Header Ads

Breaking News
recent

عربوں کی آشائیں.......خالد المعینا


پچھلے ہفتے کی بات ہےایک غیر ملکی صحافی میرے پاس آیا، وہ عرب دنیا کے حالات پر بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ عرب دنیا کا پیش منظر اس کا موضوع تھا۔ اس لیے اس نے اپنے سارے تجسس کو میرے سامنے اس ایک سوال میں سمو دیا کہ ''عرب دنیا کے لوگوں کی آشائیں کیا ہیں ؟'' آئیے گفتگو میں آپ بھی شریک ہو جائیں۔

میں نے اپنی بات عربوں کی بنیادی شناخت اور پہچان کے حوالے سے شروع کی تاکہ اسے عربوں کے بارے میں بنیادی حقائق کی جانکاری ہو جائے اور اس کے بعد عرب دنیا کے حالات سمجھنا بھی اسے مشکل نہ رہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اجمالا مگر پورا سیاق و سباق سامنے رہے۔ میں نے بات یہاں سے شروع کی ''عرب باشندے کسی ایک ہی پہچان کے حامل پتھر کی مانند نہیں ہیں کہ اس خاص پتھر کے خواص کو ہر کوئی ایک ہی طرح سے جان سکے۔

عرب دنیا کے مغربی حصوں میں آباد باشندے خلیج کے عربوں سے الگ پہچان کے حامل ہیں اور خلیج کے عرب عراق و شام کے عربی النسل افراد سے مختلف ہیں۔ تاہم اس علاقائی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ زبان، موسیقی، ادب اور ثقافت جیسی مشترکات انہیں ایک اکائی کا عنوان دیتی ہیں۔ ان سب پر حاوی عرب قوم پرستی کا جذبہ ہے۔ اس ناطے عربوں کے ہاں اتحاد کا خواب شروع سے ہی موجود رہا ہے۔ اس قوم پرستی کے انڈے بچے جمال عبدالناصر کے زمانے میں نکلے تھے۔ فلسطین کی آزادی اور مغرب کی مدد و تعاون سے اسرائیل کے زیر قبضہ گئے عرب علاقوں کی بازیابی کی خواہش کے علاوہ بعض اپنے ہی لیڈروں کی غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت سے پیدا ہونے والا احساس محرومی بھی مشترک ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عربوں نے اپنے اندرونی جمود کے خاتمے کیلیے کوئی تدبیر نہیں کی۔ اس صورت حال میں ہم نے 1950 اور 1960 کی دہائی کے دوران بار ہا عرب ملکوں میں انقلاب اور رد انقلاب کے واقعات رونما ہوتے دیکھے۔ خونی انقلاب بھی رونما ہوتے رہے۔ مقابلتا مصر میں 1953 کے بعد سے استحکام رہا۔ بعض عرب ممالک میں خود ساختہ نجات دہندوں اور فلسطین کو آزاد کرانے کے دعویداروں نے خود کو شام، عراق اور لیبیا میں نمایاں کیا۔ اگرچہ ان کے ناکام مہم جوئِیانہ انداز نے عرب دنیا کو بہت سی مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔ جب دنیا اقتصادی ترقی سے ہم آغوش ہو رہی تھی تو عرب دنیا کے بعض حکمران جبر کے ذریعے اپنی حکمرانی کو مضبوط کر رہے تھے اور اپنے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کی تدابیر کر رہے تھے۔ لیکن آج عرب دنیا میں نئی نسل اقتصادی اور سماجی تحفظ کیلیے جس طرح متحد ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔

غیر ملکی صحافی کے سوال کا جواب دیتے دیتے میری نظر عرب دنیا کے اس انتشار کی طرف چلی گئی جس کا ہمیں سامنا ہے۔ عرب بہاریہ، جس سے بعضوں کو امید تھی کہ یہ نئے دور کی نقیب بنے گی لیکن یہ بھی کچھ ڈلیور کرنے میں ناکام رہی۔ اب تو لوگ یہ بھی سوچنے لگے ہیں کہ یہ بہار کا ایک جانفزا جھونکا تھا یا شکستگی کی ہم عناں خزاں؟ آج ہم افراتفری دیکھ رہے ہیں۔ ادارے بنانے میں بھی ہم مسلسل ناکام رہے ہیں، آزاد میڈیا سے محروم رہے ہیں۔ حکمرانوں کے مسلسل خوف کی وجہ عرب دنیا ایک طرح کے خلا سے دو چار رہی ہے۔ ایک طویل عرصے پر محیط دباو کے بعد ایک مکمل طوائف الملوکی ہے۔ اسی سے انتہا پسندی اور عدم برداشت رینگ رینگ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ انتہا پسندی اور عدم برداشت نے پورے خطے کو اپنے چنگل میں لے رکھا ہے۔

ان انتہا پسندوں میں ایسے چالاک اور عیار قسم کے بھی ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر جمہوریت کی ٹرین پر سواری کر لی تا آنکہ وہ اقتدار پر قبضے میں کامیاب ہو گئے۔ اس ماحول میں ہمیں بڑی طاقتوں کی مداخلت کو بھی بھولنا نہیں چاہیے۔ نہ ہی عراق پر بلا جواز حملے کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ یہ توڑ پھوڑ ہے اور مستقل تشدد ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ شام کی خانہ جنگی جسے مدد نہیں دی جا سکی، افسوسناک بات یہ ہے کہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ دونوں ہی، اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا اپنی آنکھوں سے شام میں ہزاروں اور لاکھوں افراد کی ہلاکت اور بے گھری دیکھ رہی ہے۔ اہل شام ہمارے سامنے مر رہے ہیں لیکن انہیں بچانے کیلیے کوئی موثر کوشش موجود نہیں ہے۔

میں ملاقات کیلیے آنے والے صحافی کو بتا رہا تھا ''عربوں کی نئی نسل اپنی حکومتوں کی ماضی کی کارکردگی پر بجا طور پر یہ رائے رکھتی ہے کہ بہت ہو گئی۔ ہم اب اچھی تعلیم اور بہتری روزگار کے مواقع چاہتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ایک ایسا سماجی بندوبست چاہتے ہیں جس کے مسقبل میں ہماری آواز شامل ہو۔ آج عرب دنیا کا شباب اقتصادی اور سماجی تحفظ کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہے۔ ہماری نئی نسل اپنا راستہ اور منزل خود اور آزادانہ انداز میں خود طے کرنا چاہتی ہے۔ نئی نسل کی غالب اکثریت انتہا پسندی کے پرتشدد رجحان کو رد کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کی حامی ہے۔

صرف یہی نہیں عرب دنیا ''ٹیلنٹ '' کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لوگوں کی طرح ذہانت اور صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ عرب دنیا کے لوگ امن چاہتے ہیں، وہ غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں، وہ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں ۔ عرب چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتوں اور اداروں میں کے درمیان ایک متوازن میکانزم کی تشکیل بروئے کار آ جائے تاکہ قانون کی حکمرانی کے اندر رہتے ہوئے اظہار رائے کا ماحول فراہم ہو سکے۔ رفعت و روانی عرب دنیا کے لوگوں کا حق بھی ہے اور ان کی منزل بھی۔ یہی ان کی آشائیں اور تمنائیں ہیں۔


بشکریہ روزنامہ 'سعودی گزٹ'







Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.