Header Ads

Breaking News
recent

نواب خیر بخش مری۔ ایک باب تمام ہوا..........


نواب خیر بخش مری کو میں نے پہلی دفعہ حکومت پاکستان کے فوجی طیارے سی 130 سے کوئٹہ ایئر پورٹ پر اترتے دیکھا۔ ضیاء الحق کی عام معافی کے اعلان بعد تمام بلوچ اور پشتون جلا وطنی ختم کر کے افغانستان سے پاکستان واپس لوٹ رہے تھے اور نواب مری نے اپنے قبیلے کو حکم دیا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر افغانستان ہجرت کر جائیں۔ قبائلی زندگی کی بھی کیا مجبوریاں ہوتی ہیں۔ سردار جہاز میں سوار ہے اور قبیلے کے لوگ پا پیادہ‘ چھپتے چھپاتے‘ غیر معروف راستوں سے ہوتے اس کے حکم کو قبائلی مجبوری کے طور پر بجا لاتے ہیں۔

مریوں کے افغانستان جانے کے کچھ ہی دیر بعد روسی افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں اور افغان عوام نے اسی بیرونی جارحیت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ خیر بخش مری نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھے لیکن اپنے آپ کو اسٹالن کا پرستار سمجھتے تھے۔ یوں انھوں نے جس سرزمین میں پناہ لی‘ اسی کے عوام کے خلاف روس کے ہمنوا بنے رہے۔ ان کا بیٹا گزین مری میرا دوست ہے۔ وہ روس میں زیر تعلیم تھا۔ اسے وہاں جس قدر خرچہ ملتا‘ وہ اس سے ایک شاہانہ زندگی گزارتا۔ بولان میڈیکل کالج کے ساتھ بنے ہوئے اس کے انتہائی شاندار گھر میں جب بھی اس سے ملنے گیا وہ روس میں گزری عیش کی داستانوں میں سے ایک قصہ ضرور سناتا۔ یہ اس زمانے میں بلوچستان کا وزیر داخلہ تھا اور اس کی گاڑیاں اور گارڈوں کی فوج ظفر موج نواب مری کے تصرف میں ہوتی۔

نواب مری کے تمام بیٹوں پر روس کی نوازشات تھیں جب کہ افغانستان جہاں وہ پناہ لیے ہوئے تھے اس پر روس کے بموں کی بارشیں۔ نواب مری نے زندگی بھر کبھی خود مسلح جدوجہد نہ کی لیکن اپنے پورے قبیلے کو گوریلا جنگ کی تربیت دی۔ ان کے قبیلے کی گوریلا جنگ کا سربراہ شیر محمد مری عرف جنرل شیروف تھا۔ وہ نواب مری کا اس قدر تابع فرمان تھا کہ سردار چاکر خان ڈومکی نے بتایا کہ ایک دفعہ وہ کوئٹہ جا رہے تھے کہ راستے میں شیروف کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی‘ انھوں نے زخمی شیروف کو گاڑی میں ڈالا اور کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے تا کہ کسی اسپتال لے جائیں لیکن شیروف نے کہا مجھے پہلے نواب کے پاس لے جائو‘ میں اس سے پوچھ کر اسپتال جائوں گا۔
ارباب کرم خان روڈ پر نواب کے گھر پہنچے‘ وہ اس وقت ورزش کرنے میں مصروف تھے، زخمی شیروف اور سردار چاکر خان انتظار کرنے لگے۔ دو گھنٹے کے بعد اندر سے پیغام آیا‘ جہاں جانا چاہتا ہے اسے لے جائو۔ لیکن اسی وفا دار شیروف مری کے ساتھیوں کی زابل‘ افغانستان میں نواب مری کے لوگوں سے لڑائی ہو گئی۔ مجھے شیروف کے بھائی نے بتایا کہ بھارت سے آنے والی امداد یہ لوگ خود اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔

