Header Ads

Breaking News
recent

مرحبا سعودیہ!



ڈالر نیچے آ گیا ہے اور ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی شہرت بام عروج کو چھو رہی ہے۔ مگر اصل کمال تو ہمارے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا ہے جس نے کسی شرط کے بغیر پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کااعلان کر دیا اور اطلاعات کے مطابق آدھی رقم سٹیٹ بنک میں جمع کرائی جا چکی ہے، ابھی اور پیسے آنے ہیں اور ڈالروں کا نیا ڈھیر تین ارب کی حد کو چھونے والا ہے۔

میں رپورٹر ہوتا تو سب سے پہلے یہ خبر دینے کا اعزاز حاصل کرتا مگر ایک کالم نویس کی حیثیت سے گزشتہ بدھ کو شائع ہونے والا میرا کالم بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا۔ اصل میں گزشتہ ہفتے میری ملاقات اپنے راوین دوست اور سٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر سعید احمد کے ساتھ ایم ایم عالم روڈ کے ایک پوش ہوٹل فریڈیز میں ہوئی۔ وہاں چھ دوست اور بھی موجود تھے اور سب کے سب ایک دوسرے سے چوالیس برس بعد مل رہے تھے ، گورنمنٹ کالج سے نکلنے کے بعد کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا ،والی صورت حال تھی، اب زندگی آخری موڑ پر ہے اور ہر ایک کو پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہوش آئی ہے۔

دوستوں کی اس محفل میں کچھ کو تو چائے پیتے ہوئے پتہ چلا کہ سعید احمد کس اعلی منصب پر فائز ہیں۔ چائے پی کر باہر نکلے تو پھر یہ عقدہ کھلا کہ یہ ہوٹل بھی ہمارے ایک کلاس فیلو زاہد کبیر کی ملکیت ہے، سو اس کا شکریہ کہ اس نے دوستوں کی یہ محفل سجائی۔خواجہ عرفان انور بھی اس منڈلی میں موجود تھے، وہ خواجہ خورشید انور کے صاحبزادے ہیں، امریکہ میں رہتے ہیں،ان سے تفصیلی ملاقات کا احوال پھر سہی! چار عشروں کی باتیں پھیلتی چل گئیں، پتہ ہی نہ چل سکا کہ کس وقت سہہ پہر ،شام میں ڈھل گئی اور باہر نکلے تو گھنے بادل شہر پر برس چکے تھے اور رات نکھری ہوئی تھی۔ سونے کی تیاری کرنے لگا تو سعید صاحب کا فون آ گیا کہ ڈالر نیچے آ گیا ہے، ان سے کافی معلومات ملیں اور انہی کی بنیاد پر اگلے روز میں نے ڈالر کا بھونچال کے عنوان سے کالم لکھا۔ ڈالر بعد میں مزید گرا اور گرتا چلا گیا۔ تو یار لوگوں نے اس کی وجوہات کی ٹوہ میں جانے کی کوشش کی۔ یہ راز جلد کھل گیا کہ امریکی ڈالر کی صحت کی خرابی کی وجہ سعودی ڈالر ہیں۔ میرے کالم میں ڈیڑھ ارب سعودی گرانٹ کی خبر موجود تھی مگر میں نے اسے جان بوجھ کر نہیں اچھالا کہ نیکی کرنے والا خود ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہتا تھا۔

اب ہر طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہے، سوال وہی ہیں جو پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے سعودی دورے کے پس منظر میں پوچھے گئے، پھر سعودی مہمانوں کی لگاتار آمد کی وجہ سے ان سوالوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ درمیان میں منور حسن اور مولانا سمیع الحق اچانک عمرے پر گئے تو عمر عیار کی زنبیل کی طرح مباحث نے تیزی پکڑ لی۔

بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے سعودی عرب کے ڈالروں کی وجہ سے اپنی شام پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ایک اور سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے دورے، ترکی کے زیادہ ہیں یا سعودی عرب کے، کبھی وزیر اعظم نوازشریف، کبھی خادم اعلی شہباز شریف اور کبھی ہمارے دوست کالم نگار اجمل نیازی استنبول میں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ شام کے مسئلے پر ترکی کا رویہ کیا ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس کے جیٹ طیارے، ٹینک اور توپیں جب چاہے ، شام کی سرکاری فوجوں کو نشانے پر رکھتی ہیں۔اسی ترکی کی میٹرو بس اور نجانے کتنے منصوبوں کا پھل ہم لاہور میں بیٹھے کھا رہے ہیں مگر ہم میں سے کسی نے ترکی پر اعتراض نہیں کیا کہ وہ شام کے حکمران بشارالاسد کا مخالف کیوں ہے۔ مگر اب سعودی عرب نے ہمیں یکا یک ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کر دی ہے تو ہمیں ایک دم بشارالاسد کی ہمدردی کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے اور ہر کوئی شام کی خود مختاری کا فلسفہ بھگار رہا ہے۔ ہماری حکومت کو بھی نجانے کیوں احساس گناہ لاحق ہے اور اس کے ذرائع وضاحتیں کر تے پھر رہے ہیں کہ پاکستان نے سعودی امداد کے بدلے اپنی شام پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ترکی صدیوں میں اتنی بڑی مدد نہیں کر سکتا جو سعودی عرب نے آن واحد میں پاکستانیوں کی ہتھیلی پر رکھ دی ہے۔

سعودی عرب ہماری امداد نہ بھی کرتا تو ہمیں اس کے اشارہ ابرو پر اپنی ہر پالیسی تبدیل کر لینی چاہئے، سعودی عرب سے دوستی اور محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم چوںچراں نہ کریں۔ کیا کبھی سعودی عرب نے ماضی میں ہماری پالیسیوں کو دیکھ کر ہماری مدد کا فیصلہ کیا تھا، کیا سوشلزم کا علم بردار بھٹو، شاہ فیصل کے لئے اس قدر عزیز نہ تھا کہ اس کی دعوت پر لاہور میں اسلامی کانفرنس کا اجلاس طلب کیا گیا ا ور شاہ فیصل نے بنفس نفیس ا س میں شرکت کی۔ کیا بھٹو کی مائو کیپ سے بدک کر سعودی عرب نے ہمارے ایٹمی پروگرام میں دامے درمے سخنے مدد دینے سے کبھی گریز کیا۔ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے عوام کا دوست رہا، اس نے حکمرانوں کی شکلیں دیکھ کر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی، زرداری صاحب کا معاملہ الگ ہے کہ وہ خود سعودی عرب کو دور بھگانے کے چکر میں پڑے رہے۔ اب شریف برادران کی حکومت میں تو پاکستان کو سعودیہ کے تمام نخرے اٹھانے چاہئیں، مگر ہم نے الٹا سرد مہری دکھائی اور سعودی ولی عہد کو دفاعی ضروریات کے لئے نئی دہلی جانا پڑا۔اس سعودی عرب نے صرف شریف بردران کی ہی میزبانی نہیں کی، ذرا حساب لگا لیجئے کہ کتنے لاکھ پاکستانی خاندان سعودی عرب میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانیوں کی وجہ سے پل رہے ہیں، پل کیا رہے ہیں ، خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور پھر حرمین شریفین کو ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں، سعودی عرب پر آج اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ کرم ہے مگر یہ سرزمین چودہ سو برسوں سے ہمیں ڈالروں کے لئے تو عزیز نہیں تھی۔ ہم تو خدا کے گھر اور پیارے نبی ﷺ کے عشق سے سرشار قوم ہیں۔ ہماری مسجدوں میں دردو سلام کی محفلیں سجتی ہیں اور ہم ہر لمحہ حرمین کی زیارت کے لئے تڑپتے ہیں۔ تو حرمین شریفین کے خادمین بھی اسی طرح ہمارے لئے محترم اور لائق عزت ہیں۔ وہ ہمارے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے ہیں، پہلی افغان جنگ کا بڑا خرچہ سعودیہ نے اٹھایا اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے اخراجات کا بڑا حصہ سعودیہ نے برداشت کیا۔اب ہماری معیشت کو سدھارنے کا چیلنج درپیش ہے تو سعودیہ ایک بار پھر ہمارا ہاتھ تھامنے کے لئے پیش پیش ہے۔

میرا خیال ہے کہ ابھی تو شروعات ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، سعودی عرب کا ادھار تیل آنے لگا تو ہمارے سب دلدر دور ہو جائیں گے۔ انشا اللہ! فی الحال وزیرخزانہ اسحا ق ڈار اور معزز سعودی سفیرڈاکٹرعبدا لعزیز ابراہیم صالح الغدیر کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو تو ان کے کالج نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے کر نواز دیا اور حمزہ میاں کو جلسے جلوسوں کا فن آتا ہے ، وہ ریس کورس میں ایک میلہ اور سجائیں اور پاک سعودی تعاون پر مرحبا سعودیہ! مرحبا سعودیہ! کے نعرے بلند کرنے کا ایک ریکارڈ بنائیں۔


بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.