Header Ads

Breaking News
recent

زخم کے بھرنے تلک.......


فرد کو فیصلہ کرنے میں بہت زیادہ دیر نہیں لگتی لیکن ادارے چونکہ فرد سے بڑے اور وزنی ہوتے ہیں اور جگہ بھی خوب گھیرتے ہیں، اس لیے وہ فرد کی سی تیزی سے فیصلہ نہیں کر سکتے۔ کچھ لوگ اس بابت یہ تاویل رکھتے ہیں کہ فرد کے مقابلے میں ادارے کو فیصلہ کرنے اور عمل درآمد سے پہلے اندرونی و بیرونی نتائج و عواقب کو دیکھنا اور تولنا پڑتا ہے۔ اسی لیے وقت زیادہ لگتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اداروں کی عمومی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ فیصلے تب تک ٹالتے رہو جب تک اپنی بقا کا سوال سروں پر تلوار کی طرح نہ لٹک جائے۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو شمالی وزیرستان میں کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
اگرچہ گذشتہ تیرہ برس میں دہشت گردی کے خاتمے کی نیت سے قبائلی و غیر قبائلی علاقوں میں چھ بڑے آپریشن کیے گئے مگر ان میں سے دو ہی آپریشن کامیاب ہو سکے۔ سوات آپریشن کلی طور پر اور جنوبی وزیرستان آپریشن جزوی لحاظ سے۔ اس عرصے میں سات امن معاہدے ہوئے۔ ان میں سے پانچ ان فریقوں سے ہوئے جنہوں نے دو ہزار سات میں تحریکِ طالبان پاکستان تشکیل دی۔ جب کہ دو سمجھوتے ان سے ہوئے جنہوں نے اپنا انفرادی تنظیمی تشخص برقرار رکھا (ملا نذیر اور حافظ گل بہادر) اور یہی دو معاہدے زیادہ پائیدار ثابت ہوئے۔ چھ آپریشنوں اور سات معاہدوں کا بنیادی محرک فوج تھی جب کہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ذیلی تھا۔

تازہ آپریشن سے پہلے سیاسی قیادت نے مذاکرات کی متبادل حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا تاہم فوج کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ ان مذاکرات کے سلسلے میں سرکردہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کامیاب کوشش بھی ہوئی۔ گو پارلیمنٹ بھی انھی سیاسی جماعتوں کے ارکان پر ہی مشتمل ہے لیکن پارلیمنٹ کو براہ راست اعتماد میں لینا یا مشاورت کا عمل اسمبلی ہال میں لے جانے کی بوجوہ ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ خود پارلیمنٹ نے بھی اس سلسلے میں اپنا استحقاق مجروح ہونے کی کوئی اجتماعی شکایت نہیں کی۔
ہو سکتا ہے کہ یہ رویہ یورپ، امریکا یا بھارت جیسی جمہوریتوں میں قابلِ قبول نہ ہو جہاں جنگ اور امن کا فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی کرنے کی روایت ہے۔ لیکن انیس سو اڑتالیس کی جنگِ کشمیر سے انیس سو ننانوے کی کرگل لڑائی تک اور نائن الیون کے بعد قبائلی جنگجوؤں سے معاہدوں اور جنگوں کے تناظر میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسے کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھتی۔
یہاں فیصلہ پہلے ہوتا ہے اور پارلیمنٹ کو بعد میں پتہ چلتا ہے اور نہ بھی پتہ چلے تب بھی شکوہ نہیں۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کو تو جانے دیں جن سیاسی جماعتوں سے امن مذاکرات شروع کرنے کی گذشتہ ستمبر میں رسمی منظوری لی گئی تھی ان جماعتوں کو مذاکرات کی ناکامی کے اسباب اور اس کے نتیجے میں انتہائی قدم اٹھانے کی وجوہات رسمی طور پر بتانا بھی حکومت بھول گئی۔ بہرحال اس وقت ایسی باتیں کرنا فروعی اور بال کی کھال اتارنا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ آپریشن کراچی ایئرپورٹ کے بڑے واقعے کا شاخسانہ ہے یا اس کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ بادی النظرمیں کراچی ایئرپورٹ کا حملہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکہ ثابت ہوا۔ لیکن اگر ہم پچھلے دو ماہ کی واقعاتی نقل و حرکت دیکھیں تو اس کا نتیجہ آپریشن کی شکل میں ہی نکلنا تھا۔
مذ اکراتی عمل اب سے دو ماہ قبل عملاً مردہ ہو چکا تھا۔ جماعتِ اسلامی کے بارے میں تو نہیں کہا جاسکتا البتہ جوشیلی تحریک ِ انصاف اور گرگِ باران دیدہ جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان ) کو اگلے نقشے کی بابت کچھ نہ کچھ اشارے دے دیے گئے تھے۔ لہٰذا ان دونوں جماعتوں کی جانب سے ’’صرف اور صرف مذاکرات ہی واحد حل ہیں‘‘ کی پرزور تکرار بھی رسمی حدود میں آ گئی تھی۔ (تحریکِ انصاف تو بہت پہلے ہی ڈرون حملوں اور ناٹو سپلائی کے معاملے پر اپنی حکمتِ عملی کے بوجھ سے تھک کر خاموشی سے پتلی گلی سے نکل چکی تھی۔ جب کہ دفاعِ پاکستان کونسل حسبِ ضرورت بٹن سے آن اور آف ہونے والی تنظیم ہے)۔

