانی نکالنے کی مشقت بچ سکتی ہے۔

دوسری غلطی سے پہلی نے جنم لیا۔ چونکہ 4 حلقوں میں انتخابات کے نتائج کی تصدیق کو ہوا میں اڑا دیا گیا لہٰذا انتخابی عمل میں ان گنت بے ضابطگیوں کے تمام مقدمات کو ٹھنڈے خانے میں رکھ کر بھول جانے کی ناکام کوشش کی گئی۔11 مئی کے دن جو مناظر کراچی میں دیکھے گئے اور جس قسم کے الزامات پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے سامنے آئے وہ تقاضہ کرتے تھے کہ ان کی تحقیقات کروا کر زیادہ گھناونی اور واضح دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کروائی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس تمام عمل کو بہترین طریقوں پر استوار کرنے کی بھی سنجیدہ کو شش کی جائے جس کے ذریعے عوام اپنے نمایندوں کو منتخب کرتے ہیں مگر افسوس کہ سوا سال تک انتخابی اصلاحات اور 2013کے انتخابات سے سبق سیکھنے کا یہ عمل کسی دن بھی حکومت کی ترجیحات میں نظر نہیں آیا۔

یہ رویہ تیسری غلطی کی بنیاد بنا کہ جب تحریک انصاف کو نواز لیگ نے شفاف انتخابات کے حق میں علم اٹھانے کے لیے میدان مکمل طور پر خالی کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کو جائز بنیاد فراہم کرنے کی سب سے بڑی دلیل وہ انتخابی طریقہ کار ہے جس پر ہر کوئی اپنی ذات سے زیادہ اعتماد کرتا ہو۔ اندورنی طور پر بٹے ہوئے ممالک اور خلفشار کے شکار معاشروں میں اس عمل کی شفافیت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

نواز لیگ نے یہ پہلو اپنی ترجیحات میں سے حذ ف کر دیا۔ تحریک انصاف نے اس کو اپنے مقدمے کی بنیاد بنا لیا۔ اس وقت طریقہ کار اور لائحہ عمل، بیان و الزامات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان شفاف انتخابات کا مطالبہ کر کے جمہوریت کی روح کے منافی کام کر رہے ہیں۔
حکومت نے انتخابی نظام کی خرابیوں کو درست کرنے کو غیر اہم قرار دے کر قیمتی وقت سیاسی طور پر مہنگے اور شرمندگی سے بھرپور شاہکار بے وقوفیوں پر صرف کرنا شروع کر دیا۔ یہ چوتھی کوتاہی تھی۔ اگر 15 ماہ میں حکومت کی چھوٹی بڑی جنگوں کی تفصیلات تیار کی جائیں تو یہ کئی صفحات بن جائیں گے۔ کبھی ذرایع ابلاغ کی طرف سے کھیلی جانے والے طاقت کے کھیل میں چالیں چلنے لگے اور کبھی فوج کے ساتھ سینگ لڑا لیتے۔

طالبان سے بات چیت شروع کی تو دوران عمل بھول بھال کر کسی اور طرف نکل گئے۔ ہفتوں جنرل مشرف کے مقدمے پر قلابازیاں کھا کر خود کو ہلکان کرتے رہے۔ نہ کابینہ مکمل کی اور نہ اہم انتظامی عہدوں پر ایسی تقرریاں کیں جن سے نظام کو استحکام ملے۔ کراچی میں آپریشن کا آغاز کیا اور پھر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے گہری سوچ میں پڑ گئے۔ نتیجتاً یہ گاڑی نہ آگے جا رہی ہے نہ پیچھے۔ اور تو اور ایک دو ماہ تو چوہدری نثار کو منانے پر صرف ہو گئے۔

مگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود نواز لیگ، عمران خان اور ڈاکڑ طاہر القادری کے حملے شروع ہونے سے پہلے ہی روک پاتی اگر اس نے انداز حکمرانی کو موثر، بامعنی اور اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں یا مجبوریوں سے آزاد کرایا ہوتا ایسا نہیں ہوا۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو حتمی اور ہنگامی بنیاد پر حل نہ کر کے عوام میں بدنامی کمائی۔ خواجہ آصف کی طرف سے بجلی کے عذاب کو کم کر نے کے لیے آسمان سے رجوع کرنے کا نادرمشورہ دلچسپ ضرور تھا مگر اس نے نواز لیگ حکومت کے بارے میں اس تصور کو فلم بند کر دیا کہ یہ صرف کہتی ہے کرتی کچھ نہیں۔

پالیسی سازی کو چند مخصوص افراد کے قبضے میں دے کر وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو طاقتور نہیں بلکہ کمزور اور کوتاہ اندیش ثابت کیا۔ جو حکومت وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کو وقتی یا مجبوری انتظام کے تحت چلائے اس کے بارے میں کیسی تصویر بن سکتی ہے؟ بالکل ویسی ہی جیسے بنی ہوئی ہے۔ نامکمل، غیر سنجیدہ، عدم اعتماد کا شکار مگر اس زعم سے بھرپور کہ اس کا متبادل کوئی نہیں ہے۔

حکومت کے اس طریقے کی مثالیں پھر ان فیصلوں کے ذریعے بنیں جن کے تحت نجم سیٹھی، رمدے اور ارسلان افتخار کو تمام اصولوں کے خلاف ایسے عہدے دیے گئے جن پر ان سے بدرجہا بہتر سیکڑوں افراد مامور کیے جا سکتے تھے۔ ایسی تقرریاں بیوروکریسی اور مشیران کے حوالے بھی کی گئیں۔ اوپر سے شریف خاندان کی مہر ہر پراجیکٹ پر ثبت کرنے کا کام تیز سے تیز ہوتا چلا گیا۔ وزیر اعظم ہیں تو تمام ملک کے مگر نہ جانے کیوں اپنے گھر کے افراد سے باہر افرادی صلاحیت کو بھانپنے میں اس بری طرح سے ناکام کیو ں ہو رہے ہیں۔ ملک میں قائد اعظم کی اتنی تصویریں نہیں چھپتیں جتنی شریف خاندان کے افراد یا قریبی تعلق رکھنے والو ں کی تشہیر ہوتی ہے۔

ان تمام غلطیوں کے مجموعے نے نواز لیگ کو اصولی سیاست اور کارکردگی کے پیمانے پر اس بری طرح سے متاثر کیا ہے کہ آج عمران خان کی طرف سے ’’انتخابات چرانے‘‘ اور حکومت کو چلتا کرنے کا مطالبہ بہت سے حلقوں میں مقبول ہے۔ اب ہم صرف تصور ہی کر سکتے ہیں کہ اگر نواز لیگ کی حکومت نے سوا سال اپنی سرتوڑ کوشش چند ایک عوام دوست کامیابیاں حاصل کرنے کی جانب کرتی تو کیا تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اتنے ہی سنجیدہ مشہور ہوتے جتنے اس وقت سمجھے جا رہے ہیں؟ سیاسی حملوں کے خلاف سب سے بری ڈھال صرف اور صرف کارکردگی ہے۔ بادشاہت بھی بری نہیں لگتی اگر خلق خدا خوشحال ہو۔

حکومت کے پچھلے قدم پر عمران خان کے باونسرز نہیں بلکہ اس کی بیٹنگ کی بری تکنیک بھی ہے۔ اور اگر عمران خان نے 14 اگست کو آوٹ کی ایسی اپیل کر دی جو سات، آٹھ دن تک جاری رہی تو پھر فیصلہ سامعین، حاضرین، ناظرین نہیں بلکہ تیسرا ایپمائر کرے گا۔ تب پتہ چلے گا کہ ایمپائر کتنا نیوٹرل ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.