Header Ads

Breaking News
recent

اساتذہ پر تشدد


سندھ بھر کے کالجوں کے اساتذہ محکمہ تعلیم میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور ترقیوں کے مطالبات کو منوانے کے لیے 25فروری کو کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے جمع ہوئے ۔ یہ اساتذہ اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا چاہتے تھے۔ پولیس حکام نے اساتذہ کو سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے منتشر کرنے کے لیے تیسرے درجے کے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کو استعمال کیا ،یوں بہت سے اساتذہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں زخمی ہوگئے ۔ تیز رفتاری سے پھینکے گئے پانی کی بناء پر خواتین اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے اساتذہ پر لاٹھیاں برسانے کے علاوہ 19 کو گرفتارکیا ۔رات گئے گورنر سندھ کی مداخلت پر اساتذہ تھانوں سے رہا ہوئے ۔

زخمی ہونے والے اساتذہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں داخل کیے گئے ۔اساتذہ کی تنظیم سندھ پروفیسرز لیکچرر ایسوسی ایشن SPLAکی اپیل پر پورے سندھ میں اساتذہ نے سرکاری کالجوں میں تدریس کا بائیکاٹ کیا، اب تک علامتی بھوک ہڑتال جاری ہے ۔اساتذہ معاشرے کا امتیاز ہوتے ہیں یوں پولیس کے تشدد کا شکار ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔سندھ کے وزیر تعلیم نثارکھوڑو نے اس بات کا اقرار کیا کہ سندھ میں 4 ہزار سرکاری اسکول بند پڑے ہیں ۔ سندھ میں سرکاری شعبہ تعلیم کا بنیادی فریضہ ادا کرتا ہے ، سندھ حکومت کے بجٹ کی خطیر رقم تعلیم کے شعبے پر خرچ ہوتی ہے مگر سندھ میں سرکاری شعبے کی کارکردگی مایوس کن ہے ، اگر گزشتہ 30برسوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے تعلیم کے شعبے کو اہمیت نہیں دی ۔ سندھ کے تعلیمی شعبے کی تباہی میں سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور اساتذہ بھی برابر کے شریک ہیں ۔ اس صدی کے آغاز پر جب 2002 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت بنی اور علی محمد مہر اور اس کے بعد اربا ب رحیم وزیر اعلیٰ بنے تو محکمہ تعلیم کو سیاسی مقاصد کے لیے ایم کیو ایم کے حوالے کیا گیا مگر ایم کیو ایم کے وزراء تعلیم تعلیمی شعبے میں خاطر خواہ تبدیلیاں نہیں کرسکے ۔ ان کے دور میں سیاسی بھرتیوں اور دیہی علاقوں کو نظر اندا ز کرنے کے الزامات لگے۔ سندھ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی بورڈ کے امتحانات کے شعبوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی کارکنوں نے قبضہ کیا جس کے نتیجے میں ہر سطح پر نقل کا کاروبار گرم ہوا۔

کراچی سمیت اندرون سندھ کے شہروں اور دیہاتوں میں غیر حاضر اساتذہ کا ادارہ مستحکم ہوا اور سیاسی جماعتوں نے اس ادارہ کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ سندھ میں 4 ہزار سے زیادہ گھوسٹ (GHOST) اسکولوں کا بار بار ذکر ہونے لگا ۔ تعلیم کے شعبے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو واحد وزیر تعلیم تھیں جنہوں نے محکمہ تعلیم کو میرٹ کے مطابق چلانے کی کوشش کی ۔ پیر مظہر الحق وزیر تعلیم بنے تو انھوں نے گھوسٹ اسکولوں کے خاتمے ، میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کرنے اور اساتذہ کے حالات کار کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کرنے کا اعلان کیا ۔ پیر مظہر الحق کے ان عزائم کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا گیا مگر ان کا دور سندھ کے تعلیم کے محکمے کے لیے بدترین دور ثابت ہوا۔ اس دور میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی اسامیاں نیلام ہوئیں ۔ پورے صوبے میں اساتذہ کے تقرر کے لیے لاکھوں روپے کی ادائیگی لازمی ہوگئی ۔ عالمی بینک نے اساتذہ کے تقرر کے لیے ایک جامع ٹیسٹ کا طریقہ کار طے کیا تھا ۔ عالمی بینک کے دباؤ پر پہلے ای بی اے اور پھر سندھ یونیورسٹی نے اساتذہ کے ٹیسٹ لیے مگر ٹیسٹ پاس کرنے والے بیشتر اساتذہ ملازمتوں سے محروم رہے ۔ دوسری طرف لاکھوں روپے ادا کرنے والے افراد اساتذہ بن گئے ۔ ان میں بیشتر وہ لوگ تھے جن کے پاس ڈگریاںتھیں مگراہلیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ صدر زرداری نے اپنے بہنوئی ڈاکٹر فضل پیچوہو کو سیکریٹری تعلیم مقرر کرایا جنہوں نے ٹیسٹ پاس کرنے والے اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں ۔