مذاکرات کے بظاہر سب سے پرجوش حکومتی وکیل چوہدری نثار علی خان کی وکالت میں بھی ایک ماہ پہلے صرف خانہ پری والا جوش باقی رہ گیا اور پھر وہ بھی نہ رہا۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی قیادت دو ڈھائی ماہ پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی جس کا اظہارِ آپریشن عضب کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
چھ فروری سے یکم مئی کے دوران جنرل راحیل شریف دو مرتبہ سعودی عرب کے دورے پر گئے۔ انیس مئی کو انھوں نے کابل میں ایساف کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفرڈ اور افغان چیف آف جنرل اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی کے ساتھ معمول کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی اور خطے کی تازہ صورتحال کا مشترکہ جائزہ لیا اور قائم مقام افغان صدر یونس قانونی اور وزیرِ دفاع جنرل بسم اللہ محمدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ تئیس مئی کو چینی صوبہ شن جیانگ کے شہر ارمچی میں کار بم حملوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ دو جون کو جنرل شریف نے چین میں تین دن گذارے۔ چھ جون کو کابل میں افغان صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے قافلے پر حملہ ہوا۔ اس عرصے میں طالبان کی اندرونی دھڑے بندی کھل کے سامنے آگئی۔ یہ دھڑے بندی قدرتی تھی یا انجینئرڈ؟ خدا بہتر جانتا ہے۔

آٹھ جون کی رات کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوا۔ دس جون کو جنرل شریف کی ملاقات وزیرِ اعظم نواز شریف سے ہوئی۔ تین گھنٹے کی اس ملاقات میں وزیر ِداخلہ چوہدری نثار علی کے علاوہ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے کے نگران میجر جنرل ناصر دلاور شاہ بھی موجود تھے۔ گیارہ جون کو کور کمانڈرز اور فارمیشن کمانڈرز کی مشترکہ شش ماہی کانفرنس میں صورتحال پر حتمی غور و خوض ہوا۔ اور چودہ و پندرہ جون کی درمیانی شب کو فضائی بمباری سے آپریشن عضب کا آغاز ہوا۔
اس آپریشن کی پہلی باضابطہ خبر وزیرِ اطلاعات یا وزیرِ دفاع کی جانب سے نہیں بلکہ فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کے پریس ریلیز کی شکل میں جاری ہوئی۔ بعد ازاں حکومت نے بھی اس آپریشن کی تصدیق کر دی۔ کیا خیبر پختون خوا کی حکومت کو اعتماد میں لیا گیا۔کیا ممکنہ بے گھر افراد کے انخلا اور قیام و طعام کے انتظامات پہلے سے تسلی بخش طور پر ہو چکے تھے؟ اس بارے میں حقائق فی الحال غیر واضح ہیں۔ تاہم شمالی وزیرستان کے مکینوں کو دو ہفتے پہلے ہی بادلوں کی رفتار سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کوچ کا وقت آن پہنچا۔

