Header Ads

Breaking News
recent

Poor health facilities in Pakistan by Zaheer Akhtar


ہمارے ملک میں صحت کا شعبہ جس کسمپرسی کا شکار ہے شاید ہی کسی پسماندہ ملک میں ایسی بدترین صورت حال موجود ہو ہمارے سابق اور موجودہ حکمران اس شعبے میں بہتری لانے کی باتیں اور دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عملاً صورتحال اس حد تک افسوس ناک ہے کہ سرکاری اسپتال کرپٹ انتظامیہ کی چراگاہیں بن گئی ہیں اور پرائیویٹ اسپتالوں میں لوٹ مار کا عالم یہ ہے کہ ان اسپتالوں میں او پی ڈی چارجز ہزاروں میں ہوتے ہیں اور یہی اسپیشلسٹ حضرات اپنی پرائیویٹ کلینکس کی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں لیبارٹریوں سے سب کے کمیشن بندھے ہوئے ہیں اور ہر مریض کو غیر ضروری طور پر درجنوں ٹیسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں۔

اسپتالوں میں چوری کا یہ عالم ہے کہ انجکشن دبا لیے جاتے ہیں اور ان کی جگہ ڈسٹل واٹر کے انجکشن مریض کو لگا دیے جاتے ہیں پچھلے دنوں مجھے اپنی وائف کو ایک پرائیویٹ اسپتال لے جانا پڑا، ڈاکٹر نے تین انجکشن لکھ دیے جن میں سے ایک کی قیمت چار سو روپے تھی۔انھیں ڈرپ میں ڈالنا تھا میں کمپاؤنڈروں کی چوریوں سے واقف تھا سو میں کمپاؤنڈر کے سامنے کھڑا رہا کہ انجکشن میں وہ گڑبڑ نہ کردے میری موجودگی سے وہ پریشان تھا اس نے مجھ سے کہا کہ آپ میڈیکل اسٹور سے ایک بٹرفلائی لے آئیں میں جانتا تھا کہ میرے ہٹتے ہی وہ انجکشن تبدیل کردے گا سو میں نے اسٹور جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنے کسی آدمی سے بٹر فلائی منگوا لے جب کہ بٹر فلائی کی قطعی ضرورت نہ تھی اس طرح یہ انسانیت کے دشمن دن بھر میں ہزاروں روپے کی چوری کرلیتے ہیں۔

پرائیویٹ اسپتالوں کی بے لگام لوٹ مار اور نچلے اسٹاف کی چوریوں کو روکنے کے لیے ایک موثر نظام اور قانون کی ضرورت ہے کیونکہ پرائیویٹ اسکولوں کی طرح پرائیویٹ اسپتال بھی ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ان اسپتالوں میں جنرل وارڈ کے بیڈ سے لے کر سبھی پرائیویٹ اور اے سی والے رومز تک سب کے چارجز عام ہی نہیں بلکہ خاص لوگوں کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں پرائیویٹ روم اور اے سی لگے رومز کے چارجز فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کمروں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک جنرل وارڈ میں اگر کوئی مریض ایک ہفتہ رہتا ہے تو اس کا بل اتنا بنا دیا جاتا ہے کہ مریض جسمانی بیماری کے ساتھ خوف کی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اتنے زیادہ چارجز کے بعد پرائیویٹ اسپتالوں میں لاپرواہیوں اور مجرمانہ غفلت کا عالم یہ ہے کہ آئے دن ڈاکٹروں کی غفلت اور غیر ذمے داریوں کی وجہ مریضوں کی اموات اور لواحقین کے پرتشدد احتجاج کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں یہاں میں اپنی والدہ کے ساتھ ہونے والے ظلم کا مختصر احوال اس لیے سنانا چاہتا ہوں کہ اس سے پرائیویٹ اسپتالوں کی مجرمانہ کارکردگی کا اندازہ ہو۔ میری والدہ کو پیٹ میں شدید درد کی شکایت ہوگئی میں انھیں لے کر معروف اسپتال گیا ایمرجنسی والوں نے انھیں ایک تیز پین کلر انجکشن لگایا درد کم ہوا تھوڑی دیر بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ انھیں اب گھر لے جائیں۔ میں والدہ کو احتیاطاً کلفٹن کے ایک مشہور اسپتال لے گیا وہاں بھی کچھ دوائیں لکھ کر دی گئیں میں گھر آگیا۔
دوسرے دن پھر شدید درد شروع ہوا میں نے اپنے مہربان دوست ڈاکٹر منظور مرحوم کو صورت حال سے آگاہ کیا انھوں نے کہا کہ فوری کسی اچھے اسپتال میں داخل کرادو میں نے والدہ کو شہر کے دوسرے بڑے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرادیا جہاں غیر ذمے داری اور مجرمانہ غفلت کا وہی حال تھا جو سارے ملک کے اسپتالوں کا ہے والدہ تین دن اس اسپتال میں رہیں جہاں درد کی وجہ جاننے کے بجائے پین کلر سے کام چلایا جاتا رہا آخر تیسرے دن ان کی آنت پھٹ گئی اور دس منٹ میں ان کا انتقال ہوگیا معزز ڈاکٹروں نے بتایا کہ اپنڈکس پھٹ گیا جس سے موت واقع ہوئی۔

