Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ جلیانوالہ باغ سے سانحہ ماڈل ٹائون تک.......


بریگیڈیئر جنرل ایڈورڈ ہیری ڈائر ہندوستان کی    تاریخ آزادی کا مکروہ 
کردار ہے جس نے 13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں نہتے، پرامن اور سوگوار شہریوں پر گولی چلانے کا حکم دیا ہے اور احاطے سے نکلنے والوں کو بھون کر رکھ دیا۔ برطانوی تاریخ دان اس سانحہ کوتاج برطانیہ کے زوال اور جدوجہد آزادی کی کامیابی کا سنگ میل تصور کرتے ہیں۔ اسی بنا پر لیبر پارٹی نے پارلیمنٹ میں اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا مگر سانحہ جلیانوالہ باغ اپنی تمام تر سنگینی، بے رحمی اور بے تذبیری کے باوجود سانحہ ماڈل ٹائون سے مشابہ نہیں۔

سانحہ جلیانوالہ اس وقت پیش آیا جب امرتسر میں مارشل لا نافذ تھا، جنرل ایڈوائر کی ہدایت پر بریگیڈیئر ڈائر نے امرتسر کے شہریوں کو پابند کیا تھا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ ہندوستان پر غیرملکی انگریز کی حکمرانی تھی اور بریگیڈیئر مقامی تھانہ۔ کسی کا ہم زبان، ہم رنگ، ہم نسل اورہم مذہب۔ اسے عوام کا جان و مال نہیں انگریز کا اقتدار عزیز تھا اور وہ انگریز حکومت کا رعب و دبدبہ برقرار رکھنے کے لیے ایک ہزار تو کیا جلیانوالہ باغ کے نام سے اس گرائونڈ میں موجود بیس ہزار کے بیس ہزار باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا۔

جنرل ڈائر نے فوج کو گولی چلانے کا حکم اپنی موجودگی میں دیا اور بعدازاں تحقیقاتی کمشن کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ہوائی فائر کرنے والے فوجیوں کو روکا اور سیدھی گولی چلانے کی ہدایت کی۔ ’’امرتسر کے قصاب‘‘ نے برملا یہ کہا کہ میں گھروں سے نہ نکلنے کے اپنے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے امرتسریوں کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔ امرتسر لندن سے بھی ہزاروں میل دور تھا۔

مگر لاہور میں ظلم کی داستان بھارتی فوج یا اسرائیلی پولیس نے رقم نہیں کی شہر میں کرفیو نافذ تھا نہ منہاج القرآن کے کارکنوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا تھا۔ بیرئیر ہٹانے کا موقع محل تھا نہ رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح پولیس بھیجنے کی تُک۔ حد یہ ہے کہ بریگیڈیئر ڈائر کی طرح کسی میں یہ اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ اپنے اقدام کا دفاع کر سکے۔ اپنے پروردہ، فرسودہ گلو بٹ کی سربراہی میں پولیس ایکشن کی ذمہ داری قبول کرے ۔

سب جانتے ہیں اور پولیس و انتظامیہ کے تمام ایماندار، باضمیر افسر واہلکار، حکمران جماعت کے خوف خدا رکھنے والے کارکن آف دی ریکارڈ گفتگو اپنے ہرجاننے والے کو بتا چکے کہ کہاں اجلاس ہوئے، کس نے صدارت اور شرکت کی پولیس کو ’’گلو بٹ‘‘ کی قیادت میں کیا مشن سونپا گیا اور اس توڑ پھوڑ، قتل و غارت گری میں اور کتنے گلو بٹ شریک تھے؟ وغیرہ وغیرہ مگر ہر ایک اپنے انجام سے خوفزدہ جھوٹی کہانیاں سنانے اور عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہے۔ اس بنا پر ہمارے بڑے بوڑھے انگریزوں کو یاد کرتے ہیں کہ وہ اگر کوئی زیادتی کرتے تو اس کا برملا اعتراف بھی کرتے تھے اور جھوٹ بول کر مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کے عادی نہ تھے۔

اگر واقعی میاں شہباز شریف اس خونیں واقعہ سےبے خبر تھے اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کی زبان پر اعتبارنہ کیا جائے تو پھر میاں صاحب کو کسی تاخیر کے بغیر اپنے ان وزیروں، مشیروں، ابلاغی ماہرین ، قابل اعتماد مخبروں، انتظامی و پولیس افسروں اورماڈل ٹائون میں رہائش پذیر مسلم لیگی رہنمائوں کے خلاف قتل عمد، اختیارات سے تجاوز، فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور حکومت و حکمرانوں کی بدنامی کے الزام میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے فی الفور نذر حوالات کرنا چاہئے جن کی وجہ سے بیدار مغز، مستعد، باخبر، چوکس اور پولیس و انتظامیہ کے علاوہ اپنے ساتھیوں کی ہر حرکت پر نظر رکھنے والے حکمران کی ذاتی شہرت داغدار ہوئی۔ پولیس و انتظامیہ پر مضبوط گرفت کے دعوے غلط ثابت ہوئے اور پل پل کی خبر دے کر داد وصول کرنے والوں کی نمک حرامی واضح ہوئی۔

