Header Ads

Breaking News
recent

مسلمانو! تم کہاں ہو


لورین اور اسٹریس برگ فرانس کے دو صوبے ہوا کرتے تھے جن پر اٹھارویں صدی کے آخر میں جرمنی نے قبضہ کر لیا اور وہاں کے باشندوں کو گرجا گھروں میں عبادت کرنے سے روک دیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک فرانسیسی مصنف ارنسٹ لیوس وہاں گیا اور وہاں کے سب سے بڑے گرجا گھر میں حاضری دی۔ واپسی پر اس نے اپنے تجربات ،مشاہدات اور احساسات پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ’’The temps‘‘ اس کتاب میں اس نے مسیحی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے جب وہاں کے سب سے بڑے گرجا گھر میں حاضری دی تو مجھے یوں لگا جیسے اس گرجا گھر کے مینار فضا میں بلند ہوتے اور کہتے،فرانسیسیو! تم کہاں ہو ! ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ کتاب اس قدر اثر انگیز ثابت ہوئی کہ فرانس نے اپنے وہ علاقے جرمنی کے تسلط سے چھڑا لئے اور وہ گرجا گھر پھر سے آباد ہو گئے۔

فرانس کے ان صوبوں سے متصل اسپین کی ریاست ہے جسے ماضی میں ہسپانیہ بھی کہا جاتا تھا مگر ہم اسے اندلس کے نام سے جانتے ہیں۔ یورپ کے نقشے پر جنوب و مغرب کی جانب براعظم افریقہ اور یورپ کے سنگم پر ایک جزیرہ نما ہے جس کا رقبہ دو لاکھ مربع میل ہے۔ اس کے ایک طرف بحر متوسط ہے جسے بحیرہ روم بھی کہتے ہیں اور دوسری جانب بحر اوقیانوس ہے جسے ہم بحر ظلمات کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ وہ سمندر ہے جس میں ہمارے جری و بہادر سپاہیوں نے گھوڑے دوڑا دیئے۔ جب اندلس کا ذکر آتا ہے تو فوراً طارق بن زیاد کا خیال آتا ہے جس نے اندلس کے ساحل پر واپسی کی کشتیاں جلا دیں اور آج دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں ’’Burn The Boat ‘‘ جیسا کوئی محاورہ نہ ہو۔ طارق بن زیاد کی اس تاریخی فتح کے بعد مسلمانوں نے یہاں ساڑھے سات سو سال تک حکومت کی لیکن جب داخلی انتشار اور ضعف و ناتوانی کا شکار ہوئے تو منگولوں کی افواج نے انہیں اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا۔ فرڈیننڈ کی آمد پر غرناطہ کا حکمران عبداللہ محل سے کوچ کرتے وقت رونے لگا تو اس کی ماں نے ٹہوکا لگایا،ارے او بدبخت! جب تم مردوں کی طرح اپنے شہر کا دفاع نہ کر سکے تو اب عورتوں کی طرح روتے کیوں ہو؟

یوں تو اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کے بے شمار نمونے ہیں مگر سب سے بڑا عجوبہ قرطبہ کی شہرہ آفاق مسجد ہے جسے دیکھ کر ماہرین تعمیرات انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ اس مسجد کی بنیاد وادی الکبیر کے کنارے پہلے امیر عبدالرحمٰن الداخل نے رکھی اور پھر توسیع و تکمیل کا کام امیر ہشام کے دور میں مکمل ہوا۔ اس دور میں امیر عبدالرحمٰن نے 80ہزار دینار جبکہ ہشام نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار دینار مسجد قرطبہ کی تعمیر کے لئے خرچ کئے۔ یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے ان حکمرانوں نے ذاتی طور پر خرچ کی۔ یہ دونوں حکمران خود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ مسجد قرطبہ کی تعمیر کے لئے مقامی باشندوں سے باقاعدہ جگہ خریدی گئی اور مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا پھر ہر دور میں اس کی توسیع اور تزئین و آرائش کا کام ہوتا رہا۔ 1417ستونوں پر ایستادہ اس خوبصورت مسجد کے 21دروازے ہیں۔اس کی چھت 182میٹر لمبی اور 133 میٹر چوڑی ہے۔ اس کا منبر ہاتھی دانت، آبنوس، صندل اور جواہر کے 36ہزار ٹکڑوں سے متشکل ہوا اور سونے کی کیلوں سے مربوط کیا گیا۔اس کا ہفت پہلو محراب بھی اپنی صناعی کے اعتبار سے بے مثل ہے۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب بھی دودھ سے زیادہ اجلا اور برف سے زیادہ چمکدار ہے۔

