Header Ads

Breaking News
recent

صنفی آزادی کس قیمت پر؟


گزشتہ ہفتے خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا، جگہ جگہ تقریبات ہوئیں، اخبارات خبروں سے بھر گئے۔ ایسا محسوس ہوا کہ ہر طرف خواتین کے ہی نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک خبر پڑھی، سرخی دیکھ کر ایسا لگا کہ یہ بھی خواتین کے حقوق کے ضمن میں ہے لیکن جب تفصیلات پڑھیں تو معلوم ہوا کہ یہ کسی جواں مرد پروفیسر نے مردوں کے حقوق کے حوالے سے بات کر دی ہے۔

خبر کی سرخی کچھ اس طرح تھی ’’میڈیکل کالجوں میں مردوں کو 49 اور خواتین کے لیے 51 فیصد نشستیں مختص کی جائیں، پی ایم ڈی سی کی تجویز‘‘۔ اس خبر کی تفصیل پڑھی جو کچھ یوں تھی ’’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر پروفیسر مسعود حمید خان نے حکومت پاکستان کو تجویز دی ہے کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں خواتین کے لیے 51 فیصد اور مردوں کے لیے 49 فیصد نشستیں اوپن میرٹ کی بنیاد پر مختص کی جائیں تا کہ صحت جیسے لازمی سروسز کے شعبے میں مرد ڈاکٹروں کی زیادہ کمی نہ ہو۔ اوپن میرٹ اچھی چیز ہے لیکن اب اس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں مرد ڈاکٹروں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں 65 سے 70 فیصد خواتین داخلے لے لیتی ہیں اور باقی نشستوں پر مردوں کو داخلے ملتے ہیں۔ لڑکیاں ڈاکٹر بننے کے بعد سسرال، گھر کے کام اور بچوں کی دیکھ بھال کے باعث خدمات انجام دینے سے قاصر رہتی ہیں جس کی وجہ سے اسپتالوں میں خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں اور خصوصاً دور دراز علاقوں اور دیہات میں زیادہ تر خواتین دستیاب نہیں ہو پاتیں۔ اس صورتحال کے باعث صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں کی افرادی قوت دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے‘‘۔

میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر کی مذکورہ بالا تجویز بلکہ کاوش قابل جرأت اور قابل داد ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب ایک عام مقرر سے لے کر وزیر اعظم تک خواتین کے مساوی حقوق کے لیے دھواں دھار تقریریں کر رہے ہوں، اپنے ملک کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے مردوں کا کوٹہ بڑھانے کی بات کی۔بات یہ ہے کہ ہر بات میں مغرب کی تقلید کرنا یا ان کے نظریات کو بلا چوں و چرا قبول کر لینا شاید ایک بڑی تعداد کی عادت بنتی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ہر دوسرا، تیسرا فرد کنفرمسٹ بنا پھرتا نظر آتا ہے۔ شاید اسی لیے صنفی برابری کی بات کی جاتی ہے، لیکن یہ غور نہیں کیا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمارے معاشرے کا کلچر کیا ہے؟ ابھی پچھلے ہفتے امریکی شہرت رکھنے والے ایک پاکستانی پروفیسر وطن واپس آ کر اپنے لیکچر میں فرما رہے تھے کہ انھوں نے امریکا میں کئی اداروں میں بہت سی خواتین کو ملازمت کرتے ہوئے دیکھا مگر ہر جگہ دیکھا کہ ان کو ایک مرد سپروائز کر رہا ہے۔راقم نے اپنے ایک کالم میں پہلے بھی وزیر اعظم کی قرضہ اسکیم کے حوالے سے اس بات کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی کہ منصوبہ بندی خواہ مردوں کی ہو یا خواتین کے روزگار اور دیگر مسائل کے حوالے سے ہو اس کو اپنے مخصوص ماحول اور معاشرے کے تناظر میں دیکھ کر بنایا جائے، محض مغرب کی اندھی تقلید میں منصوبہ بندی نہ کی جائے۔ یہاں بھی پروفیسر صاحب نے میڈیکل میں مردوں کے داخلے کی جو وکالت کی ہے اس کو محض خواتین کے حقوق کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ معاشرتی تناظر میں ملکی ضرورت کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ آخر یہ کون سی دانشمندی ہے کہ ایک ایسی تعداد کو جو ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عمر بھر لوگوں کے علاج کرنے کے قابل ہوں محض اس بنیاد پر پیچھے دھکیل دیا جائے کہ اس سے خواتین کو طب کے شعبے میں آگے آنے کے مواقع کم ہو جائیں گے جب کہ خواتین کی اس تعداد کو ڈاکٹر بننے کے مواقع فراہم کر دیے جائیں جو چند سال بعد ہی کسی نہ کسی سبب گھر بیٹھ جائیں۔