چنانچہ انھوں نے سرحد پار افغانستان اور اندرونِ ملک بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ کا رخ کر لیا۔ اس تناظر میں خیبر پختون خوا حکومت کا یہ موقف عجیب سا لگتا ہے کہ اسے ہوا کے بدلتے رخ کا اندازہ نہیں ہوا اور سب کام ’’اچانک سے‘‘ہوا ہے اس لیے اس ناگہانی کے اثرات سے نمٹنے کی خاطر خواہ مہلت نہ مل سکی۔ لیکن صوبائی حکومت کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس کے موقف پر اعتبار کرنا ہی پڑے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل ٹوٹٹنے کی اطلاع بھی خٹک حکومت کو بعد میں ہی ملی تھی۔
اب تک شمالی وزیرستان آپریشن اس لیے بھی ٹلتا رہا کیونکہ بقول سیاسی و فوجی اسٹیبلشمنٹ اس نازک آپریشن کے نتائج و ردِ عمل کا سامنا کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ تو کیا اب قومی اتفاقِ رائے ہے؟ اس موقع پر مجھے سابق چیف آف اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔جب ان پر امریکا کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے دباؤ بہت ہی بڑھ گیا تو انھوں نے کہا کہ پاکستان کو کوئی ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کب اور کیسے ہو گا اس کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔

شائد افغانستان سے مغربی فوجوں کی انخلائی مدت کے آخری چھ ماہ، چینی صوبے شن جیانگ میں بڑھ جانے والی دہشت گردی، کراچی ایئرپورٹ، عراق میں القاعدہ سے بھی دو ہاتھ آگے آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں ریاستی عمل داری کے تیزی سے زوال اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب، ایران اور امریکا کی مشترکہ گھبراہٹ اور پاک افغان پہاڑی علاقوں میں سردی شروع ہونے سے پہلے کے آخری موسمِ گرما نے آپریشن عضب کے اجزائے ترکیبی کا کام کیا ہے۔
ہاں ردِ عمل ہو گا۔ شہروں اور اہم تنصیبات پر چھاپہ مار اور خود کش حملے بڑھ جائیں گے۔ لیکن یہ تو تب بھی ہو رہا تھا جب آپریشن شروع نہیں ہوا تھا۔ تو کیا آپریشن سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟مالاکنڈ میں کامیاب آپریشن کے باوجود آج تک وہاں سویلین انتظامیہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو پائی۔ حالانکہ توقعاتی خاکہ یہ تھا کہ فوجی آپریشن کی تکمیل کے تین ماہ بعد معاملات مرحلہ وار شہری انتظامیہ کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کو اسلحے اور تربیت کے اعتبار سے اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ فوج کی براہ راست مدد لیے بغیر روزمرہ انتظام چلا سکیں۔ لیکن اس بات کو بھی پانچ برس ہو گئے اور سویلین عملداری کی بحالی کا مرحلہ وہیں کا وہیں اٹکا ہوا ہے۔ اسی طرح چار برس قبل جنوبی وزیرستان کے آپریشن کی تکمیل کے باوجود وہاں کے لاکھوں مکین اب تک علاقہ سے باہر ہیں۔

جب رویہ یہ ہو کہ آپریشن کے بعد مریض کی مرہم پٹی کے بجائے اسے آپریشن ٹیبل پر ہی چھوڑ دیا جائے تو پھر آپ ہی کو ہر چند برس بعد شکایت ہوتی ہے کہ ہم نے تو پچھلوں کا صفایا کردیا تھا تو اب نئے شدت پسندوں کی تازہ کھیپ کہاں سے آ گئی۔ زخم کے ناسور بننے تک علاج ملتوی کیے رکھنا ہی در اصل انتہا پسندی کی جڑ ہے۔ ببول کے درخت سے اگر ایک مرتبہ سارے کانٹے نوچ بھی لیں تو اگلے موسم میں پھر یہی عمل دھرائیں گے کیا؟

دوست غمخواری میں میری، سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.