دربدر اور خاک بسر بجارانی مریوں نے احتجاج کیا تو شدید لڑائی ہو گئی۔ جس کا بدلہ نواب مری کے لوگوں نے کوہلو میں بجارانی لیویز کے سپاہیوں کو قتل کر کے لیا۔ شیروف کا یہی بھائی اس وقت میرے ساتھ تھا جب میں سبی میں ڈپٹی کمشنر کے طور پر 114 سال سے بند سبی ہرنائی روڈ تعمیر کروا رہا تھا۔ جہاں جہاں روڈ کھلتی مری قبائل کے لوگ افغانستان میں گزرے ایام پر تلخ ہو جاتے۔ یہ سڑک بجارانی مری علاقے سے گزرتی تھی۔ صرف تین کلو میٹر نواب مری کے اپنے قبیلے سے تھی۔ روڈ جب وہاں پہنچی تو نواب مری کے افراد نے روکنے کی کوشش کی لیکن بجارانیوں اور شیروف کے بھائی کی صرف تلخ کلامی سے واپس چلے گئے۔
افغانستان میں نجیب اللہ کی حکومت ختم ہوئی تو نواب مری کو وہاں اپنا وجود خطرے میں محسوس ہوا۔ دوسری جانب بلوچستان میں جمالی قبیلہ نواب اکبر بگٹی سے خوفزدہ تھا۔ تاج محمد جمالی وزیراعلیٰ تھے۔ نواب اکبر بگٹی کو ایک شک تھا کہ ان کے بیٹے سلال بگٹی کے قاتلوں نے جمالیوں کے ہاں پناہ لی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ظفر اللہ جمالی گھر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ دوسری جانب نواب مری کے بیٹے افغانستان میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں دیکھ کر پاکستان آ چکے تھے اور باپ کو پاکستان لانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مریوں کی آباد کاری کے لیے ایک خطیر رقم حکومت نے دی۔

یہ رقم چونکہ چیک کے بجائے کیش میں دی گئی‘ اس لیے اس زمانے کے فنانس سیکریٹری نیازی کو نیب کا کیس بھگتنا پڑا‘ ملازمت گئی اور آج تک دربدر ہیں۔ تاج محمد جمالی نواب مری کو پاکستان لانا چاہتے تھے تا کہ وہ نواب بگٹی کے غیظ و غضب کا مقابلہ کر سکیں۔ افغان مجاہدین نواب مری کو اپنا دشمن گردانتے تھے۔ آئی ایس آئی حرکت میں آئی۔ مجاہدین کو راضی کیا گیا۔ فوج کا سی 130 طیارہ کوئٹہ سے اڑا جس میں نواب اسلم رئیسانی اس وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
جب یہ سب معاملات چل رہے تھے تو میں نے ایک دن نواب اکبر بگٹی سے سوال کیا کہ کیا نواب خیر بخش مری واپس آ جائیں گے تو ان کا جواب تھا وہ جس قسم کی قسمیں کھا کر یہاں سے گیا ہے‘ اگر وہ بلوچ ہے تو واپس نہیں آئے گا۔ لیکن نواب مری کابل میں اپنے ساٹھ ستر مرغوں سمیت جہاز میں بیٹھ گئے۔ تاج محمد جمالی نے استقبال کرنے والوں کو ایئر پورٹ پر کھل کر کھیلنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ پولیس کو تحمل کا ثبوت دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ جیسے ہی پاکستان کا فوجی سی 130 طیارہ کوئٹہ ایئر پورٹ پر اترا چند نوجوان ایئر پورٹ کی چھت پر چڑھے اور انھوں نے پاکستان کا جھنڈا اتار کر بی ایس او کا پرچم لہرا دیا۔ نواب مری پاکستان کی سرحد پر قدم رکھتے ہی جیسے خاموش سے ہو گئے۔ گم سم بس اپنی لاٹھی گھماتے رہتے۔
خوبصورت‘ سرخ و سفید نواب مری کا بچپن انگریز ڈپٹی کمشنر سبی کی کفالت میں گزرا۔ میں نے آرتھنگٹن ڈبوں کی ان کے استادوں کے ساتھ خط و کتابت دیکھی ہے جنہوں نے لکھا تھا کہ یہ بچہ ہر مضمون شوق سے پڑھتا ہے سوائے حساب کے۔ اس کے بعد وہ ایچی سن کالج میں سرکاری خرچ پر داخل کیے گئے۔ کالج کی مسجد ان کا ٹھکانہ تھا جسے وہ اپنے ہاتھ سے جھاڑو دے کر صاف کرتے۔ ایچیسن کالج سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے نیوی میں ملازمت اختیار کر لی۔ ڈسپلن راس نہ آیا اور ایک دن منوڑہ کے قریب سمندر میں چھلانگ لگائی اور تیرتے ہوئے ایک بلوچ گائوں جا نکلے۔ وہاں سے واپس اپنے علاقے میں آ گئے۔ سبی کے ڈپٹی کمشنر کی فائلوں میں نواب مری کی فائل بہت دلچسپ ہے۔