ہر سال 14لاکھ مسلمان مسجد قرطبہ کی زیارت کو جاتے ہیں۔جب یہاں مسیحیت کو عروج حاصل ہوا تو سولہویں صدی میں مسجد قرطبہ کے ایک حصہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔1931ء میں علامہ اقبال یورپ کے دورے پر گئے تو مسجد قرطبہ میں حاضری دی۔انہوں نے وہاں نماز ادا کرنا چاہی تو پادری نے منع کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس پادری کو تاریخی واقعہ سنایا کہ عیسائیوں کا ایک وفد ملنے آیا تو اسے مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا، سب مہمان اس شش و پنج میں تھے کہ انہیں قیام کی اجازت تو دے دی گئی ہے کیا اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت بھی مل پائے گی؟ ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے انہیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ واقعہ سننے کے بعد پادری قائل ہو گیا اور اس نے نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں 8صدیوں بعد مسجد قرطبہ میں اللہ اکبر کی صدا گونجی اور کسی مسلمان کو سر بسجود ہونے کی اجازت ملی۔ مسجد قرطبہ کے اس دورے سے متاثر ہو کر اقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم لکھی جس کے چند اشعار کچھ یوں ہیں:

اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت بود

رنگ ہو یا خشت و سنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت

معجزئہ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

اسپین میں اب بھی 8لاکھ مسلمان آباد ہیں مگر انہیں مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ 2006ء میں اسپین کے اسلامک بورڈ نے رومن کیتھولک بشپ کو ایک عرضی پیش کی۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ ہم مسجد قرطبہ کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کرتے،نہ ہی یہاں سے گرجا گھر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔بس اتنی سی التجا ہے کہ مسجد قرطبہ کو ایک ایسی عبادت گاہ بنا دیا جائے جہاں ہر مذہب کے لوگ اپنے طریقے کے مطابق عبادت کر سکیں مگر یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد پوپ بینڈیکٹ سے اپیل کی گئی مگر وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ یہ ممکن نہیں۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسجد قرطبہ کو کیتھڈرل میں تبدیل کر کے مکمل طور پر گرجا گھر کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

مجھے تعجب ہے کہ بامیان میں بدھا کے مجسمے گرائے جانے پر اُدھم مچانے اور بریکنگ نیوز سنانے والے میڈیا کو 12صدیوں کی تاریخ منہدم کئے جانے کی خبر میں کوئی دلچسپی نہیں۔ کہیں کوئی چھوٹا سا مندر ،کوئی کلیسا ،کوئی گرجا ،کوئی گردوارہ گرا دیا جائے تو دنیا بھر میں بھونچال آجاتا ہے مگر اس تاریخی مسجد کو چرچ میں تبدیل کئے جانے پر کسی کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ مجھے اندلس جا کر مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کا شرف تو حاصل نہیں ہوا مگر میرا خیال ہے مسجد قرطبہ کے مینار فضا میں ابھرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے، مسلمانو! تم کہاں ہو؟اندلس کی مسجد قرطبہ تمہاری منتظر ہے۔آج ہم لخت لخت ہیں،کمزور و ناتواں ہیں،فرانسیسیوں کی طرح اسپین پر چڑھائی نہیں کر سکتے لیکن کیا ہماری زبانیں بھی گنگ ہو گئی ہیں؟ کیا ہمارے ہاتھ شل ہو گئے ہیں؟ کیا ہمارے دماغ بھی مائوف ہو گئے ہیں؟ کیا ہمارے اذہان و قلوب پر مہریں لگ گئی ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کرتے؟ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کراچی، اسلام آباد یا لاہور کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ آپ اور کچھ نہیں کر سکتے تو انٹرنیٹ سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ،پاپائے روم ،ہسپانوی صدر اور وزیراعظم کا ایڈریس اور ای میل آئی ڈی معلوم کریں اور خط لکھ کر یا ای میل کر کے اس فیصلے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.