Header Ads

Breaking News
recent

مودی سے وابستہ توقعات اور خدشات!!.......



نئے بھارتی وزیر اعظم مودی سے جہاں بہت سی توقعات سے وابستہ ہیں وہیں خطے کے امن کے لئے خدشات اور تحفظات بھی ہیں۔ مودی نے امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کو اپنی تقریب میں شرکت کی دعوت دے کر بظاہر آغاز تو اچھا کیا ہے، انجام خدا جانے!! مودی کس طرح وزارتِ عظمیٰ کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے؟ یہ سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مودی جس کے حکم پر گجرات میں قتلِ عام ہوااور اسے 2 ہزار مسلمانوں کا اعلانیہ قاتل کہا جاتا ہے۔ جب اس کی پارٹی کا نام آتا ہے تو ذہن کے نہاں خانوں پر دہشت کی لکیریں اُبھرنے لگتی ہیں لیکن دوسری طرف گجرات کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد مودی نے اس صوبے کی حالت اور عوام کی قسمت بدل ڈالی جو پہلے انفرا اسٹرکچر کے اعتبار سے تباہ حال تھا اور جہاں کے عوام پسماندہ اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ مودی نے دنیا بھر کی کمپنیوں اور ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں کو دعوت دی کہ وہ آئیں صنعتیں لگائیں اور گجرات کے عوام کو ملازمتیں دیں۔ان کے صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، انہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا 
جائے گا۔

مودی نے ایک کام ایسا کیا جس کی وجہ سے دھڑا دھڑ فیکٹریاں اور کارخانے 
لگنے لگے۔ وہ یہ کہ انہوں نے صنعتیں لگانے پر ٹیکس کی چھوٹ دیدی ۔چنانچہ چند ہی سالوں میں گجرات کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ عوام خوشحال ہونے لگے۔ معاشی پہیہ چل پڑا اور پھر مودی کی انتخابی مہم میں سارا پیسہ بھی انہی مالدار کمپنیوں نے پانی کی طرح بہایا اوراسے اپنی خفیہ چالوں سے جتوایا۔ رپورٹ کے مطابق جنتا پارٹی کی جیت میں کالے دھن نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انڈر ورلڈ نے اپنے سارے ذرائع استعمال کیے۔ بڑے بزنس مینوں نے اس پارٹی کے لئے اربوں کے فنڈز دئیے کروڑوں روپے میڈیا مہم پر صرف کئے ۔ دولت کے بل بوتے پر غریب غربا سے ووٹ خریدے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جنتا پارٹی نے 15 کروڑ ووٹ آٹے کی بوریوں، گھی کے ڈبوں، دالوں کے بیگ بانٹ کر خریدے۔ 25 کروڑ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمائندہ اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب نہیں ہوا، کتنی تعجب خیز بات ہے!

دوسری بات یہ ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہے۔ بھارت کا آئین بھی سیکولر ہے۔ سیکولر ہونے کا ڈھنڈورا بھارت نے اس لئے پیٹا تھا کہ اس کثیر القومی خطے میں علیحدگی کے رجحانات کو دبایا جاسکے۔ مختلف قوموں کے لئے بھارت کو قابل قبول بنانے کا واحد راستہ یہی تھا کہ اس کی شناخت ایسی رکھی جائے جو بظاہر سب کے لئے قابل قبول ہو۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس بات کا خطرہ تھا کہ بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا۔ سیکولرازم مطلب یہ ہے تمام انفرادی واجتماعی معاملات، قومی و بین الاقوامی امور، سیاست، ریاست، تجارت، سفارت، معاشرت غرض زندگی کے ہر اہم دائرے سے مذہب کو اس طرح بے دخل کردیا جائے کہ کسی فیصلے کی بنیاد تعقل مذہبی نہ ہو، یعنی فرد اپنی ذاتی زندگی میں یا ریاست اپنی اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی فیصلہ کریں، خواہ وہ کسی معاملے سے متعلق ہو، اس فیصلے کی بنیاد کسی قسم کا تعقل مذہبی نہ ہو۔ آپ خواہ کسی دین کے ماننے والے ہوں۔ یہ دین آپ کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حکم دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے۔ آپ کی عقلیت اور خواہش نفس کی نص کا درجہ حاصل کرلے۔ دنیا کی اکثر مشہور لغات میں سیکولرازم کے معنی یہی لئے جاتے ہیں کہ مذہب سے آزاد ریاست کو سیکولراسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ سیکولرازم کی تعریف وکی پیڈیا میں یوں کی گئی ہے:
Secularism is the principle of separation of government institutions, and the persons mandated to represent the State, from religious institutions and religious dignitaries. In one sense, secularism may assert the right to be free from religious rule and teachings, and the right to freedom from governmental imposition of religion upon the people within a state that is neutral on matters of belief۔

اس کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔ بھارت میں مودی کی جیت سے سیکولرازم کی موت واقع ہوجائے گی۔ بھارت میں مودی وہ واحد سیاستدان تھا جس نے ہندوازم کا نعرہ لگایا اور بین السطور عندیہ دیا کہ وہ بھارت کا حکمران بن کر ملک کا آئین تبدیل کریں گے۔ مودی کی کامیابی میں ہندوازم کے نعرے نے بھی بہت کام کیا۔ اب مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد خطرہ ہے کہ بھارت کا آئین بھی سیکولرازم سے ہندوازم میں بتدریج تبدیل ہوجائے گا۔
تیسری بات یہ ہے کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد خطے کی صورتحال خطرناک ہونے کا قوی اندیشہ بھی ہے۔ جس طرح ہٹلر نے جرمن قوم کے دنیا کی بہترین اور اعلیٰ قوم ہے کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے ایک مایوس قوم کو متحد کیا۔ پھر 1933ء میں ہونے والی انتخابی مہم میں اس نے جرمن قوم کی بالادستی کا نعرہ لگایا اور الیکشن جیت گیا۔ اس کے بعد جو تباہی دیکھنے میں آئی سب اس سے واقف ہیں۔ مودی کو بھی شدت پسند ہزاروں مسلمانوں کا قاتل کہا جاتا ہے۔وہ ہندو دہشت گرد تنظیم RSS کا بنیادی اور مرکزی رُکن رہا ہے، اور اس پر اسے شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے۔ اس لئے یہ خدشہ بے جا نہیں کہ وزیراعظم منتخب ہوجانے کے بعد مذہبی شدت پسندی اور ہندوازم کی برتری کا زعم کہیں اسے مسلمانوں کے لئے ہٹلر نہ بنادے۔ ہٹلر کی طرح مودی بھی جمہوری طور پر ہی منتخب ہوا ہے۔ قارئین! ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجیے! دنیا میں اسلامی جماعتوں کے جمہوری و آئینی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار میں آنے کے امکانات دیکھتے ہیں مغربی طاقتیں تو انکے خلاف یہ واویلا شروع کردیتی ہیں۔

 اقلیتوں کے حقوق غصب ہونے کا خدشہ ہے۔ مذہبی منافرت پھیلنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، لیکن اگر بھارت جیسے ملک میں مودی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مہم چلاکر برسراقتدار آجاتا ہے توکسی کے ماتھے پر شکن تک نہیں پڑتی۔ اقوام متحدہ سے امریکہ تک، یورپی یونین سے برطانیہ تک… نہ صرف سب خاموش رہتے ہیں بلکہ درپردہ اس کی حمایت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.