اس میں ان دونوں کے ایک مکالمے کو ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ کیا ہے۔ اس نے لکھا‘ نواب مری میرے پاس آئے اور کہا مجھے سردار بنا دو‘جواب دیا‘ تمہاری عمر کم ہے‘ کہا اکبر بگٹی کو کیوں بنایا‘ کہا اس نے وہاں لیویز تھانہ بنانے کی اجازت دی‘ نواب مری نے کہا اچھا میری سندھ کی زمین مجھے دے دو‘ جیسے اکبر بگٹی کو ملی ہیں‘ جواب دیا وہ تو انھیں اس لیے دی گئیں کہ انھوں نے حروں کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا‘ آپ کی زمینیں بھاگ ٹیل کی نہر کے ساتھ موجود ہیں۔ نواب مری غصے میں آ گئے اور کہا تم لوگوں نے میری زمینیں ہڑپ کی ہیں اور اب کٹھن میں موجود تیل کے چشموں پر قبضہ کرنا چاہتے ہو لیکن اپنی زندگی میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔

نواب مری کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے لیکن پاکستان واپسی کے بعد انھوں نے اپنے نظریات کی پسپائی کا جو حشر دیکھا وہ ایک داستان ہے۔ انھوں نے ’’حق توار‘‘ نامی تنظیم بنائی جس نے سریاب پھاٹک کے پاس بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ میں نے خود جائنٹ روڈ پر پچیس تیس لوگوں کے مختصر ہجوم سے نواب مری کو انقلاب پر تقریر کرتے دیکھا۔ وہ سیلاچی قبیلہ جو نواب مری پر جان چھڑکتا تھا‘ انھوں نے مری فراری کیمپ کے سربراہ توکل اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ کر سبی انتظامیہ کے حوالے کیا کہ یہ لوگ کرنل علمدار کے قاتل ہیں لیکن شاید نواب مری کی جدوجہد کو عزت ملنا تھی کہ 1999ء میں پرویز مشرف جیسے شخص کو اللہ نے اقتدار دے دیا۔

وہ بلوچستان جو بھول چکا تھا کہ پنجابی استعمار بھی کوئی چیز ہے۔ جہاں تفتان سے لے کر ڈیرہ بگٹی تک آدمی تنہا سفر کر سکتا تھا۔ اس بلوچستان کو پرویز مشرف نے نجانے کس کے ایجنڈے پر تباہی کے رستے پر ڈالا۔ مری جو افغانستان سے واپسی کے وقت افغانستان میں ہونے والے مظالم کی داستانیں سنا کر رو پڑتے تھے۔ انھوں نے بندوق اٹھا لی‘ جو امن سے رہنے کا گر سیکھ چکے تھے انھیں اس لیے آرمی ایکشن کی زد میں لے لیا گیا کہ مشرف کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی تھی۔ وہی مری سوال کرتے تھے کہ جھنڈا چچی پل پر مشرف کے قافلے پر حملہ ہوا تھا۔ کیا ویسا ہی سلوک راولپنڈی میں کیا گیا۔

نواب مری کے لیے جمہوری ہو یا فوجی تمام ادوار میں ایک جیسا سلوک کیا گیا۔ بے نظیر نواب مری سے ان کے بیٹے بالاچ مری کی موت کا افسوس کرنے گئیں تو کہنے لگیں آمریتوں میں ایسا ہوتا ہے تو اس خاموش رہنے والے سردار نے کہا تمہارے باپ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ خوش نصیب ہے نواب خیر بخش مری جسے اپنے وطن کی مٹی نصیب ہوئی ورنہ وہ باچا خان کی طرح جلال آباد میں دفن ہونے کی وصیت بھی کر سکتے تھے لیکن وہ کہاں دفن ہوتے‘ ایرانی بلوچستان میں‘ جہاں بلوچ بدترین
زندگی گزار رہے ہیں‘ نہ سرکاری ملازمت‘ نہ عزت۔

Khair Bakhsh Marri

No comments:

Powered by Blogger.