حقیقت مگر یہ نہیں دراصل اس ملک میں جس طرح کا مکروہ، عوام دشمن، انسانیت کش نظام جمہوریت کے نام پر مسلط ہے وہ ایسے ہی گروہوں، افراد اور رویوں کو جنم دیتا اور ظلم کی پرورش کرتا ہے سرکاری ملازم ریاست کے وفادار اور عوام کے خدمتگار نہیں حکمرانوں کے اطاعت گزار، تابعدار اور غلام ہیں۔ 9 اپریل 1977ء کو عوام پر گولی چلی تو اعتزاز احسن نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا مگر سیاستدانوں کی وہ نسل معدوم ہوئی اب تو حکمران اگر حکم دیں تو یہ وزیر، مشیر، سرکاری افسر اور اہلکار اپنے ماں باپ کے ساتھ بھی وہ سلوک کرنے سے باز نہ آئیں جو 17 جون کی صبح خواتین، بوڑھوں، بچوں کے ساتھ ماڈل ٹائون میں ہوا۔

یہی نظام عسکریت پسندی، تشدد اور عدم برداشت کو جنم دیتا اور گرم خون کو ہتھیار پکڑنے پر اکساتا ہے۔ دنیا بھر میں جنم لینے والی عسکریت پسندی کی 13 تحریکوں کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ حکومتوں کی نااہلی، سوشل اور جوڈیشل سسٹم کی ناکامی، وسائل کی نامنصفانہ تقسیم، خونخوار جرائم پیشہ اشرافیہ کی سرپرستی اور مظلوموں سے زیادتی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کو جنم دیتی اور معاشرے کے لئے ناسور بن جاتی ہے۔

یہ المیہ پاکستان میں رونما ہو چکا ہے پاک فوج نے معاشرے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے آپریشن کا آغاز کیا ہے پوری پاکستانی قوم اس کے لئے دعاگو ہے مگر دہشت گردی کو جنم دینے والے نظام کا خاتمہ اور اس نظام سے عشروں تک مستفید ہونے والوں کی سرکوبی نہ ہوئی تو پائیدار امن ممکن ہے نہ شازیہ اور تنزیلہ پر سیدھی گولی چلانے والی ذہنیت کا سدباب آسان۔ آخر فوج کب تک آپریشن کرتی رہے گی۔ ہر گلو بٹ سے گلو خلاصی ضروری ہے تاکہ اس کی دیکھا دیکھی کوئی بندوق تھامے نہ معاشرے کا امن تباہ کرے۔ بریگیڈئر ڈائر نے سلطنت برطانیہ کے زوال کی پہلی اینٹ رکھی، 9 اپریل کا تشدد بھٹو حکومت کے خاتمے کا نقطہ آغاز تھا۔ لال مسجد آپریشن جنرل پرویز مشرف کو لے ڈوبا معلوم نہیں سانحہ ماڈل ٹائون کے شر سے کیا خیر برآمد ہوتا ہے۔




دانش مند اور دوراندیش حکمران ایسے مواقع پر سیاسی قربانی دیکر اپنا اقتدار بچاتے اور عوام میں پایا جانے والا اشتعال کم کرتے ہیں مگر میاں شہباز شریف پر حیرت ہے کہ لوگ ان کی زندگی بھر کی نیک نامی کو برباد کرنے، انہیں ایک ایسا حکمران اور ایڈمنسٹریٹر ثابت کرنے پر تلے ہیں جس سے کسی نے آپریشن سے قبل پوچھا نہ مزاحمت شروع ہونے پر اطلاع دی اور نہ وحشیانہ فائرنگ کی اجازت طلب کی۔ لیکن اب تک انہوں نے ان میں سے کسی کی قربانی نہیں دی۔

دو چار بے تدبیر افسر اور ایک دو یاوہ گو وزیر اب تک جیل میں بیٹھے اپنی وفاداری اور تابعداری کی داستان بیان کررہے ہوتے اوران قصیدہ خوانوں کی بھی زبان بندی کی جاتی جو ایک دوسرے سے بڑھ کر میاں صاحب کی لاعلمی، بے خبری اور کمزور طرز حکمرانی کا تاثر ابھا رہے ہیں تو شاید صورتحال روبہ اصلاح ہوتی اور عوامی مایوسی و بے چینی میں کمی کے آثار نمایاں ہوتے مگر وہ بھی مستقبل کے ان وعدہ معاف گواہوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ گرے بیروں کا اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.