ذرا ان وحشیوں کی قاتلانہ حرکت پر نظر ڈالیے اپنڈکس ایک عام سی بیماری ہے جسے پندرہ بیس منٹ کے آپریشن سے ختم کیا جاسکتا ہے لیکن تین دن تک شہر کے تین بڑے اسپتالوں سے رجوع کرنے کے باوجود یہ تشخیص نہ ہوسکی کہ مریض اپنڈکس جیسی معمولی بیماری میں مبتلا ہے جس کا علاج ایک چھوٹا سا آپریشن ہے لیکن ان پیشہ ور مجرموں نے اپنی مجرمانہ غفلت سے میری والدہ کی جان لے لی یہ ایک سفاکانہ قتل تھا جس کی کوئی شنوائی نہ تھی جانے ایسے کتنے کیس روزانہ اسپتالوں میں ہوتے ہیں۔

پرائیویٹ اسکولوں کی طرح گلی گلی محلے محلے میں چھوٹے چھوٹے پرائیویٹ اسپتال اور زچہ خانے کھلے ہوئے ہیں پچھلے دنوں کورنگی میں ایسے ہی ایک پرائیویٹ اسپتال میں آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے 7 بچوں کی ہلاکت کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں مالک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جانے کی اطلاع بھی آتی رہی لیکن اس کے بعد آگے کا حال کرپشن کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔سرکاری اسپتالوں کی روح فرسا داستانیں ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں بڑے شہروں میں کچھ نہ سہی تسلی تو مل جاتی ہے، لیکن دیہی علاقوں میں تو اسکولوں کی طرح سرکاری اسپتال بھی وڈیروں کے مویشی خانے بنے ہوئے ہیں مریض عام طور پر حکیموں عاملوں کا علاج کرواتے ہیں اور اپنی بیماریوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیم اور علاج سرکار کی ذمے داری ہوتی ہے جو بلامعاوضہ عوام کو فراہم کی جاتی ہے لیکن پسماندہ ملکوں میں تعلیم اور علاج لوٹ مار کا سب سے بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ آج دنیا میں علاج کے نئے نئے طریقے دریافت کرکے انسانوں کی جانوں کی حفاظت کی جا رہی ہے اور پاکستان میں دستیاب علاج بھی اس قدر مہنگا کردیا گیا ہے کہ عام آدمی اس ناقص علاج سے بھی محروم ہے کراچی کی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ بتائی جاتی ہے اس آبادی کے لیے صرف دو بڑے اسپتال جناح اور سول موجود ہیں۔

صحت قوم کی ایسی اہم ضرورت ہوتی ہے کہ ہر ملک اس کے لیے بجٹ میں ایک معقول حصہ رکھتا ہے کراچی کی آبادی جب چالیس پچاس لاکھ تھی تو تب بھی شہر میں دو ہی بڑے سرکاری اسپتال تھے ۔ اس ملک کی اشرافیہ کا ان اسپتالوں سے کوئی تعلق ہی نہیں وہ اپنی معمولی بیماریوں کا علاج لندن، نیویارک، پیرس میں کراتے ہیں اور اس مہنگے ترین علاج پر خرچ ہونے والا سرمایہ عوام کی محنت کی کمائی ہوتی ہے جو کرپشن کے ذریعے خواص کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔

آج کل سندھ کے وزیر صحت کا تعلق ایک ایسی جماعت سے ہے جو ماضی میں عوامی خدمات کا ایک اچھا ریکارڈ رکھتی ہے ان کی ذمے داری ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں موجود بے شمار بے راہ رویوں کو ختم کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں کراچی میں موجود سرکاری اسپتالوں کی حالت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کراچی میں جناح اور سول جیسے اسپتال ہر ٹاؤن میں قائم ہونے چاہئیں اور ہر سرکاری اسپتال میں ہر بیماری کے اسپیشلسٹ لازمی طور پر ہونے چاہئیں پرائیویٹ اسپتالوں کی لوٹ مار اور مجرمانہ غفلت کے خلاف سخت تادیبی اقدامات کیے جانے چاہئیں اور عطائی ڈاکٹروں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔
اس اہم مسئلے پر حکومت کی توجہ دلانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مجھے کوئی ڈیڑھ ماہ سے اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے جن مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ڈاکٹروں کی غیر ذمے داریوں کے جو تجربات مجھے حاصل ہو رہے ہیں وہ ناقابل 
بیان ہیں۔

Zaheer Akhtar

Poor health facilities in Pakistan

No comments:

Powered by Blogger.