ہمارے ہاں خواتین کی آزادی کی بات کی جاتی ہے مگر یہ نہیں سوچا جاتا کہ آزادی کس سے اور کس قیمت پر؟ مثلاً ایک ایسی خاتون کو جو خاندان بھر کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہے اور اس کا شوہر بھی ہے، مردوں کی برابری یعنی گھر سے باہر کام کرنے کی آزادی کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ یہی کہ وہ صبح سویرے گھر سے باہر کام کاج کے لیے نکلے، گھر سے دفتر اور واپسی گھر کے لیے سفر میں دشواری، 8 گھنٹے کی محنت مشقت اور پھر واپس گھر پہنچ کر شوہر سمیت تمام گھر والوں کی خدمت؟ گویا یہ نام نہاد آزادی مزید 8 گھنٹے کام کرنے کے لیے؟ ہمارے معاشرے میں ایسا تو ممکن نہیں کہ عورت 8 گھنٹے ملازمت کر کے آئے اور شوہر اسے چائے بنا کر پلائے، ایسا تو مغربی معاشرے میں بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے ایک دوست خواتین کے کام کرنے کو بہت اچھا سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بظاہر بات تو بہت اچھی ہے کہ اس سے ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر بحیثیت مجموعی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑتا ہے؟ مثلاً کسی شہر میں 30 فیصد ملازمتیں اگر خواتین کر رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس 30 فیصد ملازمتوں سے مرد کے مواقع محدود ہو گئے۔

اگر یہ 30 فیصد مواقع بھی مردوں کو ملتے تو یہ 30 فیصد بیروزگار مرد یقیناً اپنی خواتین یعنی ماں، بہن اور بیوی پر ہی آمدنی خرچ کرتے۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ خواتین ورکرز کو مرد کے مقابلے میں کس قدر مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ دوران سفر ہراسمنٹ، کام کے دوران ہراسمنٹ، پبلک ٹرانسپورٹر انھیں سوار کرنے کو تیار نہیں حالانکہ ان کے لیے بسوں میں مخصوص جگہ ہے، اسی طرح ڈیلیوری کے موقع پر بھی چھٹیوں کے پیسے منہا کر لیے جانا۔ ہمارے ہاں خواتین کو گھر سے باہر نکالنے کی تو بات کی جاتی ہے لیکن گھر سے باہر نکلنے پر جو مسائل و مصائب ان کو جھیلنا پڑتے ہیں ان پر آواز بلند نہیں کی جاتی۔ ہم یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں گھر بیٹھی خواتین کو بے شمار مسائل کے باوجود قدرے سکون اور تحفظ تو حاصل ہوتا ہے لیکن گھر سے باہر قدم نکالنے پر معاشرہ بھی اس پر حیات تنگ کر دیتا ہے اور ریاست جو کسی مظلوم مرد کو سہارا نہیں دے سکتی وہ بھلا کسی عورت کو کیسے تحفظ فراہم کر سکتی ہے؟ہمارے ایک جاننے والے کی صاحبزادی پڑھنے میں بہت تیز تھیں ان کی والدہ بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں مگر والد صاحب نے بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے بجائے حساب، کیمسٹری، انگریزی اور فزکس کا ٹیوٹر لگا کر بیٹی کو سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنا دیا مگر ڈاکٹر نہ بننے دیا۔ ان کا موقف تھا کہ لاکھوں روپے لگا کر اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بناتا اور شادی کے بعد سسرال والے ملازمت نہ کرنے دیتے تو ساری سرمایہ کاری ڈوب جاتی، لہٰذا میں نے بیٹی کو ان مضامین پر خاصا عبور حاصل کرا دیا جن کی ٹیوشن اور کوچنگ سینٹر میں ڈیمانڈ ہے لہٰذا اب میری بیٹی چاہے اپنے گھر میں رہے یا سسرال میں چلی جائے، ہر جگہ گھر بیٹھے میٹرک اور انٹر کے طلبا کو ٹیوشن پڑھا کر گھر کے خرچے میں ہاتھ بھی بٹا سکتی ہے۔ اسے گھر سے باہر جا کر نوکری کرنے کے لیے پاپڑ بیلنے کی ضرورت بھی نہیں۔روشن خیال افراد کے نزدیک مذکورہ صاحب کا فیصلہ شاید درست نہ ہو لیکن جس معاشرے میں وہ رہ رہے ہیں اس میں فٹ ہونے کے لیے غلط نہیں۔

 ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

 

No comments:

Powered by Blogger.