یوں گزشتہ ایک سال سے تقرر نامے حاصل کرنے والے اساتذہ نے عدالتوں سے رجوع کیا یا احتجاج کے ذریعے تنخواہیں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی کمائی یہ ملازمتیں حاصل کرنے میں صرف کردی تھی مگر مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔امید ہے کہ حکومت جلد انھیں تنخواہیں ادا کرے گی ۔پھر اس دوران شہر ی اور دیہی کوٹہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ،یوں کراچی اور حیدرآباد میں یہ بات عام ہوگئی کہ شہر ی علاقوں کے افسران کو محکمہ تعلیم میں تلاش کرناجوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ 2013 کے انتخابات کے بعد جب نثار کھوڑو وزیر تعلیم بنے تو صورتحال بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ۔ گزشتہ ماہ کالجوں کے پرنسپلوں اور اساتذہ کے آڈٹ کے نام پر رشوت لینے کی شکایتیں اخبارات کی زینت بنیں کہ اب محکمہ تعلیم میں کرپشن کے نت نئے طریقہ واضح کیے گئے ہیں۔ اسکولوں اورکالجوں کے پرنسپل کے تقرر میں سینیارٹی کامعاملہ نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ہائر سیکنڈری اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے DDOکے اختیارات واپس لیے گئے۔ 10اسکولوں پر ایک ہیڈ ماسٹر کو DDOکے اختیارات دیے گئے ااور تمام فنڈ اس ہیڈ ماسٹر کی تحویل میں دے دیے گئے اور دیگر ہیڈ ماسٹرز کے فنڈز استعمال کرنے کے اختیارات ختم کردیے گئے ۔یوں ایک بااختیار ہیڈ ماسٹر اعلیٰ افسروں کی ہدایت پر فنڈز استعمال کرتاہے اور اساتذہ کی تنخواہوں کے بلوں پر دستخط کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ خاص طور پر خواتین اساتذہ کو ہر سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

بعض ماہرین کاکہنا ہے کہ ایک فرد واحد کو اختیار دینے کا مطلب کرپشن کو تقویت دینا ہے۔ کالجوں کے اساتذہ کی ترقیوں کے معاملات برسوں سے التواء کا شکار ہیں۔ اساتذہ کو معمولی کاموں کے لیے رشوت یا سفارش تلاش کرنا پڑتی ہے ۔ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادہیں جب انھوں نے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو سندھ میں برسر اقتدار جماعتوں سے یہ اتفاق رائے ہوا کہ گورنر سندھ براہ راست شہری علاقوں میں قائم یونیورسٹیوں کی نگرانی کریں گے۔ دوسرے شہروں میں قائم ہونے والی یونیورسٹیوں کے معاملات وہ وزیر اعلیٰ کے مشورے سے چلائیں گے ۔ 2008 میں پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نظام پر عمل جاری رہا ۔ انھوں نے بیوروکریسی کے ذریعے معاملات چلائے، یونیورسٹیوں کا اہم ترین ادارہ سینیٹ ہوتا ہے جس کا ہرسال اجلاس ہونا ضروری ہے۔ سینیٹ میں یونیورسٹی کا بجٹ اور دوسری انتظامی اور تعلیمی معاملات پر حتمی فیصلے ہوتے ہیں مگر گورنر سندھ یونیورسٹیوں کی سینیٹ کے اجلاسوں کی صدارت کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔ البتہ انھوں نے امراء کے ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی کے ہونے والے کانووکیشن میں ضرور شرکت کی۔اس معاملے میں اگر پنجاب کی مثال لی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فوجی گورنر جنرل خالد مقبول اور پھر سلمان تاثیر،لطیف کھوسہ اور اب چوہدری سرور باقاعدگی سے یونیورسٹیوں کے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ کے سابق گورنر فخر الدین جی ابراہیم کا کردار اہم رہا جب وہ گورنر سندھ بنے تو انھوں نے ہر یونیورسٹی کے سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کی اور موقع پر ہی فیصلے بھی کیے۔ بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نواب شاہ کا وائس چانسلر ایم اے پاس ایک فرد کو سرچ کمیٹی بنائے بغیر وائس چانسلر مقررکردیا گیا ۔

موصوف نے تمام پی ایچ ڈی اساتذہ کو معطل کردیا تھا،اسی طرح سندھ یونیورسٹی کے اہل وائس چانسلر پیر مظہر الحق کو وجہ بتائے بغیر رخصت کیا گیا اور ڈاکٹر نذیر مغل کو وائس چانسلر بنادیا گیا جن کے دور میں ایک پروفیسر کو یونیورسٹی میں قتل کیا گیا جن کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوئے اور احتجاجاََ اساتذہ نے 110دن تک ہڑتال کی ۔ اساتذہ کے احتجاج پر ڈاکٹر نذیر مغل کو رخصت پر بھیج دیا گیا، مگر بعد ازاں انھیں پھر سے وائس چانسلر بنادیا گیا ۔ گزشتہ سندھ اسمبلی نے چند منٹ میں یونیورسٹیوں کی خود مختاری کے لیے خاتمے کا قانون منظور کیا اس قانون کے تحت ایک صدی سے زائد عرصے سے قائم یونیورسٹی کے بنیادی ادارے سینیٹ،سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور سلیکشن بورڈ کے اختیارات سلب ہوئے اور یہ اختیارات سندھ کے ایک سیکشن افسرکو منتقل ہوگئے۔ یوں اب وائس چانسلر کے اختیارات اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے برابر ہوگئے۔ حکومت نے کراچی یونیورسٹی سے داخلہ پالیسی کا اختیار چھین لیا ۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ سندھ کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ اس قانون کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔اساتذہ کو یونیورسٹی کے معاملات میں شفافیت کا بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں معیار تعلیم گررہا ہے اور معیار تعلیم گرنے کے اسباب پر کوئی بحث نہیں ہورہی ۔اساتذہ کی سر عام تذلیل اور ان پر تیسرے درجے کے تشدد پرحکومت خاموش ہے۔ عجیب المیہ یہ ہے کہ سندھ حکومت اساتذہ کی جدوجہد کو طاقت سے کچل کر معیار تعلیم کو بلند کرنے اور محکمہ میں شفافیت کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

No comments:

Powered by Blogger.